جولین اسانج؛ امریکہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب/اسامہ طیب

جولین اسانج وہ واحد صحافی ہے جس نے امریکہ جیسی سپر پاور کو ذلیل کرکے رکھ دیا، اس کے علاوہ تمام مغربی ممالک کے مکروہ چہرہ کو اس شخص نے دنیا کے سامنے پیش کردیا ۔
یہ ایک ماہر ترین ہیکر ہے، اس نے امریکہ سمیت مغربی ممالک کے وہ ڈاکیومنٹس ہیک کرلیے جن کا علم حکومت کے تمام لوگوں کو بھی نہیں تھا، انتہائی خفیہ رازوں کو اس نے دنیا کے سامنے آشکارا کردیا۔ اس نے ایک ویب سائٹ وکی لیکس کے نام سے بنائی تھی جہاں یہ دنیا بھر کے خفیہ ڈاکیومنٹس کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہا تھا۔
اس نے زیادہ تر امریکی جنگی جرائم سے متعلق ڈاکیومنٹس عوام کے سامنے لاکر امریکہ کی درندگی دنیا کو دکھائی۔
اس نے 2010 میں عراق جنگ سے متعلق تقریباً چار لاکھ خفیہ امریکی فائلز افشا کردی، اس میں اس نے دنیا کے سامنے یہ سچ پیش کیا کہ عام بے گناہ شہریوں کی موت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا امریکہ دنیا کو بتاتا ہے۔
پھر جولین آسانج نے وکی لیکس پر امریکی ہیلی کاپٹر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں صاف نظر آرہا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر پر بیٹھے امریکی فوجیوں نے عام عراقی شہریوں اور صحافیوں کو گولیوں سے بھون کر قتل کر دیا ہے۔
جولین آسانج نے ہزاروں صفحات کا ایک اور ڈاکیومنٹ لیک کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح امریکہ نے کیوبا میں گوانتا نامو بے جیل قائم کی اور کس طرح ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو جن میں چودہ سال کے مسلمان بچے مستقل ٹارچر کیا گیا ہے۔
اسی طرح 2012 میں جولین آسانج نے سیریا سے متعلق خفیہ دستاویزات ریلیز کیے جن میں اس راز سے پردہ اٹھایا گیا کہ عام شامی شہریوں کے قتل عام میں کس طرح یورپی کمپنیاں بشار کے ساتھ تھیں۔

اسی طرح اس نے امریکی ایجینسی این ایس اے کے بارے میں دنیا کو بتایا کہ اس ایجنسی کے ذریعہ امریکہ اپنے دوست ملکوں اور عام شہریوں کی جاسوسی کرتا ہے۔
2016 میں امریکی الیکشن سے پہلے جولین آسانج نے ہلیری کلنٹن کے ذاتی اور خفیہ ای میل کو دنیا کے سامنے پیش کردیا جس سے کئی راز دنیا کے سامنے آگئے اور ہلیری کلنٹن نے اسے روس کی سازش کہہ کر اپنی ذلت چھپانے کی کوشش کی۔

ایک واحد شخص اپنی تنظیم کے ذریعہ امریکہ کو پوری دنیا کے سامنے ننگا کیے جا رہا تھا اور امریکہ کا اصلی مکروہ چہرہ دنیا کو دکھا رہا تو ظاہر ہے کہ امریکہ کے اندر کا درندہ خاموش تو نہیں بیٹھ سکتا تھا لہذا امریکہ نے اس پر سویڈن کے ذریعہ ریپ کا کیس کروایا، لیکن جولین نے انگلینڈ میں موجود ایکواڈور کے سفارت خانہ میں پناہ لے لی، جس کے بعد چند سالوں تک جولین گرفتاری سے بچے رہے، ایکواڈور حکومت جولین کی حامی تھی، اس پر امریکہ ایسا تلملایا کہ اس نے اس ایک شخص کے لیے ایکواڈور کی حکومت ہی بدلوا دی۔ دوسری طرف سویڈن کی بدنامی شروع ہوگئی جس کی وجہ سے اس نے جولین پر سے کیس واپس لے لیا۔ اب امریکہ نے خود ایک شخص کے ذریعہ امریکہ ہی میں جولین اسانج پر اٹھارہ مقدمات درج کروائے اور اس طرح جولین امریکہ کا موسٹ وانٹد شخص بن گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ایکواڈور کی حکومت بدل چکی تھی نئی حکومت نے اب جولین اسانج کو مزید پناہ دینے سے انکار کردیا جس کےُنتیجہ میں انگلینڈ کی پولیس نے جولین کو گرفتار کرلیا۔ امریکہ نے انگلینڈ سے کہا کہ اسے اب ہمارے حوالہ کرو لیکن انگلینڈ میں جولین عوامی ہیرو بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے پروٹیسٹ ہوئے اور انگلینڈ پر دباؤ بنا رہا کہ وہ جولین کو امریکہ کے حوالہ نہ کرے۔ اور اب پانچ سال انگلینڈ کے جیل میں رہنے کے بعد اب آج جولین اسانج رہا ہوچکے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply