• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کچھ نیکیاں ایسی بھی ہونی چاہییں جن کا کوئی گواہ نہ ہو۔۔اسد مفتی

کچھ نیکیاں ایسی بھی ہونی چاہییں جن کا کوئی گواہ نہ ہو۔۔اسد مفتی

بات کرنا بھی ایک فن ہے اور اس میدان میں ہر آدمی فنکار نہیں ہوتا۔مجھے خود بات کرنے کی مشق نہیں ہے جو لوگ نا خوش یا نا راض ہونا چاہتے ہیں وہ ہو ہی جاتے ہیں آپ سب لوگوں کو خوش نہیں کر سکتے اور پھر سب لوگوں کو خوش کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میں سب کو برا ہی کہتا رہتا ہوں کبھی کسی کی خوبیوں پر میری نظر نہیں جاتی مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ میں نے “ایویں “کسی کی برائی کہ ہو۔

پردیس میں آدمی کی سانسیں ایسی سلیٹ ہوتی ہیں جس پر گزرے وقتوں کی یادیں تحریر ہوتی ہیں،فنکار اور واعظ (مصلح)میں فرق یہ ہے کہ فنکار جمالیاتی انبساط کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بناتا ہے اس بات کو میرے اپنے حساب سے یوں عرض کرتا ہوں کہ جب ہم کسی واعظ کی تقریر سننے جاتے ہیں تو ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے  کہ  وہ  کس قسم کی بات کرنے والا ہے لیکن جب ہم کوئی افسانہ یا ناول پڑھتے ہیں غزل سنتے ہیں یا فلم دیکھتے ہیں کالم پڑھتے ہیں یا نظم سنتے ہیں تو ہمیں یہ علم نہیں ہوتا کہ ہم در اصل کیا سننے والے یا پڑھنے والے ہیں اور یوں غزل سننے یا فلم دیکھنے یا کالم پڑھنے کا عمل  ایک تخلیقی عمل بن جاتا ہے اور ہم پڑھنے سننے یا دیکھنے کے ذریعے کچھ دریافت کرتے ہیں اور ہر دریافت ہمارا نفع ہے کہ ہم تو صرف دل بہلانے کی نیت سے غزل سن رہے تھے یا کالم پڑھ رہے تھے یہ جو عنصر ہے اس میں فنون لطیفہ کی طاقت ہے اور یہی طاقت فنکاروں پر،دانشوروں پر،ادیبوں،شاعروں اور کالم نگاروں پر واعظوں سے کہیں زیادہ  ذمہ داری عائد کرتی ہے۔

دوست،سچائی،انصاف او رگزرے دنوں کی یاد۔۔میرے نزدیک انسان کی بہترین دوست ہیں جنہیں سائے کی طرح زندگی پر موجود رہنا چاہیے۔میں ابھی ابھی پاکستان اور ہندوستان سے لوٹا ہوں اب یہاں پردیس میں ان دنوں سیف الدین سیف (کیا بر صغیر کا معروف شاعر لکھنا ضروری ہے؟)کی یاد میرے ذہن کے اُفق پر چھائی ہوئی ہے۔سیف صاحب سے فلم،اسٹوڈیو،ادبی حلقوں اور نجی طور پر کئی ملاقاتیں رہیں،ادب اور شعر سے محبت ان کے خون میں ہی رچی ہوئی تھی وہ نو عمری میں ہی شعر کہنے لگے تھے،اُنہو ں نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ “ادبی دنیا”کے پہلے صفحے پر میری نظم “رات”چھپی تو میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔کالج کے زمانے ہی میں سیف کی شہرت راس کماری سے لے کر  خیبر تک پھیل چکی تھی،تاثیر،حسرت،صوفی تبسم اور فیض احمد فیض کے ساتھ ان کی محفل آرائیاں رہیں،امرتسر کے بعد لاہور کے ادبی حلقوں کا سیف کے بغیر دل نہ لگتاتھا،مشاعرے سیف کے بغیر جچتے نہ تھے،سیف اگر جانبِ فلم نہ آتے تو پاکستانی فلم آج بھی وہیں ہوتی جہاں 1947  میں تھی (پاکستانی فلم آج کہاں کھڑی ہے یہ ایک الگ موضوع ہے)پاکستانی گیتوں میں اگر کوئی شعری معیار ہے تو وہ سیف کی دین ہے کہ جنہوں نے ادب کو فلمی تقاضوں پر قربان نہیں کیا۔قتیل شفائی اپنی آپ بیتی “گھنگھرو ٹوٹ گئے”میں لکھتے ہیں ”
اگر سیف صاحب کا کوئی گیت ہٹ ہو جاتا تو میں اس پر رشک کرتا اور کوشش کرتا کہ میں ان سے آگے نکلوں،فلم “گمنام”کا ایک گیت تھا
پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے

یہ گیت سیف صاحب نے لکھا اور اقبال بانو اس کی گائیکہ تھیں۔اس گیت کی شہرت بہت دور دور تک پہنچی،مجھے یہ haunt کرتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ کاش ایسا ہی ایک گیت میں بھی لکھوں اور ہمدوش ہو جاؤں ”
ہندوستانی فلم انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر،ڈائریکٹر اور یش چوپڑا کے بڑے بھائی،بی آر چوپڑا سیف کے بے حد مداح تھے اور یہی انہیں فلم انڈسٹری میں لے کر آئے تھے۔بی آر چوپڑا گورنمنٹ کالج کے فارغ التحصیل تھے،جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے “کروٹ”بی آر چوپڑاکی پہلی فلم تھی جس کے گانے سیف الدین سیف نے لکھے تھے یہ غالباً1945کی بات ہے۔سیف نے پاکستان میں “کرتار سنگھ”جیسی خوبصورت پنجابی فلم بنائی،موضوع اور بے باکی کے لحاظ سے یہ ایک اچھوتی فلم تھی،برِصغیر کی عظیم لکھاری اور دانشور قرۃالعین حیدر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ “میں حیرت سے گنگ ہوں کہ ایسی فلم برِصغیر میں بھی بن سکتی ہے “۔

میں 1990 میں پاکستان گیا تو سیف صاحب سے ملاقات ہوئی،یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی،باتوں باتوں میں پوچھنے لگے،”سنا ہے فیض صاحب تمھارے یہاں اکثر آیا کرتے تھے؟”میں نے جواب میں کہا کہ “یہ اُن کی زرہ نوازی تھی ان کی محبت اور شفقت سے میں خود کو قد آور محسوس کرتا ہوں “۔اور میں نے پوچھا “آپ یورپ کا چکر کیو ں نہیں لگاتے؟”چپ سے ہو گئے،چند لمحوں بعد کہنے لگے،نظریاتی اختلافات کے باوجود میرے کلام کے بڑے مداح تھے،ایک بار  ایک تقریب میں میرے ترقی پسند احباب مجھے سمجھا رہے تھے کہ میں سوشلسٹ ہوجاؤں،فیض صاحب جو بڑے غور سے ہماری بحث و تکرار سن رہے تھے اچانک بول اٹھے،”رہنے دیں۔۔کسی کو تو شاعر رہنے دیں،اگر سیف بھی سوشلسٹ ہو گیا تو پھر ہم شعر کس سے سنیں گے “۔

کہتے ہیں کہ منٹو آخر عمر میں بہت خبطی ہو گیا تھا بلکہ آخری عمر میں تو ذہنی طور پر ماؤف بھی ہو گیا تھا۔سیف صاحب نے بتایا کہ ایک بار محفل جمی ہوئی تھی کہ وہ ترنگ میں آکر بولا “سیف سن لو!میں برِ صغیر کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہوں “۔”ہاں “،میں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا،”سیف اسے مذاق مت سمجھنا “وہ بحث کے انداز میں بولا،”میرے پائے کا اردوادب میں ہے کوئی؟اول تو میں افسانے کو اضافِ ادب سے خارج سمجھتاہوں “آخر مجھے بولنا ہی پڑا “یہ تو ان لوگوں کا ابتدائی شغل ہے جنہیں ادیب کہلانے کاشوق ہوتا ہے اور پھر تم افسانہ نگار لوگ بہت کمال بھی کر ڈالو تو زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ دے گا واہ کیا عمدہ نثر ہے یو ں لگتا ہے جیسے شعر کہے ہوں،شاعری کی ہو۔۔۔۔میں نے منٹو پر آخری چوٹ کی۔۔۔تو گویا تم لوگ تو وہاں ختم ہو جاتے ہو جہاں سے شاعر شروع ہوتے ہیں “۔

میں نے کہیں پڑھا ہے یا خود سے لکھا ہے کہ شاعر تخیل کی قوت کو قوی تر کر تے ہیں اور یہ کہ شاعری علم بھی ہے اور مصوری بھی۔۔۔۔
وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزم ِخیال سے بھی گئے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *