سیاست اور عدل/پروفیسر رفعت مظہر

14اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پرایک نئی مملکت وجود میں آئی۔ اِس مملکت کی بنیاد لاالہ الااللہ پر رکھی گئی۔ آج دنیا اِس مملکتِ خُداداد کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ قراردادِمقاصد آئینِ پاکستان کا جزوِلاینفک ہے جس کے مطابق حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ کی اور انسان کے پاس اُس کی نیابت۔ جسٹس حمودالرحمٰن نے اِس قرارداد کے بارے میں کہا “اِسے ابھی تک کسی نے منسوخ نہیں کیا، نہ کسی عہدِ حکومت، فوجی یا سول میں اِس سے انحراف کیا گیا۔ بلاشبہ یہ ہوبھی نہیں سکتا۔ یہ اُن اساسی اصولوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآن میں تقدس حاصل ہے”۔

اب جب کہ یہ طے ہوچکا کہ ارضِ وطن کے تمام اصول وضوابط فرقانِ حمید کے تابع ہوں گے توپھر سیاست کا اِنہی اصولوں کے مطابق ہونا اظہرمن الشمس یہاں مگر سیاست زورآور کے گھر کی لونڈی درکی باندی جبکہ اللہ کایہ فرمان “اُن کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے۔ اِن لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ اِن کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے اُن سے زیادہ تو ہم ہی حکومت کے حقدار ہیں۔ نبی نے جواب دیاکہ اُنہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیاہے اوردماغی وجسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتاہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحبِ علم بھی” (سورۃ البقرہ آیت 247)۔

اِس آیتِ مبارکہ سے ارضِ وطن میں جاری اِس سیاسی فلسفے کی مکمل طور پر نفی ہوتی ہے جس کے مطابق سیاست کے لیے مال ودولت کی فراوانی ہونا کافی نہیں بلکہ علم وحکمت ضروری ہے۔ ہمارے ہاں تو جس کے پاس مال ومنال نہیں اُسے سیاست کابھی کوئی حق نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ کروڑوں روپے صرف کرکے جوشخص قومی یاصوبائی اسمبلی کا رُکن منتخب ہوگا یا سینیٹ کی رکنیت “خریدے” گا، وہ سب سے پہلے تو اپنی انوسٹمنٹ پوری کرے گااور منافع الگ۔ گھٹن کا یہ سارا ماحول اُس کرپٹ اشرافیہ کا پیدا کردہ ہے جو گھُن کی طرح ارضِ وطن کوچاٹ کر کھوکھلا کرنے کے درپے ہے۔ اب بدقسمتی سے ہماری عدلیہ میں بھی ایسے لوگ گھُس آئے ہیں جنہیں وزیرِاعظم میاں شہباز شریف نے “کالی بھیڑیں” کہا ہے۔

ربِ لم یَزل کی عطا کردہ اِس مملکت میں تو عدل کی فراوانی ہونی چاہیے تھی کیونکہ قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں باربار عدل کی تلقین کی گئی اور یہاں تک حکم دیا گیا “کسی قوم کی دشمنی کے باعث عدل کو ہرگز نہ چھوڑو، عدل کرویہ تقویٰ سے بہت زیادہ قریب ہے” (سورۃ المائدہ 8)۔ اسی طرح سوۃ الشوریٰ آیت 15میں فرمایا گیا “مجھے تمہارے درمیان عدل کرنے کاحکم دیا گیا ہے”۔ اِس کے علاوہ بھی کئی سورۃ مبارکہ میں بھی عدل پرزور دیا گیا ہے۔

بدقسمتی مگر یہ کہ ہمارے ہاں اقوامِ عالم کی فہرست میں عدل آخری نمبروں پر۔ پچھلے چند سالوں سے عدلیہ کے فیصلے ایسے جنہیں پڑھ سُن کر لوگ انگشت بدنداں۔ کیا تاریخِ عالم میں کوئی ایک نظیر بھی ایسی ملتی ہے کہ کسی عادل نے ملزم کو اُن کیسز میں بھی ضمانت دے دی ہو جو ابھی درج بھی نہیں ہوئے؟ کیا تاریخِ عدل میں کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کی خاطر عادل آئین ہی سے انحراف کردے؟ جسٹس منیرسے لے کر جسٹس عمر عطا بندیال تک ہماری تاریخ ایسے ہی متنازع فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔

اسی عدلیہ نے ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی کاحکم دیا، بعد میں اُسی بنچ کے جسٹس نسیم حسن شاہ نے اعتراف کیا کہ بھٹو کی سزائے موت فوج کے دباؤ کا نتیجہ تھی۔ آج عدلیہ اعتراف کررہی ہے کہ بھٹو بے گناہ تھے۔ سوال مگر یہ کہ اُس بنچ کو کیا سزا دی گئی جس نے یہ متنازع فیصلہ کیا۔ کیا اُن کی قبروں پر یہ کتبے لگائے گئے کہ یہ جج بددیانت تھے؟ 1999ء میں آمرپرویز مشرف نے منتخب وزیرِاعظم میاں نوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹا۔

میاں صاحب کے خلاف طیارہ اغوا کیس درج ہوا اور اُنہیں عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ یہ ایسا عجیب وغریب طیارہ اغوا تھا کہ اغوا کنندہ زمین پر اوراغوا شدہ طیارہ فضاؤں میں۔ بعدازاں میاں صاحب کو پورے خاندان سمیت ملک بدر کردیا گیا۔ جب 2013ء میں میاں نوازشریف تیسری مرتبہ وزیرِاعظم منتخب ہوئے تو اُنہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر پرویزمشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کرایا۔

اِس کیس کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پرتین رُکنی خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا۔ اِس بنچ کی سربراہی پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقاراحمد سیٹھ نے کی جبکہ بقیہ 2 اراکین میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم شامل تھے۔ اِس خصوصی بنچ نے پرویزمشرف کو سزائے موت کاحکم دیا۔ خصوصی بنچ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس کی تین رکنی بنچ نے سماعت کی جس کی سربراہی جسٹس مظاہرعلی نقوی نے کی اور دیگر ارکان میں جسٹس امیربھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل تھے۔ اِس بنچ نے محض 3 سماعتوں کے بعد خصوصی بنچ کی سزاکا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

اب جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 4رُکنی بنچ نے خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کا فیصلہ برقرارکھا ہے جبکہ پرویزمشرف کی طبعی موت ہوچکی اور جسٹس مظاہرعلی نقوی کو بدعنوانی میں سپریم کورٹ سے نکالا جاچکا۔ یہ بجاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مستحسن مگرکیا مظاہرنقوی کی سربراہی میں کیا گیا فیصلہ عدلیہ کے دامن پر دھبہ نہیں؟ 2017ء کے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے 5رُکنی بنچ جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کررہے تھے، نے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دیا۔ 6جون کو نیب کیس میں جسٹس اطہرمِن اللہ کے سوال کے جواب میں عمران خاں کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ طاقتور اداروں کی جے آئی ٹی کے باوجود میاں نوازشریف

کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوسکا تھا۔ میاں نوازشریف تو بے گناہ ثابت ہوچکے اور مسلم لیگ نواز کی سربراہی بھی اُنہیں واپس مل گئی۔ سوال مگریہ ہے کہ کیااُن جسٹس صاحبان کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہوگی جنہوں نے انتہائی غیرمنصفانہ فیصلے کے تحت میاں نوازشریف سے نہ صرف وزارتِ عظمیٰ چھینی بلکہ اُنہیں تاحیات نااہل بھی کیا۔

آج بھی ہماری اعلیٰ عدلیہ کے کئی جسٹس صاحبان کا واضح جھکاؤ عمران خاں کی طرف ہے حالانکہ وہ مجرم ثابت ہونے پر سزا کاٹ رہے ہیں۔ نیب ترامیم کیس میں جسٹس اطہرمِن اللہ عدالتی کارروائی براہِ راست دکھانے پر زور دے رہے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ براہِ راست کارروائی میں عمران خاں کے چاہنے والے اُن کا خطاب سُن سکیں لیکن بنچ کے بقیہ 4 ارکان نے براہِ راست کارروائی کے خلاف فیصلہ دیا جس پر جسٹس اطہرمِن اللہ کا یہ اختلافی نوٹ سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی عام قیدی نہیں۔ اُن کی پیشی کو لائیو دکھانا قانون کی خلاف ورزی نہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بجا مگر جب وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے اور میاں نوازشریف کی میڈیا پر مکمل پابندی تھی تب کچھ صحافی اس پابندی کے خلاف جسٹس صاحب سے ملے جن کا جواب تھا کہ نوازشریف کی تقاریر پر پابندی سے کوئی حقوق متاثر نہیں ہوئے۔ کیا عدل کا یہی پیمانہ ہے؟

Facebook Comments

پروفیسر رفعت مظہر
" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی بات قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر (کالج سیکشن)میں ملازمت کی آفر ملی تو ہم بے وطن ہو گئے۔ وطن لوٹے تو گورنمنٹ لیکچرار شپ جوائن کر لی۔ میاں بھی ایجوکیشن سے وابستہ تھے ۔ ان کی کبھی کسی پرنسپل سے بنی نہیں ۔ اس لئے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزاری ۔ مری ، کہوٹہ سے پروفیسری کا سفر شروع کیا اور پھر گوجر خان سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ لیکن “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ لایور کے تقریباََ تمام معروف کالجز میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں گزرا۔ درس و تدریس کے ساتھ کالم نویسی کا سلسلہ بھی مختلف اخبارات میں جاری ہے۔ . درس و تدریس تو فرضِ منصبی تھا لیکن لکھنے لکھانے کا جنون ہم نے زمانہ طالب علمی سے ہی پال رکھا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ پرہیز کیا لیکن شادی کے بعد میاں کی گھُٹی میں پڑی سیاست کا کچھ کچھ اثر قبول کرتے ہوئے “روزنامہ انصاف“ میں ریگولر کالم نگاری شروع کی اور آجکل “روزنامہ نئی بات“ میں ریگولر دو کالم “قلم درازیاں“ بروز “بدھ “ اور “اتوار“ چھپتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply