• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایم ایف حسین: دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں/معصوم مراد آبادی

ایم ایف حسین: دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں/معصوم مراد آبادی

شہرہ آفاق بھارتی پینٹر   ایم ایف  حسین نے 9 جون 2011کو لندن میں آخری سانس لی اور وہیں کی خاک کا پیوند بھی ہوئے۔ یہ ان کے اختیار میں نہیں تھا کہ کس ملک کی مٹی انہیں نصیب ہوگی لیکن حسین کا خمیر ہندوستان کی سوندھی مٹی سے اٹھا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہندوستانی تہذیب اور اساطیر کی ترجمانی میں گزارا۔ یوں آپ کسی عظیم فن کار کو کسی ملک کی سرحدوں میں قید نہیں کرسکتے۔ حسین نے ہندوستانی آرٹ کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ وہ ملک کے واحد فن کار تھے جن کے فن پارے عالمی بازارمیں سب سے مہنگے داموں پر فروخت ہوتے تھے ۔

ایم ایف حسین کا پورا نام مقبول فدا حسین تھا۔ ان کا اپنا نام مقبول تھا اور وہ اپنے والد فداحسین کے نام کو اپنے نام سے منسلک رکھتے تھے۔ ان کی موت کے بعد اگر انہیں مقبول کے بجائے ’مقتول‘ لکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام جس ذہنی اذیت میں گذارے، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جس عظیم فن کار نے ہندوستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا، اس کے لئے اپنے ہی وطن کی زمین اتنی تنگ کردی گئی کہ اسے مجبوری اورلاچاری میں ایک ایسے ملک کی شہریت اختیار کرنی پڑی جہاں نہ تو اس کی جڑیں تھیں اور نہ ہی تہذیب وتمدن کے نقوش۔ اگر قطر کی حکومت انہیں اپنی شہریت نہ دیتی تو شاید وہ یوں ہی غریب الوطنی میں زندگی کے باقی ایام گذاردیتے۔

فروری 2010میں جب حسین نے دل پر پتھر رکھ کر اپنا ہندوستانی پاسپورٹ واپس کیا تو ہندوستان میں موجود بعض دانشوروں نے کہا تھا کہ حسین کو ہندوستان واپس آکر حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے تھا جب کہ حسین پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ کچھ کم 100سال کی عمر میں میرے اعضاء اس قابل نہیں ہیں کہ میں عدالتوں کے چکر کاٹوں اور قانونی موشگافیوں کامقابلہ کروں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ چند دانشوروں اور صحافیوں کو چھوڑ کر بیشتر لوگوں نے ان حالات کے لئے حسین کو ہی ذمہ دار قراردیا اور ان انتہا پسندوں کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں دکھائی جنہوں نے حسین پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کا الزام عائد کرکے ان پر ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات قائم کردیئے تھے۔ حسین کی بنائی ہوئی جن قلمی تصویروں پر 1996میں واویلا مچا وہ انہوں نے 1970میں بنائی تھیں۔ تب ان تصویروں پر کسی نے لب کشائی نہیں کی تھی۔ اچانک 1996میں ایک ہندی میگزین نے ان قلمی تصویروں کی بنیاد پرحسین کو ہندوؤں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کا ملزم گردانا اور منصوبہ بند سازش کے تحت ان کے خلاف سینکڑوں مقدمات قائم کردئے گئے تاکہ وہ عدالتوں سے سرٹکراکر دم توڑدیں۔

1998میں ممبئی میں ان کے مکان پر حملہ کرکے تہس نہس کردیا گیا اور کروڑوں روپوں کے قیمتی شہ پارے برباد کردیئے گئے۔ کسی فن کار کے لئے اس سے زیادہ تکلیف کا منظر اور کیا ہوسکتا ہے کہ خون جگر سے بنائی ہوئی اس کی پینٹنگز کو مذہبی جنونی اپنے پیروں تلے روند ڈالیں۔ شاید اسی دردناک واقعہ نے حسین کا دل توڑدیا اور انہوں نے ہندوستان کی شہریت چھوڑنے کافیصلہ کیا۔

17 ستمبر 1915میں ہندو ستان کے ایک چھوٹے سے علاقے اندور میں پیدا ہونے والے مقبول فدا حسین کا گھرانہ مذہبی سلیمانی بوہری تھا ،جو داؤدی بوہریوں سے جدا ایک چھوٹا سا فرقہ ہے۔مادری زبان گجراتی تھی۔ مصوری کا شوق مدرسے میں پروان چڑھا۔مدرسے میں حسین پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے بلکہ خطاطی کرتے تھے اور ممبئی کے آرٹ اسکول میں طالب علمی کے دوران ہی فلموں کی ایسی لت پڑی کہ فلموں کے پوسٹر بنانے شروع کردیئے تھے۔جس سے ان کی پڑھائی اور رہن سہن کا خرچہ نکل آتا تھا۔حسین کے والد نے بہت چاہا کہ وہ کاروبار کی طرف مائل ہو جائیں لیکن ان کا رجحان تو پیٹنگ کی طرف تھا۔ وہ دکان پر بیٹھتے تو پنسل سے خاکے بناتے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی آئل پینٹنگ دکان پر ہی بیٹھ کر بنائی۔ ان کے چچا جنہیں یہ دکان ان کے باپ ہی نے بنا کر دی تھی، یہ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور ان کے باپ کو بتایا۔ جب ان کے والد نے وہ تصویر دیکھی تو حسین کو گلے لگا لیا۔ حسین چند دنوں بعد بیندرے صاحب (مشہور مصور) کو اپنے باپ سے ملانے لے گئے۔ بیندرے بھی اندور سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان کے والد کو صلاح دی کہ حسین اچھے مصور بن سکتے ہیں اور انہوں نے یہ بات مان لی۔ حسین خود حیران ہوئے کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ ان کے باپ کے ان الفاظ کے ساتھ حسین کی پیشہ ورانہ فنی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کے باپ نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا ” بیٹا جاؤ اور اپنی زندگی کو رنگوں سے بھر دو۔دادا نے بھی مرتے ہوئے حسین کی مٹھی میں دس روپے ایسے رکھے تھے کہ گویا عمر بھر کا امام ضامن باندھ دیا ہو۔

1934 میں اندور کی ایک سڑک کے کنارے حسین کی پہلی تصویر دس روپے میں فروخت ہوئی تو حسین بے اختیار دادا کی قبر پر دوڑے چلے گئے اور اس کے بعد حسین نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔

ایم ایف حسین نے چار آنے سے ایک کروڑ تیئس لاکھ روپے کمانے تک کا سفر یوں ہی اور آسانی سے طے نہیں کیا بلکہ برسوں کی محنت اور اپنے کام سے لگن کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچے۔جس دور میں وہ فلمی پینٹرہوا کرتے تھے اس وقت چھ بائی دس فٹ کے پوسٹر بنانے کے انہیں صرف چار آنے ملتے تھے۔ اس پر بھی تنگ دستی کا حال یہ تھا کہ ایک بار معاشی حالات کی بہتری کیلئے انہیں ایک فیکٹری میں مزدور کی حیثیت سے کام کرنا پڑا۔ اس فیکٹری میں کھلونے تیار ہوتے تھے۔

ان کی بنائی ہوئی تصاویر کی پہلی باقاعدہ نمائش 1947ء میں لگی۔ پچاس کی دہائی سے وہ ترقی پسند فنکاروں کی صف میں شامل ہوئے۔ 60 کے عشرے سے انہیں ہندستان کا نہایت تجربہ کار اور منجھا ہوا مصور شمار کیا جانے لگا۔ان کا اپنا مخصوص لائف اسٹائل تھا۔ وہ ننگے پاؤں رہاکرتے تھے۔ اپنی گاڑی کو بھی انہوں نے اپنی پسند کے مختلف رنگوں میں خود پینٹ کیا ہوا تھا۔ انہیں ہندوستان کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا جس میں ’پدم بھوشن‘بھی شامل ہے۔ انہیں پارلیمنٹ کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ جس قدر ایوارڈز انہیں ملے،ان کا شمار مشکل امر ہے۔ایک وقت ایسا آیا گویا ان کی شہرت کو پَر لگ گئے ہوں۔ جب یہ شہرت ہندستان کی سرحدوں سے نکل کر بیرون ملک پہنچی تو انہیں ’ہندوستان کا پکاسو‘کہہ کر پکارا جانے لگا۔ اس دوران راگ مالا سیریز کیلئے بنائی گئی ان کی ایک تصویر لندن کے کرسٹیز نیلام گھر میں لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوئی۔انہوں نے بیرون ملک ہندوستان کی ثقافت،کلچراور مذہبی روایات کواپنے انداز میں متعارف کرایا۔ وہ ہندوستان کے ان چند عظیم مصوروں میں سے ایک تھے جن کے بنائے ہوئے شاہکار کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں آسمان چھوتی تھیں۔اپنے انتقال سے صرف چار روز پہلے ہی ان کا ایک شاہکار،جس کا نام انہوں نے ’ہارس اینڈ وومن‘رکھا تھا،لندن میں ایک کروڑ تیئس لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔ان کی 3 پینٹنگس بان ہیم آکشن میں سب سے زیادہ قیمت پر نیلام کی گئیں۔ ان کی آئ

ل پینٹنگ پر 2.32کروڑ روپے قیمت آئی۔ ان کی ایک پینٹنگ جو ایک خاتون اور ایک گھوڑے پر مشتمل تھی، 1.23 کروڑ میں نیلام ہوئی۔ان کے بنے ہوئے فن پارے اور مجسمے لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوئے۔ایم ایف حسین کا شمار ایشیا کے ان امیر ترین مصوروں میں ہوتا تھا جن کے فن پارے مہنگے داموں فروخت ہوتے تھے۔انھیں 1971ء میں عالمی شہرت یافتہ مصور پابلو پکاسو کے ساتھ ساؤپولو میں منعقدہ مصوری میلے میں مدعو کیا گیا تھا جہاں انھیں ’فوربس میگزین‘ نے ”ہندستان کا پکاسو“کے خطاب سے نوازا تھا۔ایم ایف حسین شارٹ فلمیں بنانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
سن 1994 میں جب ان کی نگاہ اداکارہ مادھوری ڈکشت پر پڑی تووہ اس کی خوب صورتی اور حسن کے دلدادہ ہوگئے۔ انہوں نے مادھوری کے ساتھ ’گج گامنی‘کے نام سے ’ٹیل آف تھری‘سیریز بنائی جس میں انہوں نے مادھوری کو اس قدر خوب صورتی کے ساتھ پینٹ کیا کہ نئی نسل میں ان کی وجہ شہرت ہی مادھوری کی پینٹنگز بن گئیں۔ انہیں مادھوری کے فن سے دیوانگی کی حد تک لگاؤتھا۔ انہیں مادھوری کی فلم ”ہم آپ کے ہیں کون“اس قدر پسند تھی کہ 70 مرتبہ اسے دیکھا۔اس سے قبل 1967ء میں انہوں نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنی دستاویزی فلم ’تھرو دی آئیز آف اے پینٹر‘کے لئے ’گولڈن گلوب ایوارڈ‘حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی شارٹ فلمیں بنائیں۔ وہ اپنی لگن اور زبان دونوں کے بڑے پکے تھے۔ نڈر تھے، کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی آپ بیتی بھی شائع ہوچکی ہے۔مقبول فدا حسین فلمی دنیا کو اپنی طرف سے دبئی میں ہندی فلموں کا ایک نہایت وسیع میوزیم بطور تحفہ دینا چاہتے تھے جس کے لئے وہ آخری وقت تک کام بھی کرتے رہے۔

ایم ایف حسین کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اتنی مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود زمین سے وابستہ رہے۔ وہ ایک منکسر المزاج انسان تھے۔ میں نے بارہا انہیں دہلی کی سڑکوں پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے دیکھاہے۔ 80کی دہائی میں حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار سے متصل ایک ڈھابے میں جہاں ہم طالب علمی کے زمانے میں صبح کا ناشتہ کیا کرتے تھے، ایم ایف حسین اکثر چائے پیتے اور اردو اخبار پڑھتے ہوئے نظر آتے تھے۔ حسین اس زمانے میں نظام الدین ویسٹ کی ایک کوٹھی میں مقیم تھے اور صبح کو ٹہلتے ہوئے ہم جیسے عام لوگوں میں آبیٹھتے تھے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ایم ایف حسین کی زندگی برش اور کینوس سے عبارت تھی۔ وہ اسی کو اپنا سرمایہ حیات تصور کرتے تھے۔ یہی ان کا دین بھی تھا اور دنیا بھی۔ حسین کے فن پارے فنون لطیفہ کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جس پر پوری دنیا کو ناز ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنی جلا وطنی کے بعد رنگون میں جو شعر کہاتھا وہی ایم ایف حسین کا بھی المیہ ہے ؎
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے
دوگز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply