فلسطینی زراعت و تعمیرات/منصور ندیم

برطانیہ نے سنہء 1922 میں فلسطین پر قبضہ کیا تھا، بدقسمتی تھی کہ اس سے پہلے بھی فلسطین پر ترکوں کا قبضہ تھا، ایک قبضے کے بعد دوسرے قابض تو آگئے، مگر برطانوی عہد میں ہمارے ہاں کے بعد ہمارے ہاں برصغیر کے کچھ لوگوں نے فلسطین میں اسفار کیے (جن میں باچا خان اور کرنل محمد خان کا نام خصوصی  طور پر شامل ہے، بدقسمتی سے انہوں نے فلسطینیوں کے لئے بہت گمراہ کن خبریں پیش کی تھیں)۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ فلسطین کو زراعت و تعمیرات کی ڈیولپمنٹ میں برطانیہ نے بہت کچھ دیا، حالانکہ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ برطانیہ جو ایک نوآبادیاتی ملک تھا، اور وہ جس ملک پرقابض ہورہا تھا، وہاں ایک نوآبادکار کیسے ایسے پتھروں کی عمارتیں بناسکتے تھے۔

جب برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا تو اس نے مشرق وسطیٰ میں بہترین فلسطینی فنِ تعمیر کو منہدم اور تباہ کرنے کا کام ضرور کیا تھا، وہیں پر برطانیہ کی ملکہ نے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنے شوہر سے کہا تھا کہ مجھے فلسطین اور قاہرہ کے گھروں جیسا گھر بنا دو ۔ یہ نوٹ ان لوگوں کے لئے ہے جو ان اسفار کو پڑھ کر اپنی رائے بناتے ہیں کہ وہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ فلسطینی تہذیب اور ترقی برطانیہ کے دور میں موجود نہیں تھی، جس برطانیہ نے سنہء 1922 میں فلسطین پر قبضہ کیا تھا، اس سے پہلے سنہء 1900 میں فلسطین کے شہر جافا میں یہ جرمن قونصل خانے کی تصویر ہے، یعنی برطانوی قبضے سے 22 سال قبل یہ بہترین تعمیراتی عمارت جافا میں موجود تھی۔

Advertisements
julia rana solicitors

فلسطینی زراعت کا یہ عالم تھا کہ فلسطینی مالٹوں کی ایک قسم کا اتنا شہرہ تھا کہ ملکہ وکٹوریہ اپنے ناشتے کی میز پر سنہء 1897 میں جافا کے ان مخصوص مالٹوں کی اس قسم کی منتظر رہتی تھیں۔ یہ مالٹوں کی قسم عرب میں “شموتی” کے نام سے معروف تھی جسے “ام البرتقال” بھی کہا جاتا تھا، برطانوی قبضے سے پہلے فلسطین سے یہ باقاعدہ یورپ کی منڈیوں میں ایکسپورٹ کئے جاتے تھے۔
نوٹ:
1- پہلی تصویر آرکیوز سے لی ہے، انٹرنیٹ سے بآسانی سرچ کی جا سکتی ہے، جہاں سنہء 1900 میں یہ شاندار عمارت جو بطور جرمنی کونسل خانہ فلس-طین جافا میں موجود تھی۔
2- دوسری تصویر My Promised Land کتاب کے صفحے کی ہے، جسے Ari Shavit نے لکھا تھا، یہ کتاب بتاتی ہے کہ اس وقت برطانیہ میں فلسطینی مالٹے کس قدر مقبول تھے۔
3- فلسطینی زراعت پر میں پہلے بھی کئی پوسٹ لکھ چکا ہوں۔
4- میرا مقصد صرف تاریخی حقائق لکھنا ہوتا ہے، اگر کسی کو اختلاف ہو تو دلیل سے اختلاف کرسکتا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply