• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • نابینا افراد کیلئے خوشخبری؛پہلے مصنوعی قرنیہ ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ

نابینا افراد کیلئے خوشخبری؛پہلے مصنوعی قرنیہ ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ

انگلینڈ کا پہلا مصنوعی قرنیہ ٹرانسپلانٹ کامیاب قرار دیدیا گیا۔ جس کے تحت 91 سالہ مریض فارلی کی بینائی بحال ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق مسٹر فارلے سمیت دنیا بھر میں اب تک صرف 200 افراد کو EndoArt لگایا گیا ہے، لیکن امید ہے کہ اسے زیادہ وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پول اور ان کے ساتھی ہینبن لی نے دو ماہ میں چار مریضوں کو کامیابی سے مصنوعی قرنیہ نصب کیا ہے اور ابتدائی نتائج سے بینائی میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ 20 سال میں ہمیں انسانی قرنیہ کی ضرورت نہیں رہے گی۔

قرنیہ کیا ہوتا ہے؟

آنکھ کی پتلی کا سامنے کا شفاف حصہ، جسے قرنیہ کہتے ہیں کسی بھی چوٹ حادثے یا کسی موروثی وجہ سے خراب ہونے پر انسان کو نابینا کر دیتا ہے مگر سرجری کے ذریعے نیا قرنیہ لگا کر بینائی کو واپس لایا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں اندھے پن کا شکار ہونے والے ایک کروڑ افراد میں سے آدھے سے زیادہ لوگوں کی آنکھ کی روشنی قرنیہ میں پڑنے والے نقائص کی وجہ سے چلی جاتی ہے۔

یاد رہے ان ملکوں میں جہاں قرنیہ کے عطیات دینے اور انھیں محفوظ رکھنے کے بینک موجود ہیں قرنیہ کی بیماریوں اور نقائص کا علاج کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور انسانی عطیہ کئے ہوئے قرنیہ اندھے پن کا شکار لوگوں میں ٹرانسپلانٹ یا لگا دیئے جاتے ہیں۔لیکن انسانی آنکھ کے عطیات اتنی بڑی تعداد میں جمع نہیں ہوتے کے ساری دنیا میں اندھے پن کا شکار لوگوں کا علاج کیا جا سکے۔

مصنوعی قرنیہ کیا ہے؟

مصنوعی قرنیہ کا موازنہ کانٹیکٹ لینس سے کیا گیا ہے۔ یہ آلہ، جو قرنیہ کے اندرونی حصے کی جگہ لے لیتا ہے، ایک ہی ٹانکے کے ذریعے آنکھ کے ساتھ جراحی سے جوڑا جاتا ہے۔ اسے EndoArt کہتے ہیں۔

پاکستان میں کتنے لوگ قرنیہ کے منتظر ہیں؟

پاکستان میں پندرہ سے بیس لاکھ لوگ قرنیہ بلائنڈ ہیں جو اپنا علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔

سب سے زیادہ قرنیہ عطیہ کرنے والا ملک

سری لنکا دنیا میں آنکھوں کا عطیہ کرنے کے لیے مشہور ہے اور ہر سال متعدد ملکوں کے ہزاروں نابینا افراد کو آنکھوں کے ٹشوز یا قرنیہ کے عطیات بھیجتا ہے۔

سری لنکا سے آنکھوں کے عطیات حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک پاکستان ہے جہاں سالانہ دو ہزار کے لگ بھگ نابینا افراد کو عطیے میں حاصل ہونے والے قرنیہ سے بینائی ملتی ہے۔

سب سے پہلا مصنوعی قرنیہ آپریشن کہاں ہوا؟

Advertisements
julia rana solicitors

2010 میں سوئیڈن میں لیباٹری میں مصنوعی طریقے سے پہلی دفعہ تیار کردہ قرنیہ امپلانٹ کیا گیا تھا جس سے دس افراد کی بینائی بحال کرنے میں بڑی حد تک مدد ملی۔ سوئیڈن کی لنکوپنگز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مے گریفتھ اور ان کی ٹیم نے یہ قرنیہ ایجاد کیا تھا۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply