اسرائیل کے معیار زندگی کا خرچ کون اٹھاتا ہے؟/افتخار گیلانی

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ایک جزیرہ کی مانندہے، جوانفرا سٹرکچر اور معیار زندگی کے حوالے سے ایشیائی پڑوسیوں کے برعکس کسی یوروپین سرزمین کا حصہ لگتا ہے۔ ہلچل سے بھر پور شہر تل ابیب سے غزہ کی سرحد سے متصل شہر نگار سدیرات کی طرف سفر کرتے ہوئے یہودی علاقوں میںریتلے ٹیلوں کے بجائے ہریالی نظر آتی ہے۔ اسی طرح شمال میں جبل الکرمل کے دامن میں حیفہ شہر تو جرمن شہر فرینکفورٹ کی کاپی لگتا ہے۔ فلسطینی آبادی کو اس شہر سے بے دخل کرنے کے بعد جرمنی سے ہجرت کرنے والے یہودیوں نے اسکو ہو بہو اپنے آبائی شہر کی طرز پر از سر نو تعمیر کیا۔ جبل الکرمل، جہاں حضرت الیاسؑ سے وابستہ غار ہے، کی ڈھلانوں پر بہائی فرقہ نے انتہائی خوبصورت باغ تعمیر کیا ہے، جو کشمیر کے شالامار اور نشاط کو شرمندہ کردیتا ہے۔ اس پر انہوں نے ایک روحانی مرکز تعمیر کیا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے مغربی کنارہ کو بس ایک دیوار ہی جدا کرتی ہے۔ مگر یہ دو علیحدہ براعظم لگتے ہیں۔ دیوار کی دوسری طرف فلسطینی بچے دھول مٹی سے کھیلتے ہوئے، پانی حاصل کرنے کیلئے قطاروں میں کھڑے اور سڑک پر گدھا گاڑیاں خراماں خراماں چلتی نظر آتی ہیں۔ مگر اسی دیوار کے پار، اسرائیلی سائڈ میں انتہائی پوش رہائش گاہیں ، پارک اور جدید گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔

ظاہر سی بات ہے کہ اسرائیلی شہریوں کے اس اعلیٰ یوریپین معیار زندگی کی ایک قیمت ہے۔ سوال ہے کہ یہ قیمت کون ادا کرتا ہے؟ کیونکہ اسرائیل کے اکثر شہری تو بھارت اور پاکستان کی طرح مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، جو زندگی کی گاڑی کو کھینچنے اور بچوں کے کریئر کے فراق میں گلتے رہتے ہیں۔ مالدار یورپی شہروں کی طرز پر عوامی خدمات بہم پہنچانے اور اعلیٰ معیار زندگی کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ وسائل امریکی ٹیکس دہندہ کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ امریکی اداروں اور شہریوں میں اب اس پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ کب تک اور کیوں اسرائیل کی نا ز برداری کرکے اس کے شہریوں کے معیار زندگی کا خرچ اٹھائیں گے؟

امریکی کانگریس کی ریسرچ رپورٹوں کے مطابق 1946سے 2023تک امریکہ نے اسرائیل کو 297 ارب ڈالر کی امداد دی ہے۔کونسل فار فارن ریلیشن کے مطابق یہ امدار 310 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اور اس میں 230 ارب ڈالر کی فوجی امداد ہے۔ اس کے مقابلے میں، مصر، جو امداد لینے کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے، کو 167 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جب کہ فلسطین نے 1950 سے اب تک صرف 11 ارب ڈالر وصول کیے ہیں۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مصر کی آبادی 11کروڑ اور اسرائیل کی آبادی 90لاکھ ہے اور اس میں 21فیصد آبادی عرب مسلمانوں کی ہے، انہیں اسرائیلی عرب کہا جاتا ہے۔ پاکستان کو 1947سے 70 ارب ڈالر اور بھارت کو 82 ارب ڈالر کی امریکی امداد موصول ہوئی ہے۔ امریکی مالی امداد اسرائیل کے سالانہ بجٹ کا 3% اور تقریباً ایک فیصد جی ڈی پی کا احاطہ کرتا ہے۔ کل دفاعی بجٹ کا 20% حصہ امریکی امداد پر منحصر ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق نے یہ مالی امداداس کے علاوہ ہے، جو امریکہ اہم اور جدید ٹیکنالوجی، جیسے آئرن ڈوم اور ایرو میزائل ڈیفنس سسٹم کی صورت میں فراہم کرتا ہے۔ مالی سال یعنی 2023 اور 2024کے اوائل میں اسرائیل کو ہوشربا 18ارب ڈالر کی امداد دی گئی، جس میں معیشت کی مضبوطی اور اضافی ملٹری امداد شامل ہے۔ اس امدادی پیکج میں میزائل اور میزائل دفاعی نظام کے لیے 5.2 ارب ڈالر، جدید ہتھیاروں کے لیے 3.5 ارب ڈالر، ہتھیاروں کی پیداوار میں بہتری کے لیے 1 ارب ڈالر اور دیگر دفاعی ساز و سامان اور خدمات کے لیے 4.4 ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ میں جاری اسرائیلی کاروائی کے لیے 2.4 ارب ڈالر مختص کئے گئے ۔ اپریل میں، امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کے لیے 17 ارب ڈالر اور غزہ جنگ کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر فراہم کرنے کا ایک بل منظور کیا، جس میں 3.8 ارب ڈالر کی سالانہ امداد اور 14.5 ارب ڈالر کی اضافی امداد شامل ہے۔

10 سالہ معاہدے کے تحت، امریکہ نے بنیادی طور پر فارن ملٹری فنانسنگ (FMF) پروگرام کے ذریعے 2028 تک اسرائیل کو تقریباً 4 ارب ڈالر سالانہ کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔جن دیگر ممالک کو اس طرح کی امداد دی جاتی ہے، ان کیلئے لازم ہے کہ وہ ان پیسوں سے صرف امریکی کمپنیوں کے بنائے گئے ساز و سامان کو ہی خریدیں۔ مگر اسرائیل کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ اس امداد کا ایک بڑا حصہ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے تیار کردہ آلات خریدنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔کسی بھی ملک کو امریکہ کی طرف سے دی گئی فوجی امداد سخت امریکی قوانین کے ساتھ مشروط ہے جس کے لیے کانگریس کو اطلاع دینے اور ہتھیاروں کے اہم سودوں پر نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح امریکہ نے اسرائیل کے خلاف لیہی قانون کو سختی سے لاگو نہیں کیا ہے، جو ایسی غیر ملکی حکومتوں کو، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرتی ہیں، کو سکیورٹی امداد دینے سے منع کرتا ہے۔

اس امداد کے خلاف اب کئی موثر آوازیں سامنے آرہی ہیں۔کونسل آن فارن ریلیشنز کے سٹیون اے کک اور سابق امریکی سفیر مارٹن انڈیک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی معاشی اور عسکری طاقت کے پیش نظر اس طرح کی مسلسل مالی امداد کا جواز نہیں بنتا۔ امریکہ میں اس بات پر بھی ناراضگی بڑھ رہی ہے کہ اسرائیل سفارتی آداب کو پس پشت ڈال کر انتہائی بدتمیزی کے ساتھ امریکہ کو چڑاتا ہے۔

اسرائیل کی ڈھٹائی کے خلاف اب امریکی محکمہ خارجہ کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ جوش پال جو 11 سال سے زائد عرصے تک محکمہ خارجہ کے بیورو آف پولیٹیکو ملٹری افیئرز کے ڈائریکٹر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ دوسال قبل ایک چیریٹی گروپ کی رپورٹ ان کے محکمہ کے پاس آئی، جس میں یروشلم کی جیل میںبند ایک 13 سالہ فلسطینی لڑکے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جب اپنی سطح پر انکوائری کی تو اس الزام کو درست پایا۔پال نے بطور ڈائریکٹر اسرائیل سے وضاحت طلب کی۔ وضاحت کیا آتی، اگلے دن اس چیرٹی گروپ کے تمام دفاتر پر اسرائیلی فوج نے ریڈ کی اور ان کے تما م کمپیوٹر و دفتری ریکارڑ ضبط کرکے اس کو ایک دہشت گرد گروپ کے بطور نامز د کرکے اس پر پابندی لگادی۔

امریکی فوجی امدادکی ایک وجہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں کوالٹیٹیو ملٹری ایج (QME) فراہم کرنا ہے ۔ یہ قانون، جو 2008 میںامریکی کانگریس نے پاس کیا،ا سکے مطابق اسرائیل کو امریکہ کے جدید ترین فوجی ہتھیاروں اور پلیٹ فارمز تک رسائی کا حق دیا گیا۔ جوش پال جیسے کئی امریکی حکومتی اہلکاروں کے حالیہ استعفوں نے اب صورت حال تبدیل کردی ہے۔ یہ امریکہ اسرائیل تعلقات کے درمیان بڑھتی ہوئی بے چینی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ریاست مشی گن کے شہر ہیم راک کی سٹی کونسل نے حال ہی میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جس کی رو سے شہر میں اب کوئی اسرائیلی مصنوعات بیچ نہیں سکے گا۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو خطے میں امن قائم کرنے اور ایک عام ملک کی طرح رہنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بشکریہ 92 نیوز

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply