مذہبی شدت پسندی اور اچھی تھیوری/عزیر سرویا

کچھ لوگوں کا مخلصانہ خیال ہے کہ سوات میں جو ہُوا، اُس کی وجہ بس مذہبی شدت پسندی ہے۔ یہ مسئلے کو دیکھنے  کا انتہائی سطحی زاویہ ہے۔

ایک اچھی تھیوری وہ ہوتی ہے، جس سے کسی معاملے کو بہترین طرز پر ایکسپلین کیا جا سکے۔ موب وائلینس پاکستان کے علاوہ بھارت بلکہ بہت کثیر واقعات لاطینی امریکہ میں بھی نظر آتے ہیں۔ پھر کئی واقعات پاکستان کے اندر چوروں اور ڈکیتوں کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں اکثریت ہجوم کے ہاتھوں مرنے والوں کی بھی کسی نہ کسی جرم (ڈاکہ، چوری، ڈرگز وغیرہ) کے الزام کے بعد دیکھنے میں آئی۔ اب مذہبی شدت پسندی والی تھیوری سے آپ یہ باقی سارے واقعات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

بہتر تھیوری یہ ہے کہ وہ ریاستیں جہاں لوگوں کا ریاستی اداروں اور عدالتی نظام پر اعتماد نہ ہو، سماج میں معاشی و دیگر حوالوں سے عمومی فرسٹریشن پائی جاتی ہو، وہاں موب وائلینس کے واقعات عام ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت عملاً عوام کا نا  صرف کہ ریاستی اداروں بلکہ ہر قسم کی اتھارٹی سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ علما  یا عوامی رائے بنانے والے بااثر افراد (opinion leaders) کہ جن کی لوگ سنتے مانتے تھے، وہ بھی سوشل میڈیا  آنے کے بعد دھیرے دھیرے دِلوں سے اُتر چکے اور اعتماد کھو بیٹھے۔ اس وقت پریکٹیکل بات یہ ہے کہ عوام الناس کسی کو اپنا خیر خواہ نہیں سمجھتے نہ کسی کی اتھارٹی اپنے اوپر جائز مانتے ہیں۔ ریاست ان کی نظر میں غاصب، علما  و بااثر اشرافیہ جھوٹے و فسادی و مفاد پرست ہیں۔

ایسے میں صرف مذہب ہی نہیں، آپ کسی بھی معاملے پر جذباتی کر کے عوام سے کسی بھی طرح کا وائلینس پیش کروا سکتے ہیں۔ آپ کسی قوم پرست، کسی لسانیت زدہ گروہ کی مجلس میں جا کے مخالف نعرہ بلند کر کے دیکھیں، کسی سیاسی پارٹی کے کٹر نام لیواؤں کے آگے اُن لیڈر کی برائی بیان کرنے کا تجربہ کریں، بلکہ چھوٹے اسکیل پے کسی فیملی کے سامنے ان کی کسی خاتون کے بارے ہی کوئی حقیقت پر مبنی منفی بات کر کے دیکھ لیں۔ نتیجہ سوات سے مختلف نہیں ہو گا۔

Advertisements
julia rana solicitors

مسئلے کا درست ادراک دانستہ طور پر نہ کرنا بھی مسئلے کو طول دینے کا سبب ہے۔ وطن عزیز میں از سر نو ادارہ سازی، کردار سازی اور نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ لانگ ٹرم حل ہے۔ شارٹ ٹرم حل یہ ہے کہ علما  کا ایک بورڈ فوراً تشکیل دیا جائے جسے عدالتی و ریاستی طاقت ہو کہ وہ ملٹری کورٹ کی طرز پر گستاخی کے معاملات کو دیکھے گا اور جلد از جلد رپورٹ و فیصلے ہوں گے۔ اس پر عوام کا اعتماد بحال کر کے بے داغ غیر متنازعہ لوگ اس میں شامل کیے جائیں۔ پھر موب وائلینس کا ارتکاب کرنے والوں اور سہولت کاروں کو بہترین نشان عبرت بنانے کا بندوبست کیا جائے۔ یہی معاملے کا حل ہے۔ باقی سب دانشوریاں ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply