یوسفی کے یومِ وفات پر/معصوم مرادآبادی

”جس زمانے میں وزن کرنے کی مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی تو شائستہ عورتیں چوڑیوں کے تنگ ہونے اور مرد چارپائی کے بان کے دباؤ سے دوسروں کے وزن کا تخمینہ کرتے تھے۔ اس زمانے میں چارپائی صرف میزانِ جسم ہی نہیں بلکہ معیارِ اعمال بھی تھی۔ نتیجہ یہ کہ جنازے کو کندھا دینے والے چارپائی کے وزن کی بنا پر مرحوم کے جنّتی یا اس کے برعکس ہونے کا اعلان کرتے تھے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارے ہاں دبلے آدمی کی دنیا اور موٹے آدمی کی آخرت عام طورسے خراب ہوتی ہے۔“ (چراغ تلے)

ایسا شائستہ اور پُرلطف مزاح لکھنے والے ادیب مشتاق احمد یوسفی گزشتہ 20 جون 2018 کو دنیا سےرخصت ہوگئے۔ اردو ادب پر یہ کیسا پیمبری وقت آن پڑا ہے کہ سارے مشاق لکھاری یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جارہے ہیں۔ جتنے چراغ تھے، وہ سب بجھتے چلے جارہے ہیں اور تاریکی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ یوں تو ہر ادیب اور قلم کار کی موت علم وادب کا ناقابل تلافی خسارہ ہوتی ہے لیکن ان میں بعض لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کے دنیا سے اٹھ جانے کاغم سب سے زیادہ ہوتاہے۔ مشتاق احمد یوسفی ہمارے ان گنے چنے قلمکاروں میں سے ایک تھے جن پر اردو زبان اور اس کی تہذیب کوناز تھا۔ جنہوں نے اپنی بے مثال طنزیہ اور مزاحیہ تحریروں سے اردو کے خزانے کو مالامال کیا ہے۔ یوسفی صاحب کی رسائی اردو نثر کی معراج تک ہوئی۔ انہوں نے طنز ومزاح کے حوالے سے جو اعلیٰ درجے کا ادب تخلیق کیا ہے اسے عالمی ادب کے سامنے فخریہ طورپر پیش کیاجاسکتا ہے۔

یوسفی صاحب کی تحریروں کا سب سے بڑا ہنر ان کا مشاہدہ اور سماجی مطالعہ ہے جس میں وہ اپنے تمام ہم عصر ادیبوں سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ وہ عام سماجی زندگی کے روز مرہ واقعات کواس طرح اپنی تحریر میں پرو تے ہیں کہ پڑھنے والے کو اس میں ناقابل بیان لطف محسوس ہوتا ہے۔ انسانی سماج اور معاشرے کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو یوسفی صاحب کے مشاہدے کی حد سے پرے ہو۔ انسانی فکر وفہم کا کوئی زاویہ، نفسیات کا کوئی نکتہ یوسفی صاحب کی گرفت سے باہر نہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے اپنی بات کہنے کے لئے جس زبان وبیان کا سہارا لیا ہے اور جس طرح مختلف موضوعات کے بیان میں اس موضوع کی باریک سے باریک جزئیات کو قلم بند کیا ہے، وہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوسفی صاحب کی دلچسپ اور دل آویز تحریروں پر لوگ بے تحاشہ سردھنتے ہیں اور ان کے خوبصورت جملوں کو دہراکر محفلوں کو زعفران زار بناتے ہیں۔

عام طورپر لوگ محفلوں میں اچھے اشعار سناکر حاضرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتے ہیں لیکن یوسفی صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے برجستہ اور نوکیلے جملے محفلوں کو قہقہہ زار بنانے کے کام آتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو ان کے جملے ہی نہیں بلکہ پورے پیراگراف اور بعض کو تو ان کے مضامین یوں یاد ہوجاتے ہیں جیسے امتحان میں بچوں کو اپنا سبق۔ ان کے چاہنے والوں اور ان کی تحریروں پر جان ودل نثار کرنے والوں نے یوسفی صاحب کے خوبصورت اور دلنشین جملوں سے نہ جانے کتنی محفلوں کو زعفران زار بنایا۔ ان کا ہر جملہ ایک ایسے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے جسے بڑی مشقت اور دیدہ ریزی کے ساتھ بنایاگیا ہے۔

ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے ان کی کتاب ’خاکم بدہن‘ کے فلیپ پر یہ تاریخی جملہ تحریر کیا تھا کہ ”ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔“ یوسفی صاحب کے فن پر ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کا یہ جملہ اتنا مشہور ہوا کہ ضرب المثل بن گیا۔ مشتاق احمد یوسفی کے انتقال کو بیشتر ادیبوں اور دانشوروں نے عہد یوسفی کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مشتاق احمد یوسفی نے پس مرگ جو سرمایہ ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑا ہے، وہ انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گا اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کے قارئین کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ چونکہ انہوں نے جن سماجی ناہمواریوں کی طرف اشارے کئے ہیں ان میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے۔ وہ جس قسم کی مرصع اور معریٰ نثر لکھتے تھے اس کو سمجھنے والوں کی تعداد اگرچہ ہمارے معاشرے میں کم ہوتی چلی جارہی ہے اور عہد حاضر کے مزاح میں شائستگی اور شگفتگی کی جگہ پھکڑ پن نے لے لی ہے لیکن جولوگ ہمارے تہذیبی، تاریخی اور سماجی ورثے سے واقفیت رکھتے ہیں ان کے لئے یوسفی صاحب کی تحریریں اتنی دلکش ہیں کہ انہیں باربار پڑھنے کے باوجود پڑھنے کی خواہش باقی رہتی ہے۔ یوسفی صاحب ہمارے معاشرے کے ایک زبردست نباض تھے۔ انہوں نے ہماری تہذیبی، تاریخی اور سماجی زندگی کے پیچ وخم کا اتنا گہرا مطالعہ کیا تھا کہ انہیں دیکھ کر رشک آتاتھا۔ روز مرہ کے امور کو سمجھنے اور انہیں اپنے مخصوص پیرائے میں بیان کرنے پر انہیں جو قدرت حاصل تھی اس کی ہمسری کوئی نہیں کرسکا۔

یوسفی صاحب جب لکھتے تھے تو ان کی تحریر میں متعلقہ موضوع کے سارے اسرارورموز پنہاں ہوجاتے تھے اور یوں لگتا تھا کہ انہوں نے ایک مضمون لکھنے سے پہلے برسوں اس موضوع کا گہرا مطالعہ کیا اور اس تجربے کو اپنے وجود پر گزرنے دیا تاکہ وہ جو کچھ لکھیں ہمیشہ کے لئے امر ہوجائے۔ آپ ان کی کوئی ایک تحریر بھی ایسی نہیں دکھاسکتے جس میں کوئی جھول ہو یا کوئی جملہ اپنی ساخت کے اعتبار سے کمزور ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک ایک جملے پر سردھننے کو جی چاہتاہے۔ شاعری میں تو یہ روش عام ہے کہ لوگوں کو اچھے شعر خودبخود یاد ہوجاتے ہیں لیکن عام طورپر لوگ کسی شاعر کا ایک شعر یا ایک غزل ہی یاد رکھ پاتے ہیں۔ یوسفی صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے پورے پورے مضامین لوگوں نے حفظ کررکھے ہیں۔ انہوں نے مزاح کے عمل کو اپنے لہو کی آگ میں تپ کر نکھرنے کا نام دیا تھا۔ بقول خود:
”عمل مزاح اپنے لہو کی آگ میں تپ کر نکھرنے کا نام ہے۔ لکڑی جل کر کوئلہ بن جاتی ہے اور کوئلہ راکھ۔ لیکن اگر کوئلے کے اندر کی آگ باہر کی آگ سے تیز ہوتو وہ پھر راکھ نہیں بنتا، ہیرا بن جاتا ہے۔“

بلاشبہ یوسفی صاحب نے تمام عمر راکھ کو ہیرا بنانے کا کام کیا کیونکہ وہ اس ہنر میں طاق تھے۔ کوئی 60برس کے اپنے علمی و ادبی سفر میں انہوں نے کل پانچ کتابیں اپنی یادگار چھوڑی ہیں اور ان کی ہر کتاب ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ نصف صدی سے زیادہ کی تخلیقی زندگی کا حساب لگائیے تو انہوں نے بہت کم لکھا ہے لیکن جو کچھ لکھا ہے وہ کندن کی طرح ہے۔ ساٹھ برس کے اپنے ادبی سفر میں ’چراغ تلے‘ سے لے کر ’شام شعریاراں‘ تک ان کی کتابوں کی تعداد محض پانچ ہے۔ان کی آخری کتاب ’شام شعر یاراں‘ جو تمام کتابوں میں سب سے زیادہ ضخیم ہے 2014میں منظرعام پر آئی تھی۔اس سے 25برس قبل انہوں نے ’آب گم‘ لکھی تھی یہ ان کی کتابوں کے درمیان سب سے بڑا وقفہ ہے۔ ان کی آخری کتاب پہلی چار کتابوں سے قطعی مختلف ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ان کی آخری کتاب جو ان کے منفرد اسلوب کے معیار پر کھری اترتی ہے، وہ دراصل ’آب گم‘ ہی ہے اور اسی پر ان کے ادبی سفر کا اختتام گردانا گیا ہے۔ 1961میں شائع ہونے والی ان کی پہلی کتاب “چراغ تلے” کے گیارہ ایڈیشن شائع ہوئے اور 1969میں ’خاکم بدہن‘ کے 14ایڈیشن منظرعام پر آئے۔یوسفی صاحب کے یہاں تعداد کے مقابلے میں معیار کی اہمیت ہے۔

یوسفی صاحب کی تحریروں کا سب سے بڑا حسن ان کا مشاہدہ ہے۔ وہ جب بھی کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو اس موضوع کی باریک سے باریک جزئیات کو احاطہ تحریر میں لاتے ہیں۔
عام طورپر اردو میں مزاح نگاری کو دوئم درجے کے ادب سے تشبیہ دی جاتی ہے اور اسے تفریح طبع کا معمولی ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ ادب کے ناقدین نے ہمارے مزاح نگاروں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لیکن مشتاق احمد یوسفی کا معاملہ سب سے مختلف ہے۔ انہوں نے اپنے فن کی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ان کے تخلیق کردہ ادب پاروں کو کسی بھی زبان کے اعلیٰ فن پاروں کے ساتھ پیش کیاجاسکتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان کی زبان وبیان ہی نہیں انوکھی لفظیات اردوادب کے خزانے میں ایک اہم اضافے کا درجہ رکھتی ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یوسفی صاحب کے جملوں کی کاٹ ایسی ہے کہ اس فن میں ان کا کوئی ہمسر نہیں۔ وہ اپنے جملوں کو رگڑنے اور ان کا نوک پلک درست کرنے میں سب سے زیادہ وقت صرف کرتے تھے اور اپنے مزاح کی برجستگی پر ذرا سابھی حرف نہیں آنے دیتے تھے۔ ان کے یہاں تحریر کا جو سلیقہ ہے وہ ان کے کسی ہم عصر کے یہاں نہیں۔ وہ اردو ادب میں اردو نثر لکھنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہیں بلکہ بعض احباب نے تو انہیں غالب کے بعد سب سے اچھی نثر لکھنے والا ادیب قرار دیا ہے۔ وہ ایسے جملے تراشتے ہیں کہ پڑھنے والا ہنستا بھی رہے اور زندگی کی تلخ حقیقتوں سے روشناس بھی ہوتا رہے۔ وہ جو کچھ لکھ گئے ہیں وہ آئندہ نسلوں تک ہمارے ساتھ جائے گا۔
ان کی یاد گار تحریروں سے لئے گئے چند بے ساختہ جملے ملاحظہ ہوں:
٭ بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیدار میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔
٭پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔
٭ دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار
٭ مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔
٭آ دمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
٭ مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
٭مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
٭ محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے۔
٭ گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے۔
٭ سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں
٭انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔
٭ آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں۔
٭ فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہدف ہوتی ہیں۔
٭قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے۔
٭جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا۔
٭یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply