پہلے اندر کے کافر کو ماریں/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں کسی پہاڑ کی آغوش میں اک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا یا کسی میدان میں لہلہاتے کھیتوں کے درمیان بنے کچے گھر میں؟ کیا مجھے پیدا کرنے والا ایک نہیں؟ک

یا دوسری جگہ پیدا ہونے سے میرے جسم میں کوئی فرق آ جاتا ہے؟

ہم جس مذہب کے ماننے والے ہیں کیا وہ یہی درس نہیں دیتا تھا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پہ یا کسی عجمی کو کسی عربی پہ کوئی فضیلت نہیں۔ پھر یہ کیسا خمار ہے جو ہمارے اندر سے نکلتا ہی نہیں، کیسی برتری کا غرور ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا۔

نسلی بنیادوں پہ بھڑکنے والی آگ وقفے وقفے سے اپنا سر اٹھا کر بتا دیتی ہے کہ میں موجود ہوں۔ اس آگ کا شعلہ بننے والے فخر سے سینہ پھیلا کر چلتے ہیں کہ دوسروں کو نیچا دکھا سکیں اور اوقات تو ہم سب کی اتنی ہے کہ اگلی سانس کی خبر نہیں۔

جانے کب پاؤں پھسلے اور ہم جان کی بازی ہار جائیں، کوئی گولی آلگے اور زندگی ختم ہو جائے، کوئی راہ چلتی گاڑی ہمیں ٹکر مارے اور قبر میں اتار دے لیکن ہم اتنی کم تر اوقات کے باوجود اپنے تکبر سے نہیں نکلیں گے۔ دوسروں کو کم تر سمجھنا نہیں چھوڑیں گے۔ دوسروں کو عزت اور محبت دینے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ اس سے ہماری شان کم ہوتی ہے۔ہ

میں اخلاقیات کی پرواہ نہیں ، دین کے احکامات کی فکر نہیں۔ ہمیں بس اپنا شملہ بلند کرنا ہے، اپنی پگڑی اونچی رکھنی ہے۔

میں سوچتا ہوں کیا تھا اگر ہم نے ہمسایہ ممالک سے بلاوجہ کی دشمنی نہ پال رکھی ہوتی، ان کے لیے ہمارے دلوں میں نفرت نہ پیدا کی جاتی۔پ

اکستان اور بھارت کا دشمن ہونا ہی ضروری کیوں تھا؟ ہم دوست بھی تو ہو سکتے تھے۔ ایک دوسرے کی جیت کا جشن مناتے، ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہتے۔ یہ دشمنی آخر ہے کس بات کی؟

مذہب کی؟ بٹوارے کی؟ انا کی؟ مفادات کی؟

یہ مت کہیے گا کہ بھارت نے یہ کر دیا وہ کر دیا، یہ دشمنی دونوں طرف سے برابر نبھائی گئی ہے۔

کیا تھا اگر ہم افغانستان کو ہی اپنا دوست بنا لیتے؟ ان کے کھلاڑی ہماری جیت پہ خوش ہوتے اور ہم ان کی فتح کا جشن منا لیتے۔

کیا تھا اگر ہم ایران سے ہی اچھے تعلقات رکھ لیتے؟

بنگلہ دیش سے بٹوارا ہوا تھا لیکن اس بٹوارے کو نفرت میں نہ بدلتے۔

میں سوچتا ہوں آخر کیوں ہمارے سب ہی ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہیں؟۔

آخر کیوں سب ہمیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم ان سب کو۔

(سوائے چین کے، کہ چین کے اپنے مفاد وابستہ ہیں ہم سے)ل

یکن پھر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جس سے سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ دو دن سے فیس بک پہ پنجابی پشتون کی جنگ چل رہی ہے۔ ہم میں سے بہت سارے نفرت میں ساری حدود سے نکل چکے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر سمجھ لگ رہی ہے کہ جب ہم ایک ملک میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے اپنے دل سے نفرت نہیں نکال سکے، جب ہم نسلی بنیادوں پہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے شوق سے باہر نہیں نکل پائے تو ہم بارڈر کے پار رہنے والوں سے کیسے اچھے تعلق رکھ سکتے تھے؟ہ

ہم ایک مذہب کے پیروکار ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو بھائی نہیں سمجھ سکے، ایک دوسرے کو عزت نہیں دے سکے تو دوسرے مذاہب دوسرے ممالک کو کیسے احترام دے سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہم جو اپنے گھر کے اندر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار بیٹھے ہیں، ہم ساتھ والے گھروں کو کیسے محبت دے سکتے ہیں۔ معلوم نہیں ہمسایہ. ممالک کا کتنا قصور ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکیں تو شرم سے آنکھیں جھک جاتی ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply