کتابی محبت/حمیرا علیم

” یہ دیکھو دوبئی سے فہد یہ سیٹ لائے ہیں میرے لیے۔”

نمرہ کی سہیلی رابی نے اسے واٹس ایپ پر ڈائمنڈ کا نازک سا سیٹ دکھاتے ہوئے اطلاع دی تو اس کا دل بجھ سا گیا مگر رابی کی خوشی کی خاطر اسے مبارک باد دی۔

بہت خوبصورت ہے ماشاءاللہ۔فہد بھائی تم سے کتنا پیار کرتے ہیں نا ,جب کہیں جاتے ہیں واپسی پر تمہارے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لاتے ہیں۔ اور ایک میرے میاں ہیں ان کے لیے تو بیوی صرف جسمانی تسکین کا ذریعہ ہے۔اس کی نہ کوئی خواہش ہوتی ہے نا جذبات۔تحفہ دینا تو دور کی بات ,کبھی پیار سے بات بھی نہیں کرتے۔  اس نے حسرت سے سوچا۔

رابی سے باتیں کر ہی رہی تھی کہ اس کے ایک سالہ بیٹے عویم نے رونا شروع کر دیا۔” اچھا رابی میں تم سے پھر کسی دن بات کروں گی ,عویم رو رہا ہے اسے فیڈ کروانا ہے پھر لنچ بھی بنانا ہے۔  یہ کہہ کر اس نے کال ڈراپ کی۔عویم کو دودھ پلا کر اس کی کاٹ میں سُلانے کے بعدوہ اوپروالی منزل سے نچلی میں گئی اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔

نمرہ کے شوہر احمر اور ان کے بھائی محمد دونوں لاہور میں والدین کے آبائی گھر میں رہتے تھے۔والدین کا انتقال ہو چکا تھا ۔دو بہنیں شادی شدہ تھیں اور اسی شہر میں مقیم تھیں۔احمر بڑے تھے نمرہ کے ساتھ ان کی شادی کو پندرہ سال ہو چکے تھے۔ان کے دو بیٹے بارہ سالہ جنید ، ایک سالہ عویم اور دو بیٹیاں آٹھ سالہ خولہ اور پانچ سالہ جویریہ تھیں۔محمد اور عالیہ کے تین بچے دس سالہ صارم، سات سالہ گوہر اور پانچ سالہ شیماتھے۔دونوں بھائی والد کا بزنس سنبھالتے تھے۔بزنس اچھا چل رہا تھا اس لیے گھر کے خرچے کی کوئی تنگی نہ تھی۔گھر بھی خاصا کشادہ اور ہر سہولت سے آراستہ تھا۔ احمر اوپری منزل میں مقیم تھے اور محمد نچلے میں۔

دونوں بھائیوں کا خیال تھا کہ موجودہ دور کے حالات کے پیش نظر گھر میں کوئی کام والی نہ رکھی جائے۔لہذا عالیہ اور نمرہ اپنے اپنے پورشنز کے سارے کام خود ہی کرتی تھیں۔جب کبھی عالیہ کی طبیعت خراب ہوتی، جو کہ اکثر خراب ہی رہتی تھی، نمرہ کو اس کے گھر کے کام بھی کرنے پڑتے تھے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اتنے کام کر کے وہ تھک جاتی تھی۔اور کبھی کبھار احمر سے کہہ دیتی:” احمر پلیز کوئی میڈ رکھ لیں نا ،مجھ سے دونوں پورشنز کے کام نہیں ہوتے۔” جس پر احمر غصہ میں آ جاتے:” کام ہی کتنا ہوتا ہے مگر تم بس سستی کرتی ہو یا شاید عالیہ کا کام کرنا نہیں چاہتی۔دیکھو جوائنٹ فیملی میں مل جل کر سب کام کرتے ہیں۔

یہ سن کر نمرہ دل میں کہتی:” مگر عالیہ تو کبھی میرے کام نہیں کرتی ،میں مر بھی رہی ہوں تو کبھی اسے توفیق نہیں ہوتی کہ میرے بچوں کو روٹی ہی بنا دے۔خود آئے روز بہانہ کر کے بستر پر پڑی رہتی ہے اور موبائل پر گیمز کھیلتی رہتی ہے یا سہیلیوں سے گپیں ہانکتی رہتی ہے۔اور میں عویم کو بھی سنبھالوں دونوں پورشنزکی صفائی بھی کروں۔سب کے لیے کھانا بھی بناؤں ، کپڑے دھوؤں استری کروں۔کسی کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ میری ذرا سی مدد ہی کر دے۔اُلٹا ہر وقت سُستی کے طعنے ملتے رہتے ہیں۔”

عالیہ ان عورتوں میں سے تھی جو شوہر کو مٹھی میں کرنے کا فن جانتی ہیں اور شوہر ان کی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں ۔چنانچہ نہ صرف محمد بلکہ احمر بھی عالیہ کے گن گاتے رہتے تھے حالانکہ اسے سوائے بننے سنورنے کے کوئی کام نہ تھا۔گھر کا سارا کام نمرہ ہی کی ذمہ داری تھی، مگر جب احمر اور محمد آفس سے رات کو گھر آتے تو عالیہ ان کے سامنے کچھ یوں باتیں کرتی جیسے سب کچھ اسی نے کیا ہو۔” لیجئے نا احمر بھائی یہ جلفریزی میں نے بنائی ہے۔چکھ کے بتائیے کیسی بنی ہے۔” اور نمرہ تو صدمے سے گنگ ہی ہو جاتی کہ جس جلفریزی پر اس نے اتنی محنت کی تھی اس کا سارا کریڈٹ عالیہ لے گئی۔اور احمر ہر نوالے پر اس کی تعریف کرتے:” واہ عالیہ بہت ذائقہ ہے تمہارے ہاتھ میں۔نمرہ تم بھی عالیہ سے کچھ سیکھ لو بھئی۔” اور نمرہ بے چاری کی تو ساری بھوک ہی اڑ جاتی۔

” ایسے کبھی میری تعریف تو نہیں کی انہوں نے۔” نمرہ کی ککنگ اور بیکنگ سارے خاندان میں مشہور تھی سب اس سے فرمائشیں کر کر کے کھانے ، کیک، کوکیز اور دیگر چیزیں بنواتے تھے۔واحد اس کے شوہر ہی تھے جنہوں نے کبھی تعریف کرنا تو دور کی بات اس کے کھانے کھا کر یہ بھی نہیں کہا تھا کہ مزہ آ گیا۔الٹا انہیں کبھی نمک زیادہ تو مرچیں کم لگتی تھیں۔مگر اسی کے ہاتھ کی بنی ڈشز جب عالیہ اپنے ہاتھ سے بنی شو کرتی تو احمر زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے تھے۔

سارا دن کپڑے دھو کے جب وہ سوکھے کپڑے عالیہ کے لاؤنج میں رکھ کر واپس آتی تو اسے عالیہ کی آواز کان پڑتی :” محمد ڈئیر آج تو کپڑے دھو دھو کے تھک گئی۔نمرہ بھابھی کے بھی سارے کپڑے مجھے ہی دھونے پڑے وہ تو عویم کے بہانے سارا دن بستر توڑتی رہتی ہیں۔سارے گھر کا کام ، کھانا بنانا سب بچوں کو پڑھانا مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔پلیزآج پیٹزا آرڈر کر دیں نا!” اور محمد نے جھٹ سے فون اٹھا کر پیٹزا آرڈر کردیا۔نمرہ کا جی چاہا دروازہ کھول کر جائے اور عالیہ کے جھوٹ کا پول کھول دے مگر خون کے گھونٹ پی  کر چپ ہو گئی۔کیونکہ جانتی تھی عالیہ اسے ہی جھوٹا ثابت کر دے گی اور پھر گھر میں طوفان برپا ہو جائے گا۔

اسے عالیہ کی اس مکاری پر غصہ بھی آتا تھا اور حیرت بھی ہوتی تھی کہ وہ کیسے یہ سب کر لیتی ہے۔زندگی دن بدن اس کے لیے مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔وہ جب احمر سے کچھ کہنا چاہتی احمر اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیتا۔اور وہ دل مسوس کر رہ جاتی۔

بچوں کو امتحانات کے بعد چھٹیاں ہوئیں تو اس کے بھائی اسے لینے آ گئے۔” احمر بھائی امی کہہ رہی تھیں کہ بچوں کو چھٹیاں ہیں تو نمرہ اور بچوں کو بھیج دیجیے، باقی سب بہن بھائی بھی آ گئے ہیں۔” احمر کو یہ پسند نہیں تھا کہ وہ کہیں بھی جائے حتی کہ اپنے والدین کے گھر بھی۔اور اس بات سے سب واقف تھے اسی لیے اس کی امی نے بڑے بھائی کو بھیجا تھا کیونکہ جانتی تھیں احمر انہیں انکار نہیں کرے گا۔اور یہی ہوا احمر نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔وہ خوشی خوشی بھائی کے ساتھ امی کے ہاں پہنچی تو سب اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔بہنوں نے گلہ کیا:” تم تو بس اپنے گھر کی ہی ہو کر رہ گئی ہو کبھی یہ نہیں ہوتا کہ بہنوں کی طرف بھی چکر لگا لو۔فون بھی کئی کئی ماہ نہیں کرتیں، ہم کریں تو مختصر بات کر کے بند  کر دیتی ہو۔احمر نہیں آئے؟” وہ مسکراتی رہی جب بہن بھابھیوں نے سوال کر لیے تو اس نے جواب دیا:” ہاں مصروفیت تو بہت ہوتی ہے اسی لیے نہ تو کہیں جا سکتی ہوں نہ ہی فون پر لمبی بات کر سکتی ہوں۔اور یہ عویم تو اتنا تنگ کرتا ہے کہ بس۔ میں نہیں آتی تو آپ سب کون سا آ آ کر تھک گئے ہیں۔  سب اسے دیکھ کر بہت خوش تھے کیونکہ وہ ان کی چھوٹی اور لاڈلی بہن تھی۔امی نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے مشورہ لیا:” بچو! میں سوچ رہی ہوں کل مصباح کو درس کے لیے بلا لوں۔تم سب کا کیا خیال ہے؟” مصباح ان کے ہمسائے میں رہتی تھیں اور ایک ادارے سے منسلک تھیں جو قرآن و فقہ کا علم دیتا تھا ان کی والدہ اکثر گھر پر مصباح کے دروس کا اہتمام کرتی رہتی تھیں تاکہ سب کو دین سے آگاہی ہوتی رہے۔اور ان کے درس ہوتے بھی اس قدر ہلکے پھلکے انداز کے کوئی بور نہیں ہوتا تھا اور بہت کچھ سیکھنے کو بھی مل جاتا تھا۔لہذا سب نے امی کے خیال کی تائید کی۔تو انہوں نے مصباح کو کال کر کے مدعو کر لیا۔جب مصباح نے آنے کی حامی بھر لی توامی نے انہیں کہا:” اب تم سب بچیاں مل کر چائے کا اہتمام کر لینا تاکہ درس کے بعد سب کچھ ریفریشمنٹ لے لیں۔میں محلے کی خواتین کو فون کر کے درس کی اطلاع دے دیتی ہوں۔” نمرہ اس کی بہنوں اور بھابھیوں نے مل کر کچھ اسینکس بنا لیے ۔لاؤنج صاف کر کے اس میں چادریں بچھا کر خواتین کے بیٹھنے کا انتظام کیا۔بزرگ خواتین کے لیے صوفے سیٹ کر دئیے گئے۔رات کو سب کھانا کھا کر جلدی سو گئے کیونکہ صبح دس بجے درس کا آغاز ہونا تھا۔

صبح بھابھیوں نے ناشتہ بنا کر سب کو اٹھایا تو نمرہ بہت شرمندہ ہوئی:” ارے بھابھی آپ مجھے اٹھا دیتیں میں ناشتہ بنانے میں آپ کی مدد کر دیتی۔رات کو عویم کی طبیعت ذرا خراب تھی تو نہ وہ خود سویا نہ مجھے سونے دیا اس لیے میری آنکھ نہیں کھلی۔” ” ارے گڑیا ! اس میں شرمندہ ہونے والی کیا بات ہے۔تم گھر پر بھی سارے کام کرتی ہو اور یہاں آ کر بھی کام میں لگی رہو تو امی کے گھر آنے کا فائدہ۔ہم ہیں نا کام کے لیے۔تم بس بچوں کو تیار کر کے لے آؤ ، سب تیار ہے۔ویسے بھی جب ہم امی کے گھر جاتے ہیں تو خوب آرام کرتے ہیں اس لیے تم بھی انجوائے کرو۔

بڑی بھابھی کے کہنے ہر اس نے انہیں پیار کیا اور کمرے کی طرف چلی گئی۔وہ بھابھیوں کی مشکور تھی اور اللہ کی شکر گزار کے اللہ نے اسے بالکل بہنوں جیسی بھابھیاں دی تھیں جو اس کا اور اس کے سب گھر والوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ناشتے کے بعد ان سب نے مل کر کچن سمیٹا اور کپڑے تبدیل کر کے لاؤنج میں چلی گئیں۔کچھ دیر بعد ساری خواتین اور مصباح بھی پہنچ گئیں۔ مصباح نے درس کا آغاز کیا:” میں نے سوچا خواتین کی محفل ہے تو آج کیوں نا ازدواجی زندگی کے بارے میں قرآن و سنت سے جانیں کہ اللہ رسول نے عورت اور مرد کو کیا حقوق و فرائض دئیے ہیں۔” یہ سن کر نمرہ خوش ہوئی کہ چلو آج اس کی الجھنیں بھی دور ہو جائیں گی۔مصباح نے ایک گھنٹے کے درس میں قرآن و حدیث کے حوالوں سے بہت اچھی طرح ازدواج کے حقوق و فرائض بیان کیے۔پھر خواتین سے کہا:” اگر کسی کو کوئی سوال کرنا ہے تو پوچھ لیجئے۔” بہت سی خواتین نے اپنے مسائل بیان کیے مصباح نے انہیں بہت اچھے مشورے دئیے۔پھر باتوں کے دوران چائے پی اور سب اپنے گھروں کو رخصت ہو گئیں۔جب مصباح نے اس کی والدہ سے اجازت چاہی:” اچھا آنٹی اب مجھے بھی اجازت دیجئے گھر جا کر بچوں کو کھانا بھی دینا ہے ۔” تو نمرہ نے اس سے پوچھا:” مصباح باجی مجھے کچھ سوال پوچھنے ہیں کیا آپ کل کسی وقت مجھے کچھ وقت دے سکتی ہیں؟” ” ہاں ہاں نمرہ جب چاہو آ جانا۔بلکہ ایسا کرو کل شام کی چائے تم میرے ساتھ ہی پینا۔ یہ کہہ کر وہ بھی اپنے گھر چلی گئیں۔

دوپہر کے کھانے کے بعد اس کے بھائی نے پروگرام بنایا:” کیوں نا آج ذرا لاہور ایکسپلور کیا جائے بچوں کو واہگہ بارڈر دکھایا جائے۔” بچے تو یہ سن کر شور مچانے لگے خواتین بھی خوش ہو گئیں۔”چلو پھر سب تیار ہو جاؤ اور گاڑیوں میں بیٹھ جاؤ۔” بڑے بھائی کے حکم پر سب تیار ہو کر گاڑیوں کی طرف بھاگے تو بڑی بھابھی کو یاد آیا:” پہلے بتاتے تو کچھ کھانا وغیرہ بنا لیتے۔” ” کیا ضرورت ہے بھئی بازار سے سب ملتا ہے۔رستے میں مارکیٹس ہیں جو خریدنا ہے اظفر کو بتا دینا۔”انہوں نے چھوٹے بھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔تو اظفر نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی:” جی جس جس کو جو جو کھانا ہے مجھے لسٹ پکڑا دے میں سارا سامان لے کر پہنچ جاؤں گا۔” بڑی بھابھی نے بچوں کے لیے اسنیکس اور فروٹس جوسز جب کہ بڑوں کے لیے کھانے کی لسٹ بنا کر اظفر کو دے دی۔اس کی بہنیں اپنے بچوں اور میاں کے ساتھ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئیں تو بھتیجے بھتیجیاں بھی کزنز کی کمپنی انجوائے کرنے کے لیے ان کے ساتھ سوار ہو گئے۔نمرہ اور اس کے دو بچے بڑے بھائی بھابھی کے ساتھ چلے گئے جب کہ اظفر اپنی بیگم کے ساتھ مارکیٹ نکل گیا۔

سب نے خوب انجوائے کیا اور رات گئے گھر واپس آئے۔سب تھکے ہارے تھے لہذا سو گئے۔صبح پھر معمول کے مطابق ناشتہ کیا گیا اور یہ پروگرام بنایا گیا کہ رات کو باری کیو کیا جائے۔کام کچھ خاص نہیں تھا اس لیے نمرہ نے سوچا کیوں نا ابھی مصباح کی طرف چلی جائے۔چنانچہ اس نے بچے اپنی بڑی بہنوں کے حوالے کیے اور خود مصباح کے گھر چلی گئی۔بیل کی آواز پڑ مصباح نے ہی دروازہ کھولا تو نمرہ نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا:” سوری مصباح باجی میں جلدی آ گئی۔دراصل شام میں کچھ کام ہے تو میں نے سوچا ابھی آپ سے مل لوں۔آپ مصروف ہیں تو میں بعد میں آ جاؤں گی۔

ارے نہیں بھئی کوئی مصروفیت نہیں۔بچے گھر پر ہی ہیں تو ذرا لیٹ ناشتہ کیا ہے ابھی میں فارغ ہی ہوں تم آجاؤ۔” وہ اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندر گئیں۔واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں ڈرائی فروٹس کی ٹرے تھی۔”ناشتہ تو تم بھی کر ہی چکی ہو گی اس لیے اب ان سے منہ کا ذائقہ بدل لو۔انہوں نے اسے پلیٹ پکڑاتے ہوئے کہا تو اس نے شکریہ کے ساتھ پلیٹ واپس رکھ دی:” نہیں مصباح باجی ابھی تو بالکل بھی گنجائش نہیں۔ پھر آؤں گی تو ضرور لوں گی۔ابھی بس کچھ سوالات ہیں اگر آپ ان کے جواب دے دیں تو میں مشکور ہوں گی۔” مصباح نے جواب دیا:” کوشش کروں گی باقی اللہ خیر کرے۔تم بتاؤ کیا مسئلہ ہے۔”

دراصل باجی آپ کو تو معلوم ہے میری شادی کو اتنا عرصہ ہو گیا ہے۔مگر میرے شوہر نے کبھی نہ تو اظہار محبت کیا ہے نہ ہی کسی ایونٹ کو سیلیبریٹ کرتے ہیں۔نہ تحفے دینے کاشوق ہے نہ گھومنے پھرنے کا۔بچوں کو تو پھر کہیں نہ کہیں لے ہی جاتے ہیں مگر میرے ساتھ کہیں نہیں جاتے۔حتی کہ امی کے گھر بھی نہیں آتے۔اب بھی دیکھیے نا میرے دونوں بہنوئی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ امی کے ہاں ساری چھٹیاں گزاریں گے خوب ہلہ گلہ کریں گے۔مگر میں بڑی مشکل سے ایک ہفتے کی اجازت لے کر آئی ہوں۔خود بھی کہیں نہیں آتے جاتے اور مجھے بھی اجازت نہیں کہ کسی سے ملوں یا کہیں آؤں جاؤں۔” اس کے کہنے پر مصباح نے لائٹ موڈ میں کہا:” یہ تو اچھا ہے نا تم امی کے گھر خوب آزادی سے رہو ،نہ میاں کی دیکھ بھال کا جھنجھٹ نہ ہی ان کی ڈانٹ کا ڈر۔” اس پر نمرہ بھی مسکرا دی۔” مصباح باجی ! جب میں دوسری خواتین کے شوہروں کو دیکھتی ہوں کہ کیسے وہ ان کے آگے پیچھے پھرتے ہیں، رومینس کرتے ہیں ان کی فرمائشیں پوری کرتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں تو مجھے بھی دل کرتا ہے کہ میرے شوہر بھی میرے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھیں۔ مگر وہ تو میرے لیے کبھی گجرے تک نہیں لائے۔” اس نے تاسف سے کیا:” کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں کسی گناہ میں نہ مبتلا ہو جاؤں۔” یہ سن کر مصباح نے چونک کر اسے دیکھا:” ہمم! تو یہ بات ہے۔دراصل تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم لوگوں کے ظاہر کو جانتی ہو اور اسی کے مطابق معاملہ کرتی ہو۔یقین مانو جن خواتین اور جوڑوں کی ازدواجی زندگی تمہیں بڑی آئیڈیل لگ رہی ہے نا درحقیقت ان کی زندگی اور تمہاری زندگی میں انیس بیس کا ہی فرق ہے۔بس کچھ لوگ اپنی نجی زندگی کو دوسروں کے سامنے نہیں لاتے اور لوگوں کے سامنے ڈرامہ کرتے ہیں کہ سب اچھا ہے۔

تمہارا مسئلہ جہاں تک میں سمجھ سکی ہوں یہ ہے کہ تمہارا دماغ ان ڈائجسٹس اور خواتین ناولسٹس کے ناولز نے خراب کر دیا ہے۔جو ایک ایسی خیالی دنیا دکھاتی ہیں جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔مگر لڑکیاں انہیں آئیڈیلائز کر کے اپنی زندگیاں خراب کر لیتی ہیں۔

وہ اپنی کہانیوں میں جوائنٹ فیملی میں ڈھیر سارے کزنز کو خوب انجوائے کرتے شو کرتی ہیں۔جن میں سے کچھ کو بڑی طوفانی قسم کی محبت ہو جاتی ہے اور وہ پوری دنیا سے لڑ کر شادی کر لیتے ہیں پھر فیری ٹیل جیسی زندگی گزارتے ہیں۔مگر گڑیا اصل زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔جوائنٹ فیملی سسٹم میں زندگی بڑی مسائل بھری ہوتی ہے۔اور وہ محبت جس میں نا محرم سے بات چیت ہو، نازنخرے اٹھائے جائیں تحائف دئیے جائیں، لانگ ڈرائیو پر لے جایا جائے ، سینما میں مووی دیکھی جائے، کینڈل لائٹ ڈنر کیا جائے یہ بھی سب شادی سے پہلے کے چونچلے ہوتے ہیں شادی کے بعد صرف  چند  ماہ تک محبت رہتی ہے پھر ایک دوسرے کی خامیاں سامنے آنے لگتی ہیں تو محبت بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔بچوں کے بعد توجہ اور محبت کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔والدین اپنی ذات پر بچوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔”
” مگر باجی میری سہیلیوں کے میاں تو ان کے ساتھ یہ سب شادی کے بعد بھی کرتے ہیں۔تو میرے شوہر کو کیا مسئلہ ہے؟” نمرہ نے ان کی بات کاٹ کر بے تابی سے سوال کیا تو مصباح نے سمجھایا:” میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ایسا نا ممکن ہے بہت سے کپل اچھی زندگی گزارتے ہیں ان میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا خیال رکھتے ہیں۔مگر اکثریت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔اور یقین مانو کوئی اگر تم سے سچ بولے اور اپنی اصل زندگی کے بارے میں بتائے تو ہر کپل کو الگ طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم ذرا رومینٹک ہو جبکہ تمہارے میاں سنجیدہ طبیعت کے مالک ہیں۔ویسے تم نے کبھی ان سے اس بارے میں بات کی ہے؟” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو نمرہ بولی:” جی کئی بار۔میں جب انہیں اس بارے میں کچھ کہتی یوں تو وہ کہتے ہیں بچوں والی باتیں مت کرو۔بڑی ہو جاؤ۔کیا اپنے شوہر سے محبت کی توقع رکھنا گناہ ہے بچکانہ پن ہے۔اگر میں اپنے شوہر سے محبت نہ چاہوں۔اظہار کی امید نہ رکھوں تو کس سے رکھوں؟ ان کے نزدیک میرا مصرف صرف یہ ہے کہ جب انہیں ضرورت ہو وہ اپنی تسکین کریں اور منہ پھیر کر سو جائیں۔کیا میاں بیوی کا رشتہ صرف اس حد تک ہی ہوتا ہے؟میں خوبصورت ہوں جوان ہوں میرے بھی جذبات ہیں۔آج اگر میں کسی مرد کو اشارہ کردوں تو وہ میرے لیے کیا کچھ نہیں کرے گا ؟” مصباح چند لمحے خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئیں:” دیکھو اب جو باتیں میں تمہیں کہنے لگی یوں شاید تمہیں ناگوار گزریں مگر میری بات سمجھنے کی کوشش کرنا۔فرض کرو تمہارا شوہر تمہارے مطالبات پورے نہیں کرتا۔اور تم کسی نا محرم سے بات چیت شروع کر دیتی ہو جو تمہاری بات غور سے سنتا ہے۔تمہیں توجہ دیتا ہے۔چوبیس گھنٹے تمہارے لیے دستیاب ہے۔تمہیں محبت بھرے ڈائیلاگ سناتا ہے۔تحائف دیتا ہے۔پھر کیا ہو گا؟ تم تو اتنے میں خوش ہو مگر مرد جسمانی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ کیا تم اس کی خواہش پوری کر دو گی؟ فرض کرو تم خلع لے کر اس دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ہو گناہ میں مبتلا نہیں ہوتی ۔اس صورت میں تمہارے شوہر بچے تمہیں نہیں دیں گے تو کیا تم بچوں کے بغیر رہ لو گی؟ تمہارے اس فیصلے میں تمہاری فیملی تمہارا ساتھ دے گی؟” نمرہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:” میں احمر کو چھوڑنا نہیں چاہتی بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ بھی دوسرے کپلز کی طرح میرے ساتھ نارمل زندگی گزاریں۔جیسے میرا دیور اپنی بیوی کے ساتھ گزار رہا ہے۔وہ دن کو رات کہے تو محمد کبھی اسے جھٹلاتا نہیں ہے۔ ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھتا ہے۔احمر بھی تو اسی کے بھائی ہیں وہ ایسے کیوں نہیں؟” نمرہ جھنجھلا رہی تھی۔

” دیکھو نمرہ تم لوگ پانچ بہن بھائی ہو کیا سب کی نیچر ایک جیسی ہے؟نہیں نا۔ایسے ہی احمر بھی محمد سے مختلف ہے۔پھر یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ دوسرے کا منہ لال دیکھ کر اپنا تھپڑ مار مار کو سرخ کر لیا جائے۔اگر کوئی بظاہربہت آئیڈیل زندگی گزار رہا ہے، بظاہر اس لیے کہہ رہی ہوں کہ ہر شخص کی اپنی آزمائشیں ہوتی ہیں جو دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں۔کچھ کو جوائنٹ فیملی کے مسائل ہوتے ہیں، کچھ کو مالی، کچھ کے بچے نہیں ہوتے، تو کچھ مرد نہ پیسہ دیتے ہیں نہ عزت اور مارپیٹ بھی کرتے ہیں، نشہ کرتے ہیں دوسری عورتوں سے تعلقات رکھتے ہیں۔تم بتاؤ کیا احمر تمہیں پیسے نہیں دیتا، بچوں کا خیال نہیں رکھتا ان کی فی، دیگر ضروریات تمہارے نان نفقے لین دین میں کمی کرتا ہے؟ تم پر ذہنی یا جسمانی تشدد کرتا ہے؟ اس کی کوئی گرل فرینڈ ہے؟”
نمرہ نے فوراً جواب دیا:” نہیں اللہ کا شکر ہے۔گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ہر چیز گھر لا کر دیتے ہیں کبھی کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔تشدد تو دور وہ تو بات بھی کم کم ہی کرتے ہیں۔اور گرل فرینڈ یا نشے جیسی خرافات میں نہیں پڑتے وہ۔”

” تو اور کیا چاہتی ہو تم؟ اتنا اچھا شوہر ملا ہے تمہیں۔ دین ہر عمل پیرا تمہارا اور بچوں کا ہر لحاظ سے خیال رکھنے والا یہ تو آئیڈیل مرد ہوا نا۔رہ گئی بات رومینٹک نہ ہونے کی تو ہر شخص کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔وہ تمہیں زندگی کی ہر آسائش دے کر تم سے اظہار محبت کرتا ہے۔” ” باجی مجھے لگتا ہے کہ ان کی جو پہلی لو میرج ہوئی تھی نا اور وہ بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کر گئی تھیں اور بچہ بھی فوت ہو گیا تھا۔تو شاید یہ اپنے ارمان ان کے ساتھ پورے کر چکے ہیں۔اب انہیں کوئی خواہش ہی نہیں لیکن میرا بھی تو دل ہے نا میرے بھی تو کچھ خواب ہیں نا۔” نمرہ نے جھجھک کر بتایا تو مصباح بولیں:” ایسا نہیں ہے۔اگر وہ خاتون زندہ ہوتیں تو شاید وہ بھی تمہارے والے خیالات رکھتیں۔تم سے انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور اب تم اور بچے ہی ان کا سب کچھ ہو۔بس مرد اظہار کے معاملے میں بہت ایکسپریسیو نہیں ہوتے۔اگر وہ کسی اور عورت میں انوالو ہوتے تو تم یہ کہہ سکتی تھیں کہ صرف تمارے ساتھ ان کا رویہ روکھا پھیکا ہے۔جب تم جانتی ہو کہ ان کی زندگی میں واحد عورت تم ہو تو پھر یہ بچکانہ پن ہی ہے نا کہ تم ان کی محبت کو دیکھ نہیں پا رہی۔

میرے پاس ایسی خواتین بھی آتی ہیں جو خود لاکھوں کماتی ہیں گھر اور باہر کے کام بھی کرتی ہیں مگر شوہر اور سسرال ایک روپیہ نہیں لینے دیتے حتی کہ وہ اپنے بچوں پر بھی خرچ نہیں کر سکتیں۔کچھ کے شوہر مارتے ہیں غلط کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بیوی بچوں کا خرچہ بھی نہیں دیتے۔کچھ مالی طور پر ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو دوسری عورتوں کےبساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔یا دوسری شادی کر کے پہلی بیوی بچوں کو بھول جاتے ہیں۔کچھ شادی کے دوسرے دن بیرون ملک جا بیٹھتے ہیں پیچھے بیوی سسرال کی نوکر بن کر رہتی ہے نہ خرچہ نہ میاں کا ساتھ پھر بھی رہ رہی ہوتی ہیں۔وجوہات ہر ایک کی مختلف ہوتی ہیں۔کبھی والدین فیملی کا ساتھ نہ ہونا، کبھی مالی وسائل گھر نہ ہونا، کبھی معاشرتی دباو اور اکثر بچوں کی وجہ سے ہر چیز برداشت کرتی ہیں۔بہت سی خواتین جب برداشت نہیں کر پاتیں تو خلع لے لیتی ہیں جاب کرتی ہیں بچوں کے لیے لڑتی ہیں انہیں پالتی ہیں۔کچھ دوسری شادی بھی کر لیتی ہیں مگر ایسی بہادر خواتین جو یہ قدم اٹھائیں کم ہی ہوتی ہیں۔کیونکہ یہ تو تم بھی جانتی ہو کہ خلع یا طلاق کی صورت میں ہمارا معاشرہ عورت کو کیسے ٹریٹ کرتا ہے۔اس لیے عورت سوچتی ہے باہر بھی خوار ہونا ہے، مردوں کی گندی نظریں برداشت کرنی ہیں۔لوگوں کے طعنے سہنے ہیں۔کمائی کے لیے پاپڑ بیلنے ہیں تو کیوں نہ ایک مرد ہی کو ہی سہہ لیں شاید بچے بڑے ہوں تو ہماری آزمائش ختم ہو جائے۔اللہ کا شکر ہے تمہارے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے تم ہر لحاظ سے آرام میں ہو۔

ذرا سا خود کو بدل لو کچھ احمر کے ساتھ وقتاً فوقتا ً بات کر کے اس کو بدلنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالی ٰ بہتر کرے گا۔ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھنے کی عادت ڈالو۔بچوں کے ساتھ دل لگاؤ۔ کتابیں پڑھو۔علما  کے لیکچرز دیکھو۔قرآن حدیث کے آن لائن کورسز کرو۔اپنی پسند کی ایکٹیویٹیز میں مصروف رہو۔اگر گھر کا کام اور بچوں کو سنبھالنا مشکل لگتا ہے تو احمر سے کہو کوئی میڈ رکھ دے۔عالیہ اور محمد کو بٹھا کر ان سے بات کرو کہ اپنے بچوں اور پورشن کے کام ہی تم بمشکل کر پاتی ہو ،عالیہ خود اپنے گھر کے کام نہیں کر سکتی تو وہ میڈ رکھ لے۔اس طرح تم پر کام کا بوجھ کم ہو گا تو جسمانی و ذہنی تھکن بھی کم ہو گی۔بعض اوقات انسان کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں کہ تم کوئی میڈ رکھ لو۔اگر مناسب سمجھو اور احمر مان جائے تو کسی عالم اور میرج کونسلر سے بھی رجوع کرو۔

Advertisements
julia rana solicitors

اور یاد رکھو تم اپنی وقتی تسکین کے لیے کسی حرام میں مبتلا ہو بھی گئیں تو سکون نہیں پاؤ گی۔ اللہ تعالیٰ  کو کیا جواب دو گی۔کل کو تمہارے بچوں کو تمہارے اس فعل کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ کیا سوچیں گے؟ ہر پہلو کو ذہن میں رکھ کر کوئی فیصلہ کرنا۔خدانخواستہ وہ شخص تمہیں بلیک میل کرنے لگے تو کیا کرو گی؟ ٹی وی پر ایسے کیسز تو دیکھتی رہتی ہو نا؟” نمرہ نے خوف سے جھرجھری لے کر کہا:” اللہ نہ کرے باجی یہ تو کبھی کبھار مجھے یہ سوچ آتی ہے ورنہ میں ایسا کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ کا بہت شکریہ۔میں آپ کی باتوں پر ضرور عمل کروں گی۔آپ بھی میرے لیے دعا کیجئے گا۔اچھا اب میں چلتی ہوں آپ کا بہت وقت لے لیا میں نے۔” مصباح نے اسے گلے لگا کر پیار کیا:” میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔اگر احمر رومینٹک نہیں تو تم خود اس کے ساتھ محبت بھری باتیں کیا کرو۔کبھی ٹیکسٹ کر دو۔کوئی تحفہ دے دو۔گھر میں ہی اس کی پسند کا کھانا بنا کر اسے سرپرائز دو۔ ایسے طریقے ڈھونڈو جس سے وہ تمہارے ساتھ کھل کر اظہار کرے۔شاید اسے بھی تم سے بہت سی شکایتیں ہوں۔اس سے بات کرو کیونکہ بات کرنے سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے ورنہ دوریاں بڑھتی جاتی ہیں۔اللہ تمہیں بہت سی خوشیاں اور سکون دے۔” نمرہ وہاں سے ایک نئے عزم کے ساتھ نکلی:” میں مصباح باجی کی نصیحتوں پر ضرور عمل کروں گی۔”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply