اسلام کو بلوائیوں سے بچاؤ / حمزہ ابراہیم

آئے روز یہ خبر آتی ہے کہ ہجوم نے کسی شخص کو مار مار کر قتل کر دیا۔ یہ کام اسلام کی توہین کے نام سے بھی کیا جا رہا ہے جس سے اسلام کی بدنامی ہو رہی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر سب سے پہلے بلوائیوں کے تشدد کا جو واقعہ مشہور ہوا وہ اگست2010 میں سیالکوٹ کے بٹر گاؤں میں دو سگے بھائیوں 18 سالہ حافظ مغیث اور 15 سالہ مینب کا قتل تھا, جن کو ڈاکو قرار دے کر ایک مشتعل ہجوم نے ڈنڈے مار کر ہلاک کر دیا تھا اور ان کی لاشیں چوک میں لٹکا دی تھیں۔ آئے دن ڈاکوؤں یا گستاخوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر قتل کر دینے یا جلا دینے کی خبریں آتی ہیں۔

ایسے میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے آپ کو بھول کر جنگلی کتوں کی طرح کسی انسان پر پل پڑتے ہیں؟ یہ کام نفسیاتی مریض نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کام بالکل نارمل اور عام لوگ کرتے ہیں۔ یک دم ایسا کیا ہوتا ہے کہ کچھ وقت کیلئے عام انسانوں کا ایک گروہ جنگلی کتوں کے جتھے میں بدل جاتا ہے جو  کسی کو زندہ نوچ کر جشن مناتے ہیں؟

موجودہ دور کا ایک اہم ترین خطرہ بلوے یا جتھے کی سیاست ہے۔ جدید دور میں جہاں جدید علوم اور ایجادات جیسی نعمت میسر آئی ہے وہیں جدید معاشرت نے ایک نہایت خطرناک حیوان کو جنم دیا ہے جسے ہجوم (mob) کہتے ہیں۔ اس کو سمجھنے اور اس کا سدّ باب کرنے پر دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں تحقیق ہو رہی ہے۔ ہمیں بھی اپنے تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر مباحثے کرنے اور سکول سے ہی ہر سطح کے نصاب میں اس سماجی مظہر کے بارے میں مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات، ہر ایک مضمون کی کتابوں میں بلوائیوں اور ہجومی سوچ کے خلاف اسباق شامل کرنے ہوں گے۔

ہجومی تشدد کا مسئلہ جدید دور میں ذرائع ابلاغ کے عام ہونے اور حماقت کے پھیل جانے سے پیدا ہوا ہے۔ حماقت کا الٹ عقلمندی ہے۔ عقل سے مراد دماغ کا صحیح کام کرنا ہے۔ دماغ کا کام سوچنا اور فیصلے کرنا ہے، لیکن صحیح سوچنا اور صحیح فیصلے کرنا بہت کٹھن عمل ہے۔ اس کے برعکس سنی سنائی پر چلنا اور رو میں بہہ جانا آسان ہے۔ سنی سنائی کو جدید ذرائع ابلاغ نے عام کر دیا ہے۔

تعلیم کا مقصد دماغ کی تربیت کرنا ہوتا ہے تاکہ انسان علم اور جہلِ مرکب میں فرق کر سکے۔ ہر ترقی یافتہ یا ترقی پسند ملک تعلیم کے معاملے میں حساس ہے۔ اچھی تعلیم دماغ کو درست انداز میں سوچنے اور اخلاقی طور پر ٹھیک فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ صلاحیت تب پیدا ہوتی ہے جب انسان دوسرے انسانوں کے دماغوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اگر کوئی بات آپ کو سمجھ آئے مگر آپ دوسروں کو نہ سمجھا سکیں اور وہ بھی آپ کی بات کو پرکھ کر وہی نتیجہ حاصل نہ کریں جو آپ نے کیا ہے، یا آپ دوسروں کی بات کو سمجھ کر اسے پرکھ نہ سکیں، تو اسکا مطلب ہے کہ آپ غلطی پر ہیں۔ یہی سائنسی انداز فکر کہلاتا ہے۔ اسی طرح عمل میں جو چیز آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کیلئے بھی پسند کریں اور خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر دوسروں کو سمجھ سکیں تو تبھی آپ کا عمل اخلاقی طور پر درست ہے۔ پہلی صلاحیت عقلِ نظری اور دوسری عقلِ عملی کہلاتی ہے۔

ہجوم میں احمق لوگ شریک ہوتے ہیں۔ ہجومی تشدد کرنے والوں کو قتل کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس کا حل حماقت کو ختم کرنا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا نصابِ تعلیم حماقت کو ختم کرنے کے بجائے الٹا نظریۂ پاکستان اور مکمل ضابطۂ حیات کے نام پر حماقت کو عام کرتا ہے۔ جدید دور میں سب سے بڑی برائی حماقت ہے، یہ سب غلطیوں کی ماں ہے۔ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو عقلمند بنائے۔ دہشتگرد تنظیمیں بھی احمقوں کے منظم ہونے سے بنتی ہیں۔

کچھ لوگ اس ہجومی تشدد کا الزام اسلام کو دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ کام بدھ مت والے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بھی کر رہے ہیں۔ بھارت میں کئی مرتبہ ہندو ہجوم مسلمانوں کو جلا چکے ہیں۔ 1948ء میں بلوائیوں نے فلسطینی مسلمانوں کے گھروں پر حملے کر کے ان کو مہاجر بنایا تھا۔ 1947ء میں پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کے گھر بلوائیوں کے نرغے میں آئے تھے اور اس کے بعد مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے گھر سکھ بلوائیوں کے نرغے میں آئے تھے۔ دنیا کے کئی ممالک میں کمیونسٹ بلوائیوں نے بھی ایسے کام کئے ہیں۔ یہ سب لوگ عام انسان تھے جو بعد میں احساس جرم میں بھی مبتلا ہوئے تو اپنے وحشی پن کی مختلف تاویلات کیں۔

ہمارے ہاں چونکہ نوے فیصد سے زیادہ لوگ مسلمان ہیں لہٰذا بعض اوقات ایسے کاموں کو مسلمانوں کی خصوصیت سمجھا جاتا ہے جب کہ اس کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ ایسے کام مہاجر، پختون، سندھی، بلوچ قوم پرستی کے نام پر بھی ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں قوم پرستی شروع ہوئی تو شاید پنجاب میں بھی قوم پرستی کی بنیاد پر ہجومی تشدد ہونے لگے۔

سو سال پہلے تک مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندو، سکھ، یہودی، زرتشتی، حتیٰ ملحدین بھی رہتے تھے جن کا ذکر تاریخی کتابوں میں آیا ہے۔ 1948ء کے بعد لاکھوں یہودی عرب ممالک سے اسرائیل ہجرت کر گئے۔ 1947ء میں پچاس لاکھ ہندو اور سکھ پاکستان چھوڑ گئے۔ یہ لوگ نہ گئے ہوتے تو ہمارے معاشرے میں تنوع باقی رہتا جو عقل کیلئے  ضروری ہوتا ہے۔ اسی لئے قائد اعظم نے اس تشدد کو روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن مسلم لیگ کے کارکنوں اور سرکاری ملازمین نے ان کی بات نہ سنی اور بلوائی بن گئے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ تیرہ سو سال کے بعد یکدم مسلمان معاشرے دوسرے مذاہب سے پاک ہونے لگے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں ہنا آرنٹ (Hannah Arendt) کی کتاب، origins of totalitarianism، ہمارے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب انٹرنیٹ سے خریدی بھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس موضوع پر مفکرین کی کتب ہونگی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ شاید ابھی تک نہیں ہو سکا ہے، البتہ نطشے کی کتاب، ”زردشت نے کہا“، اردو میں ترجمہ ہو چکی ہے۔

بلوائی مذہبی بھی ہو سکتا ہے، مذہب کی پابندی نہ کرنے والا بھی ہو سکتا ہے اور مذہب کا مخالف بھی ہو سکتا ہے۔ جدید دور کے اس مسئلے کو سب سے پہلے نطشے نے محسوس کیا تھا۔ اگرچہ نطشے کی بہت سی باتیں غلط بھی ہیں لیکن جدید دور کے مفکر کے طور پر بلوائی کی پیدائش کو بروقت سمجھ لینا اس کا بہت اہم کام ہے۔ اس سے پہلے بعض فلسفی بڑے شد و مد سے مذہب کے مخالف رہے تھے اور اسے اخلاق اور عقل کیلئے خطرناک قرار دے رہے تھے۔ نطشے نے بلوائیوں کیلئے ریوڑ (herd) کی اصطلاح استعمال کی جس کی برائی کا تعلق خدا پر ایمان رکھنے یا نہ رکھنے سے نہیں ہے۔ وہ اس آدمی کو فوق البشر سمجھتا ہے جو اس دور میں عقل کو سلامت رکھ سکے اور خود کو بلوائی بننے سے بچا لے۔

کہا جا سکتا ہے کہ جدید دور میں بلوے کی سوچ کے فروغ میں ایک بڑا کردار کمیونزم کا ہے۔ اگرچہ مارکس خود بلوائی نہیں تھا لیکن غریبوں کی ہمدردی میں اس نے ایسی باتیں کہی ہیں جن سے بلوائیوں کو شہہ ملتی ہے۔ جیسے یہ بات کہ فلسفی کا کام دنیا کو سمجھنا نہیں، بلکہ دنیا کو بدلنا ہے۔ جدید دور میں دنیا کو سمجھنے کیلئے عقل کو سلامت رکھنا پہلے ہی مشکل ہے، اوپر سے دنیا کو سمجھنے کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے تو انقلابی  بننے سے خود کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اولین کام دنیا کو سمجھنا ہی ہے۔ معاشرے کو بدلنے کی کوشش کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ دنیا کو سمجھنے کا بہتر ماحول میسر ہو سکے۔ انسان کے جسم میں سب سے اہم حصہ دماغ ہے، پیٹ نہیں!

یہاں اس نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مسلمان معاشروں میں اکثر لوگ جو اپنے تئیں اسلامی بیداری اور اسلامی جذبے کے ساتھ بلوہ کرتے ہیں وہ مذہب کے بہت پابند نہیں ہوتے ہیں۔ اسلام میں اگرچہ قتل کی سزا موت ہے لیکن اس سے بڑی سزا آخرت میں جہنم کی شکل میں ہے۔ اسلام میں آخرت کو بہت اہمیت حاصل ہے اور کوئی شخص جو اسلام کو اہمیت دیتا ہو وہ کسی کی جان، یا حتیٰ مال، کو نقصان پہنچانے سے پہلے ڈرے گا۔ لیکن یہ ڈر اسی کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جس کی عقل کام کر رہی ہو۔ بلوائی یا انقلابی ایک ایسی کیفیت میں ہوتا ہے جس سے اس کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ ہاں بعد میں اپنے ضمیر کو چپ کرانے اور احساس جرم کی آگ بجھانے کیلئے وہ خود پر اسلام کے عشق یا غریبوں کی مدد یا قوم کی عظمت کا کمبل ڈالتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اسلام میں عقل کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اصول کافی کا پہلا باب ہی عقل پر ہے۔ عرفِ عقلاء کو سمجھنا اور دوسروں کیلئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند ہو، اسلام میں بہت اہم ہیں۔ اسی لئے تصوف اور رہبانیت سے دور رہنا  چاہئے کہ یہ چیزیں عقل کی مخالف ہیں، تصوف دماغ کو دوسرے دماغوں سے کاٹ کر باطن میں جھانکنے کے نام پر انسان کو احمق بنا دیتا ہے۔

Facebook Comments

حمزہ ابراہیم
ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا § صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply