علامہ طالب جوہری؛ایک جوہرِ نایاب/مصطفین کاظمی

اسّی اور نوّے کی دہائیوں میں برصغیر کے بے شمار نوجوانوں کی طرح میرا بچپن اور لڑکپن بھی علامہ طالب جوہری مرحوم و مغفور کی مجالس سنتے گزرا ۔ علامہ سے لگاؤ اور ان کے اندازِ  بیان سے الفت کا یہ عالم تھا کہ پشاور میں پلنے بڑھنے کے باوجود جب سے ہوش سنبھالا کبھی شہر کی  کسی امام بارگاہ میں شام غربیاں نہیں سنی، کیونکہ ٹھیک اسی وقت علامہ پی ٹی وی پر زیب منبر ہوتے تھے اور ہمارے گھر میں پورے اہتمام کیساتھ علامہ کی مجلسِ  شام دیکھی اور سنی جاتی تھی ۔

میرے والد کے حلقہ احباب میں شہر کے باذوق سنی و شیعہ افراد شامل تھے، یہ حضرات بلا کے نقاد ، کشادہ ذہن اور فہم و فراست سے لبریز لوگ تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ان میں کسی کا بھی ایک جملہ سن کر راہ چلتے لوگ رُک جاتے اور پھر گھنٹہ بھر سنتے ہی چلے جاتے ۔ بسا اواقات شام کے بعد قصہ خوانی بازار میں ہماری دوکان پر سجنے والی محفلوں میں فہم القرآن اور شام غریباں کی مجالس میں علامہ کے بیان کئے ہوئے مطالب موضوع سخن ہوا کرتے تھے ۔ ایسی ہی ایک شام کا احوال ہے کہ بزرگ پروفیسر صاحب ، جن کا اصل نام مجھے کبھی معلوم نہیں ہوا بس اتنا پتہ ہے وہ شہر کی معروف درسگاہ میں انگریزی کے استاد رہ  چکے تھے اوران کی بزرگیِ عمر اور فراست کی وجہ سے انہیں صرف پروفیسر صاحب ہی کہا جاتاتھا۔ اب جو پروفیسر صاحب نے طالب جوہری اور رشید ترابی کا تقابل شروع کیا تو ہر شخص سر دُھن رہا تھا ،کم عمری کی وجہ سے مجھے پروفیسر صاحب کی دقیق گفتگو تو یاد نہیں رہی لیکن اس بزم میں لوگوں کے چہرے رشک بھری آنکھیں اور بار بار داد و تحسین آج بھی میرے ذ ہن پر نقش ہیں اور پھر آخر میں پروفیسر صاحب فرمانے لگے کہ بھئی دیکھیں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یوں تو اور بھی ہوئے ہونگے لیکن میری زندگی میں دو ہی صاحبانِ منبر نشین ہوئے ہیں جنہیں علامہ کہلائے کا حق ہے اور وہ یا تو رشید ترابی مرحوم تھے اور یا پھر جوہری صاحب ہیں ۔ اس جملے نے میری سوچ پر ایسا نقش چھوڑا کہ جب بھی کہیں کسی شخصیت کے نام کیساتھ علامہ لکھا ہوا پڑھا تو لاشعوری طور پر میں نے علامہ طالب جوہری سے موازنہ کرنا شروع کردیا اور بہرحال آج تک مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہوا   کہ پاکستان میں علامہ یا تو رشید ترابی گزرے ہیں جنھیں میں نے نہیں دیکھا اور یا پھر طالب جوہری جنھیں میں نے  دیکھا اور سنا اور پھر ان سے ایک ملاقات بھی رہی، جو میری زندگی کے قیمتی ترین لمحات میں سے ایک ہیں ۔

وقت گزرتا گیا اور ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور کی فضا میں بھی فرقہ واریت اور بارود کے زہر شامل ہوتے گئے ماحول میں گھٹن آ گئی علمی محفلیں اجڑ گئیں اور بغلگیر ہوکر ملنے والے لوگ ہاتھ ملاتے ہوئے بھی ڈرنے لگے ۔ گو کہ کافر کافر اور لعنت ملامت کے فقرے رواج بن گئے تھے لیکن اس کے باوجودسیکڑوں میل دور ایک مسلکی تنظیم کے سرکردہ شخص نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کچھ ایسی جسارت کی کہ پورے ملک کی سُنی اور شیعہ آبادی میں ایک جیسی بے چینی پھیل گئی اور کچھ دنوں بعد وہی شخص وہی تقریر پشاور میں اسی انداز سے کرتا ہے اور جس سے ماحول میں ڈر و خوف کےساتھ غم و غصہ بھی شامل ہوگیا ۔شیعہ جوان آپے سے باہر ہو رہے تھے اور خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ نوجوان غم و غصہ کے عالم  میں کسی ملک دشمن قوت کے ہاتھوں میں کھیل نہ جائیں ۔ایسے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد آگے آئے اور طے ہوا کہ اس جسارت کا جواب علمی طور پر منبر سے دیا جائے ۔ پورے  ملک کے سرکردہ علما  اور خطبا کو پشاور آنے کی  دعوت دی گئی لیکن گرم زمین پر کون قدم رکھے اور تقریباً سب نے ہی ماحول کی کشیدگی کے مدنظر آنے سے  معذرت کرلی۔ ایسے میں علامہ طالب جوہری نے ناصرف اس دعوت کو قبول کیا بلکہ قیمتی مشوروں سےمنتظمین کی مدد بھی کی اور علامہ ہی کے  مشورے سے عظمت محمد آل محمد کے عنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام شروع ہوا۔

علامہ طالب جوہری کا نام آتے ہی ہر طرف سے پذیرائی ملی اور  سب کی پسندیدہ شخصیت کی وجہ سے پشاور کے اہل سنت عوام نے اس مجوزہ کانفرنس کو بہت زیادہ سراہا ۔ان کا اشتیاق دیکھنے کے لائق تھا۔ کانفرنس سے چھ دن پہلے ایک ہنگامی اجلاس ہوا کیونکہ عوام کی متوقع تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی اور شہر میں کوئی بھی امام بارگاہ یا مسجد اتنی بڑی نہیں تھی جہاں یہ کانفرنس ‘جو اَب ایک جلسے کا روپ دھار چکی تھی منعقد کی جا سکے اور سکیورٹی کے مد نظر کسی پارک یا چوک میں انعقاد ناممکن تھا۔ لہٰذا طے پایا کہ کانفرنس کا وقت اور دن جمعہ کی چھٹی کے دن سے بدل کہ ہفتہ کے ورکنگ دنوں میں دوپہر میں رکھا جائے تاکہ کانفرنس کا انعقاد ممکن ہو سکے ۔ یہ دلچسپ مرحلہ تھا اور کم از کم مجھے زندگی میں ایک ہی بار دیکھنے کو  ملا، جب انتظامیہ چاہ رہی تھی کہ لوگوں کی شرکت کو کم کیا جائے اور اس کی وجہ بھی علامہ طالب جوہری کی ہر دل عزیز شخصیت تھی ۔ بہرحال بدھ کے دن دوپہر دو بجے کا وقت طے ہوا اور کانفرنس سے تین چار دن پہلے دن اور وقت کی تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ۔ میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن دن اور وقت کی تبدیلی علامہ کے مشورہ سے ہی ہوئی ہوگی کیونکہ انہیں بہرحال کراچی سے آنا تھا ۔ علامہ طالب جوہری جلسے سے ایک دن پہلے ہوائی جہاز سے پشاور تشریف لائے۔ یہاں ان کیلئے دوپہر اور شام میں پُر تکلف دعوتوں کا اہتمام تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا بھئ میں مرغن غذاؤں کا شوقین نہیں ہوں اور آج کل تو ویسے بھی میری طبیعت خراب ہے لہٰذا دوپہر میں آدھی روٹی کیساتھ بنا تڑکے کی دال   یا ابلے ہوئے چاول کھاؤں گا البتہ اس دعوت میں آپ کےساتھ ہوں گا ۔

اگلے دن کانفرنس یا جلسہ جس امام بارگاہ میں منعقد ہونا تھا وہاں لوگ ظہر سے پہلے ہی آنا شروع ہوگئے ۔امام بارگاہ کے اطراف کے گلی کوچے بھرنے لگے اور ہر طرف مانوس لوگوں کیساتھ اجنبی بھی تھے۔ سکیورٹی کا بندوبست تو تھا ہی لیکن   پھر بھی  عوام کی غیر متوقع تعداد اور ان میں شامل انجانے چہروں نے انتظامیہ کو پریشان کر رکھا تھا ، شدید گرمی میں دو گھنٹے تاخیر کے بعد بہرحال علامہ کو زیب ِمنبر ہونا تھا ۔ علامہ طالب جوہری کی ڈیڑھ پونے دو گھنٹے پر محیط تقریر نے شہر کے ماحول کو یکسر بدل دیا اور عوام کے غم و غصے کی چارہ گری اس انداز میں کی  کہ ہر کوئی مطمئن نظر آ رہا تھا ۔ علامہ دو دن پشاور میں رُکے، اس دوران ان کے چاہنے والوں کا  تانتا بندھا رہا، جلسے کے اگلے دن مجھے بخار ہو گیا اور میں علامہ سے ملنے سے محروم رہ گیا اور مجھے اس ملاقات کیلئے مزید انتظار کرنا پڑا ۔

بہت زیادہ وقت گزر گیا اور اس دوران بہت کچھ بدل گیا ۔میں پشاور سے برطانیہ آ گیا تھا اور یہاں آنے کے بعد میری شخصیت میں بہت تبدیلیاں آئی ہونگی لیکن علامہ سے ملنے اور ان کے سامنے بیٹھ کر دوبارہ انہیں سننے کی خواہش ہمیشہ باقی رہی ۔ غالباً ۲۰۰۸ کی بات ہے کہ میں چھٹی پر پاکستان گیا ہوا تھا اور انہی  ایام میں ایک دیرینہ دوست سے فون پر بات ہوئی ۔حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے  اسے پشاور آنے کا کہا لیکن اس نے جواب میں عجب بات کہی کہ بھائی اگر تم آج اسی وقت آ جاؤ تو میں تمھیں علامہ طالب جوہری سے ملوا سکتا ہوں ۔ اس وقت شام ہو رہی  ہے اور اس وقت گھر میں ایک ہی گاڑی تھی، جو طویل سفر کیلئے مناسب بھی نہیں تھی لیکن میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اسی وقت چل پڑا اور یوں میں نصف شب یا اس  سے پہلے   ایک نجی محفل میں علامہ سے ملا  ۔۔وہ ملاقات جس  کا مجھے برسوں سے اشتیاق تھا۔

میرے احباب نے میرا تعارف کروایا ،علامہ نے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملاتے ہوئے مجھے اپنے پاس ہی بیٹھا لیا اس دوران چائے کی  مہک اور سیگریٹ کے دھوئیں میں گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران علامہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ بھئ ہمارے دوست احباب بچوں کے ناموں کے متعلق پوچھتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اہل بیت کے ناموں سے بہتر کونسے نام ہوسکتے ہیں۔ انہی کے ناموں پر نام رکھیے تاکہ ان سے نسبت رہے تو کوئی کہتا ہے کہ کچھ مختلف ہو ۔ پھر سگریٹ کا کش لگایا، ایک لمحے کی خاموشی ٹورتے ہوئے گویا ہوئے البتہ یہ نام مصطفین خوب ہے ۔ایسے سب آئمہ سے نسبت ہمارا عقیدہ ہے کہ امامت منجانب اللہ ہے اور اب جو اللہ نے چنے ہیں وہی تو مصطفین ہیں ۔۔۔برخودار میں تمہارے ہم ناموں سے بھی شناساہوں۔ پھر میں نے سرگوشی میں علامہ سے ایک خواہش کا اظہار کیا اور ایک وعدہ لیا ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ انتہائی مختصر ملاقات ایک گھنٹے سے بھی کم وقت کی تھی ، میں واپس لندن آگیا وقت اور گزرا اور شاید ۲۰۱۸/۲۰۱۷ کا ذکر ہے کہ اسی دوست سے فون پر بات ہو رہی تھی تو اس نے کہا علامہ طالب جوہری آئے ہوئے ہیں تم پاکستان میں ہوتے تو تمھیں ملواتا ۔میں نے کہا علامہ صاحب کو میرا سلام دینا اور انہیں یاد دلانا  کہ میں ان سے دس گیارہ سال پہلے تمھارے ہی توسط سے ملا تھا ۔ چند دنوں بعد اسی دوست سے پھر بات ہوئی تو اس یہ کہہ کر مجھے تعجب میں مبتلا کر دیا کہ علامہ طالب جوہری نے تمھارے سلام کے جواب میں فوراً کہا اسے کہنا تم نے ہم  سے ایک وعدہ لیا تھا اور مجھے انتظار  ہے کہ  کب تم اس وعدے کی اپنی شِق پوری کرو،  تاکہ میں اپنے حصے کی  شِق پر عمل کر سکوں ۔ خدا نے علامہ کو بلا کا حافظہ دیا تھا علامہ اپنی زندگی میں مجھ  جیسے اَن گنت لوگوں سے ملے ہونگے ایسے میں ان لوگوں کو یاد رکھنا اور ان سے کی ہوئی ایک بار کی گفتگو کو یاد رکھنا واقعی تعجب  خیز  ہے۔
پرودگار بحق محمدؐ و آل محمدؐ علامہ طالب جوہری کے درجات بلند فرمائے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply