انشاء اللہ ولد -فلم ریویو/عامر کاکازئی

اردن کے سنیما کی یہ پہلی فلم ہے، جو نا صرف کینز فلم فیسٹیول اور ٹورانٹو فلم فیسٹیول میں پسند کی گئی بلکہ اس سال کی اردن کی طرف سے اکیڈمی ایورڈز کے لیے بھی نامزد ہو چکی ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر امجد الرشید ہیں جو کہ اس فلم کے کو رائٹر بھی ہیں۔ اس فلم کی کہانی ان ہی کے خاندان کی ایک عورت پر گزرے ہوئے واقعات سے متاثر ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی فلم کی شروعات ایک شاندار سکرپٹ کے ساتھ کی ہے۔

کہانی : ایک مختصر سی کہانی ہے کہ کیسے ایک تنہا بیوہ عورت اپنی سات سال کی بچی کے ساتھ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اس ظالم دنیا کے رسم و رواج ، سماج کے رویوں اور یکطرفہ عورت مخالف مذہبی وراثتی قوانین کا مقابلہ کرتی ہے۔

امجد الرشید صاحب کی یہ فلم ایک ماسٹر پیس ہے۔ اس کا سکرپٹ اتنا شاندار ہے کہ نئے سکرپٹ رائٹرز کو یہ سیکھنا چاہیے کہ سوسائیٹی اور قانون کے خلاف کوئی قابل اعتراض ڈائلاگ ادا کئے بغیر اپنا پیغام کیسے پہنچایا جا سکتا ہے۔ فقط کہانی، فیس اورباڈی ایکسپریشن سے اپنا نقطہ نظر بتا بھی دیا، سوسائیٹی کے رسم و رواج کے خلاف اجتجاج بھی ریکارڈ کروا دیا اور کسی حکومت کو اسے بین کرنے کی ضرورت بھی پیش نہ  آئی اور نہ  ہی کسی مذہبی رہنما کی طرف سے مخالفت ہوئی۔ صرف کہانی کے بل بوتے پرناظرین کو یہ بتا دیا کہ عورت کے خلاف مذہبی امتیازی قانون موجود ہے جو کہ کسی بھی عورت چاہے جس عمر کی ہو، اسے جینےنہیں دیتا۔

مسلمان معاشرے میں لڑکے کی چاہ ، خاص کر عورت کو کیوں ہوتی ہے؟ اس فلم کے ذریعے اس چاہ کی وجہ بیان کی گئی ہے۔

تقریباً ہر مسلمان معاشرے میں فیمینیزم کی تحاریک موجود ہیں مگر آج تک کسی بھی تحریک نے عورت مخالف قوانین کو بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ فلم فیمینیز م کی اصل ڈیفینیشن بتاتی ہے کہ فیمینیزم اصل میں ہے کیا؟

اس فلم کے ذریعے عرب مسلمان معاشرے کے امتیازی قوانین اور رسم و رواج کے بارے میں تفصیل سے بہت سادہ انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔

پہلا امتیازی قانون: بیوہ عورت کی اگر بیٹی ہو تو شوہر کی جائیداد میں سے اس کا اور بیٹی کا شیئر بہت کم ملتا ہے تقریباً آدھے سےزیادہ شوہر کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

دوسرا امتیازی اسلامی رسم و رواج ؛ عرب معاشرے میں عورت چاہے جس عمر میں بھی بیوہ ہو جائے اس کی فوراً زبردستی شادی کروا دی جاتی ہے۔ چاہے وہ ستر سال کی کیوں نا ہو، عرب مسلمان معاشرے میں چاہ کر بھی سنگل عورت معاشرے میں نہیں رہ سکتی۔

تیسرا امتیازی اسلامی قانون : اگر بیوہ کی کمسن بیٹی ہے تو ماں کی دوسری شادی کی صورت میں اس کی بیٹی کو زبردستی چھین کر چچا کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ محرم کا چکر شروع ہو جاتا ہے۔

چوتھا اسلامی رسم و رواج : اکیلی عورت اپنی کمسن اولاد کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

پانچواں امتیازی رسم و رواج  : لڑکی کی بہت کمسنی میں شادی کروا دی جاتی ہے۔

ڈائریکٹر اور رائٹر امجد الرشید نے بہت خوبصورتی سے سادہ سے انداز میں مسلمان عرب معاشرے میں عورتوں کو درپیش مسائل پراس فلم کے ذریعے آواز اٹھائی ہے۔ فلم کی کہانی اور انداز بیان اتنا سادہ  اور رواں ہے کہ مصنف مسمرائزڈ طریقے سے فلم بین کے ذہن میں اپنا میسج اتار دیتا ہے۔ فلم کے سادہ ڈائلاگ ہیں۔ کسی بھی متنازع  ڈائلاگ سے کوئی بھی میسج دینے کی کوشش نہیں کی گئی ،بلکہ صرف کہانی اور باڈی لینگویج سے ہی اپنا پیغام پہنچا دیا۔

فلم میں ایک پیغام اور بھی ہے کہ چاہے  حالات جیسے بھی ہوں، انسان کو ان خراب حالات سے لڑ کر جیتنا ہے۔

یہ فلم آپ کو یہ میسج بھی دیتی ہے کہ اپنے ڈر سے لڑنا ہے جس دن آپ نے اپنے ڈر پر فتح حاصل کر لی اسی دن آپ جیت جائیں گے۔اس میسج کو ڈائریکٹر نے چوہے کے ذریعے پیش کیا ہے۔

ڈاریکٹر نے عورت کی  فطری شرم و حیا کو عورت کے برا (bra) کے ذریعے ایک بہت خوبصورت سین کے ساتھ پکچرائز کیا ہے۔

کہانی میں بس ایک ہی جھول ہے کہ جس عورت کے پریگنینسی کے دو ٹیسٹ نیگیٹو آئے  ہوں تو  تیسرا ٹیسٹ کیسے پوزیٹیو آ جاتاہے؟ فلم کو دو بار دیکھنے کے بعد بھی ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

ہر ملک کی فلم یا ڈرامہ اس معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ فلم بھی اردن کے غریب اور مڈل کلاس کے بارے نقشہ کھینچتی ہے۔ فلم کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ عرب ممالک میں ان کی عوام غریب ہی ہے، البتہ حکومتیں مالدار ہیں۔ عرب ممالک میں بھی پسماندہ اور غریب آبادیاں ہیں جو کہ حد درجہ گندی اور رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ عرب ممالک میں بھی تنخواہ اتنی کم ہے کہ ان کی غریب عوام کا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔

فلم کی ہیروئن مونا حوا، جو کہ ایک فلسطینی ہے نے فیس ایکسپریشنز اور باڈی لینگویج سے بغیر ڈائلاگ ڈیلوری کے کہانی کی تھیم کو بہت عمدگی سے پیش کیا ہے۔ تیس سالہ مونا نے اپنے چہرے کے ذریعے شرم ، حیا، بے بسی ، غصہ ، خوشی اور خواہش نفسانی کو اپنی ایکٹنگ کے ذریعے بہت عمدگی سے پیش کیا ہے۔  بہترین بات یہ ہے کہ مونا کو ایک ستّی ساوتری کے طور پر پیش نہیں کیا گیابلکہ ایک عام عورت کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے ، جس کے عام انسان کی طرح جذبات ہیں، کمیاں ہیں ، خوبیاں ہیں، کچھ غلط فیصلے بھی کیے اور کچھ درست فیصلے بھی۔ مگر آخر میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

اس فلم سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ فلم عورت کے ساتھ ناانصافی پر مبنی وارثت کے قوانین کو ختم کرنے پر پہلا کنکر ثابت ہوگا اور عرب مسلمان معاشرے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلمان ملک بھی ان قوانین کو تبدیل کرنے پر سوچیں گے۔اور ایک دن آئے گا کہ عورت بجائے انشاءاللہایک لڑکا کی بجاۓ خوشی خوشی دعا مانگے گی کہ انشاء اللہ، ایک لڑکی

Advertisements
julia rana solicitors

آپ اگر ایک اچھے فلم بین ہیں اور آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو آپ نے آج تک کچھ بھی نہیں دیکھا۔ کاش کہ اس فلم کو حکومت وقت پاکستان میں بھی ریلیز کی اجازت دے۔

Facebook Comments

عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply