قیمت /انعام رانا

نوجوانی کی خوبصورتی ہے کہ یہ بہادر ہوتی ہے، نتائج سے بے پروا، بس جیسے من مانی پہ اترا ہوا ایک بپھرا ہوا سانڈ یا اتھری سرپٹ بھاگتی گھوڑی۔ آپ اسے ہارمونز کا کرشمہ کہیے یا دنیا میں اپنا مقام و نشان بنانے کی جینیاتی جبلت، نوجوانی خوئے بغاوت، بیوقوفانہ بہادری و منہ زوری، نظریات کو اپنانے اور پھر ان کی خاطر سب کچھ تج دینے کا ایک دور ہے اور جس پہ یہ دور نہیں آیا، اس پہ جوانی بھی کب آئی۔

مگر نوجوانی کی اس منہ زوری و بغاوت کی قیمت بھی ہوتی جو بڑھاپا وصولتا ہے۔ کئی سال قبل کسی کی ادھیڑ عمری میں ادا ہوتی قیمت دیکھ کر میری منہ زور نوجوانی کی گھوڑی بدک اٹھی جیسے سامنے کوئی سانپ دیکھ لے۔ اک نوجوان جو کبھی آدرشوں کو علم بنائے انقلاب لانے نکلا، لاہور کی ایک سرد رات اسکی ادھیڑ عمر بے بس اور تنہا تھی۔ جیسے ایک عمر میدان میں سرپٹ دوڑتا ہوا گھوڑا لنگڑا ہو جائے۔ تنہائی کا شکار، نہ گھر، نہ بیوی نہ بچے نہ  مستقل روزگار، “جنون تھا بغل میں بس وہ بھی بیمار تھا”۔ میں اپنی گھوڑی سے اترا اور خود سے پوچھا کہ کیا تو قیمت دینے کو تیار ہے؟ آپ مجھے کمزور کہیے یا ڈرپوک، جواب نہ  میں تھا۔ میں نے گھوڑی کی لگام پکڑی اور آرام سے چلنا شروع کر دیا۔

یہ سب یاد کچھ یوں آیا کہ ایک بزرگ دوست کا پردیس میں تنہائی میں انتقال ہو گیا۔ باپ کا بڑا اور لاڈلا بیٹا، ایک ایسے گھرانے کا وارث جو مذہبی تھا، “سرخا” نکل آیا۔ بغاوت پہ اترا، اس تعلیم سے بغاوت جو اس پہ تھوپی گئی، اس مذہبی روایت سے بغاوت جو فقط جینیاتی وراثت کی ایک صورت بن چکی تھی، اس فیملی سسٹم سے انحراف جو مروجہ تھا اور اپنی راہ خود چننے کا فیصلہ کیا۔ رستے میں پھر بھلے رشتوں کی چٹان آئی یا روایت کا پشتہ، منہ زور سیلاب نے سب کچھ روندتے ہوئے نئی زمینوں کا سفر کیا۔ ایک لمبی عمر گزار کر وہ جب بیمار ہوئے، تنہائی نے بسیرا کیا اور ہر جانب اندھیرا چھایا تو امید کی کرن فقط باقی بچے رشتے تھے جو آبائی وطن میں جگنو کی مانند ٹمٹما رہے تھے مگر شاید بہت دور تھے۔ بڑھاپے نے قیمت وصول کر لی تھی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آپ نوجوان ہیں، آدرشوں کو لازمی اپنائیے۔ انکی خاطر بہادری دکھائیے بلکہ بغاوتیں کیجیے، لیکن ہر پل اس قیمت کو مدنظر رکھیے جو ادا کرنا ہو گی۔ ویسے تو وہ نوجوانی بھی کس کام کی جہاں گھوڑی پہ سواری کا خوف ،سوار ہی نہ  بننے دے۔ یہ دنیا، یہ زندگی ان بغاوتوں اور بہادریوں نے ہی ایسی خوبصورت بنائی ہے۔ بس آپ کو ماہر سوار بن کر اس گھوڑی کو قابو رکھنا ہے، توازن نہیں کھونا، خود کو گرنے نہیں دینا۔
قیمت اگر کنگال نہ کر دے تو ہی سچا سودا ہوتا ہے۔

Facebook Comments

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply