اشرافیہ کے مغالطے /ڈاکٹر مختیار ملغانی

والٹیئر کے اس بیان کو غیر ضروری شہرت حاصل ہوئی کہ اگر خدا موجود نہیں بھی ہے تو اسے گھڑ لینا چاہیئے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ خدا اگر نہیں بھی ہے تو اس کے تراشنے سے فائدہ یہ ہوگا کہ عوام الناس کو آسانی سے قابو کرتے ہوئے معاشرے میں نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے گا ،یہاں وہ اشرافیہ سے مخاطب ہیں جو عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں، گویا کہ اشرافیہ کے ہاتھ میں یہ اقتدار خدا کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ یہاں وہ کسی ایسے قانون، وجود یا فکر کو پروموٹ کرنے کا کہہ رہے ہیں جس کی مدد سے سماج کو انارکی سے بچایا جا سکے چاہے اس قانون ، وجود یا فکر پر مقتدر حلقے یقین نہ بھی رکھتے ہوں ۔ ان کا یہ بیان ایک بڑے مغالطے پر مبنی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر اشرافیہ خود کسی چیز پہ دل و دماغ سے یقین نہیں رکھتی لیکن درمیانے اور غریب طبقے کو اس پہ راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ یقین کہ عدم موجودگی میں آپ کا بیانیہ کبھی بھی ثمر بار نہیں ہو سکتا اور وہ بھی ایسے میں جب سماج کے درمیانے اور غریب طبقے کا درجۂ حرارت مذہبی ہے۔

جب تک اشرافیہ کا خدا کی ذات/قانون پہ ایمان تھا تب تک کم از کم ضمیر کی خلش کو پرکھنے کا ایک پیمانہ ان کے پاس موجود تھا، اب خدا کے وجود سے انکار کرتے ہوئے صرف دکھاوے کیلئے اس کے ہونے کا اقرار کرنا ہے تو ضمیر کا جواز کہیں گم ہوگیا اور اشرافیہ کمزور ہو رہی، پہلے عوام الناس کا استحصال کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی حد ضرور موجود تھی کہ جس سے تجاوز کی ضمیر اجازت نہ دیتا، انسانی سطح پر برابری کا کوئی تکلف ضرور برسر پیکار تھا، اب اس عوام کو قربانی کے اس بکرے جیسا تصور کیا جاتا ہے جسے ایک طرف تو پیار سے سہلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کی گردن مارنے کے منصوبے ذہن میں چل رہے ہیں، کیونکہ قصائی اور قربانی کے درمیان کہیں کوئی برابری کا پہلو موجود نہیں ۔

والٹیئر کا یہ بیان اشرافیہ کیلئے وقتی فائدے کا باعث ضرور ہے لیکن طویل المدتی نکتۂ نگاہ سے یہ طریقہ سماج کی بربادی کا باعث ہے۔

بات کو سمجھنے کیلئے ہم سماج کو ایک برج سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کی سب سے نچلی سطح بظاہر ایک بھدے اینٹوں کے ڈھیر سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتی لیکن اسی برج کی آسمان سے باتیں کرتی چوٹی معمار کی مہارت کا شاہکار معلوم ہوتی ہے، برج کی چوٹی اور اس کی تہہ کے درمیان کئی دوسری تہیں اور سطحیں موجود ہیں جن کے باہمی تعلق سے ہی اس برج کو استحکام حاصل ہے، چوٹی کو اگر آسمانوں سے اعلیٰ فکر و فہم کے اشارے مل رہے ہیں تو اینٹوں کی نچلی ترین سطح زمین سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہونے کی وجہ سے زیر زمین خزانوں کی امین ہے، ان دو کے درمیان کئی درمیانہ سطحوں کی بدولت معلومات اور توانائی کا مسلسل تبادلہ ہی ان کی پائیداری کی علامت ہے، بالکل ایسے ہی جیسے سر اور پیروں کے درمیان خون کی رسد توانائی اور معلومات کے تبادلے کیلئے ضروری ہے، ایسے میں اگر سر خود کو دھڑ سے علیحدہ تصور کرے تو دونوں کی اہمیت کسی گلے سڑے گوشت سے زیادہ نہیں رہتی۔ دونوں میں ہم آہنگی اور باہمی انحصار لازم و ملزوم ہیں۔
کسی بھی سماج میں اشرافیہ، جو کہ برج کی چوٹی اور وجود کا سر ہے، اگر خود کو دھڑ یا نچلی سطح سے علیحدہ تصور کرنے پر مصر رہے تو دونوں کا انجام موت ہے، توانائی اور معلومات کی رسد کٹ جائے تو اشرافیہ باقی دھڑ کو گوشت کا لوتھڑا سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ قصائی جیسا سلوک کرنے سے نہیں کترائے گی، یہاں دو بڑی غلط فہمیاں اشرافیہ کو لاحق ہوتی ہیں،
ایک یہ کہ انہیں لگتا ہے کہ طاقت کے زور سے وہ دھڑ یا نچلی تہہ کو دبا کر خود کو پائیدار رکھ سکتی ہے ، اور دوسرا یوں کہ عوام الناس سے اس کا فہم چھین کر انہیں غلام بنایا جا سکتا ہے۔

اشرافیہ جب عقل و سیاسی علوم سے دشمنی پالے تو ایسے ہی تصور ذہن میں اٹھتے ہیں، مینیپولیشن بعض اوقات سماج کی ساکھ کیلئے ضروری بھی ہوتی ہے لیکن اس کے استعمال کیلئے عقل و مہارت کی ضرورت ہے، اشرافیہ اگر اس بارے محتاط نہیں تو یہ دونوں کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

فہم کشی کو لے کر سادہ سی بات یہ ہے کہ عوام الناس کے فہم کو چھیننا ممکن نہیں کہ عوام ایسے کسی بھی تکلف سے عاری ہوتی ہے، جارج آرویل کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کو چاہئے کہ سماج کو مکمل طور پر ذہنی آزادی میسر کرے، سماج کی ذہنی سطح اتنی نہیں کہ وہ اشرافیہ کی جگہ لے سکے اسی لئے رائے عامہ پر پابندی صرف اضطراب کا باعث بنے گی۔

دوسرا ہتھیار طاقت کا استعمال ہے، یہ رائے بالکل غلط ہے کہ طاقت سے حق کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا، بالکل دبایا جا سکتا ہے، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ طاقت کسی ایسی مستحکم فکر پر کھڑی ہو جس پہ وہ خود بھی یقین رکھتی ہو ، والٹیئر کے اس معروف بیان کے بعد اشرافیہ اس مستحکم یقین سے عاری ہو رہی اور اب وہ کھوکھلی طاقت کی حامل ہے جس سے حق کو دبانا ممکن نہیں ۔ ویسے بھی روتے بچے کو چپ کرانے کیلئے طاقت کا استعمال کارگر نہیں، یہاں مینیپولیشن کی مہارت چاہیئے ۔

اشرافیہ جب تک یہ یقین رکھتی تھی کہ وہ خدا/آسمانی قانون کے منتخب افراد ہیں جنہیں اقتدار کی نعمت دوسروں اور اپنی بھلائی کیلئے عطا کی گئی تب تک سماج میں ہم آہنگی موجود تھی، نظام چل رہا تھا، اس یقین کے چھن جانے سے اب عوام ان کیلئے بھیڑ بکریوں سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتے ، نشاۃ ثانیہ اور ریفارمیشن کے بعد مغرب اپنے کئی مغالطوں سے رجوع کرتے ہوئے عوام الناس کی زندگیوں میں بہتری لا سکنے میں کامیاب ہوا ہے، یقین چاہے خدا کی ذات پر نہ ہو لیکن کسی قانون، آئین یا انسانیت پر ایک اجماع ضرور ہے جو اشرافیہ اور عوام کو ایک دھاگے سے باندھے ہوئے ہے، ہماای بدقسمتی کہ ہم کسی بھی تحریک یا تاریخی و سماجی تبدیلی میں سے چن چن کر انہی عناصر و آراء کو فروغ دیں گے جو صرف بربادی کی طرف لے جاتے ہیں ۔

سماج کا ہجوم خود کبھی بھی تبدیلی یا انقلاب لانے کا حامل نہیں ہوتا، یہ صرف چیخ و پکار کر سکتے ہیں، پہلے یہ کام تھڑوں پہ بیٹھ کے کیا جاتا تھا، اب سوشل میڈیا اس پلیٹ فارم کا کام دے رہا ہے۔ ہجوم کسی انقلاب کو نکل کھڑا ہو اس کیلئے کسی ایسی طاقت کا ہونا ضروری ہے جو انہیں کسی ایک فکر پر منظم کر سکے جو کہ ہمارے ہاں ناپید ہے، چھوٹے موٹے جو کئی گروہ ہمارے اردگرد ایسے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں، انہیں مقتدرہ کی طرف سے کھلی اجازت اس لئے ہے کہ یہ گروہ پریشر ککر کی گیس نکالے میں مدد گار ہیں جس سے دباؤ کم ہوجاتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

سماج میں بڑی تبدیلی اسی صورت ممکن ہے جب کوئی مناور کسی ایسی فکر کو لے کر آگے آئے جس پہ وہ خود بھی یقین رکھتا ہو اور اسی فکر کی رسد کو وہ سر تا پا اس برج میں منتقل کر سکے ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply