پاکستان چھوڑنے کا مشورہ/آغر ندیم سحر

یہ 2013ء کی بات ہے، میں نے سائپرس کے لیے سٹڈی ویزہ اپلائی کیا، دو ماہ میں ویزہ لگ گیا مگر میری حب الوطنی آڑے آ گئی اور یوں میں اوورسیز پاکستانی بنتے بنتے رہ گیا۔ پھر پانچ سال قبل مجھے ایک عزیز دوست نے دبئی شفٹ ہونے کا مشورہ دیا، ویزے کے اخراجات بھی برداشت کرنے کی حامی بھر لی، میں نے پاسپورٹ بھی ری نیو کروا لیا مگر جانے کیا سوجھی، عین وقت پر میرا ارادہ بدل گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہجرت کی اذیت سے بچ گیا۔

دو سال قبل عرب ملک کے ایک معروف پاکستانی اسکول نے بطور اردو استاد ملازمت کی آفر کی، تنخواہ بھی پاکستان سے بہت معقول تھی مگر جانے کیوں اس مرتبہ بھی دل نے پاکستان چھوڑنے کی اجازت نہ دی، سوچا زندگی کے جتنے بھی سال بچے ہیں، اپنوں کے درمیان گزارے جائیں، پاکستان سے باہر جانے والے پھرعمر بھی واپس نہیں آ سکتے۔ دوسرے ممالک کی شہریت لینے والے جسمانی طور پر واپس آ بھی جائیں تو ان کے دل وہاں رہ جاتے ہیں، وہ پاکستانی ہو کر بھی پاکستانی نہیں ہوتے۔ میں ایسا نہیں بننا چاہتا تھا، میں ہر طرح سے پاکستانی ہی رہنا چاہتا تھا، سوچتا تھا کہ جب رازق یہاں وہاں ایک ہی ہے توپھر روٹی کے لیے ہجرت کیاکرنی۔

میرے اوورسیز دوست آج بھی اس بات پر مصر ہیں کہ مجھے پاکستان چھوڑ دینا چاہیے، ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کچھ عرصہ پہلے ہجرت کر لی، وہ فائدے میں رہ گئے، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف امیر ترین لوگوں کے لیے قابلِ سکون جگہ ہے، ایک غریب اور متوسط آدمی کے لیے پرسکون زندگی محض ایک خواب ہے۔ میں ان دوستوں کی بات کو ہمیشہ نظر انداز کرتا رہا، ملک چھوڑنے پر انھیں تنقید کا نشانہ بناتا رہا، ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتا رہا مگر حیف صد حیف آج میں بھی ان کا ہم زباں ہوگیا۔

آج جب میں اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ میں پاکستان چھوڑنا چاہتا ہوں تو وہ میرا مذاق اڑاتے ہیں، مجھ پر ہنستے ہیں، مجھے پاکستان کی وہ تصویر دکھاتے ہیں جس پر میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ میں آج بھی چاہتا ہوں کہ انھیں پاکستان کی ایک مثبت تصویر پیش کروں، انھیں سمجھاؤں کہ اچھا برا وقت آتا رہتا ہے، اپنا گھر اپنا ہی ہوتا ہے، اسے چھوڑنا دانش مندی نہیں۔ مگر کیا کروں، اب میرے وطنِ عزیز کی تصویر اس قدر دھندلی اور داغ دار ہو چکی ہے کہ میں شدید خواہش کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کو وطن واپس آنے کا مشورہ نہیں دے سکتا، مہنگائی، لاقانونیت اور سیاسی و معاشی غنڈہ گردی نے اس ماحول کو اس قدر افسردہ اور درد ناک بنا دیا ہے کہ اسے بہتر ہوتے ہوتے شاید صدیاں لگ جائیں، شاید ہماری نسلیں کوئی بہتر صورت حال دکھ سکیں، اپنی زندگی میں بہتری کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دو سال سے پاکستان جن کرائسز سے گزر رہا ہے، غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی، امیروں کی عیاشیوں اور شہ خرچیوں کا بوجھ عام آدمی پر ڈالنے والوں نے ایک مرتبہ بھی نہیں سوچا کہ یہ “بندگانِ ذلیل”کہاں جائیں گے، ان کے پاس نہ تو دوہری شہریت ہے اور نہ ویزے کے پیسے، یہ بے چارے رکشہ کا کرایہ تک نہیں دے سکتے، دوسرے ملک کا ٹکٹ کیسے ادا کریں گے۔ عام آدمی کی زندگی کو جبر کا نشانہ بنانے والوں نے اپنے خاندانوں کو تو یورپ، امریکہ، دبئی اور اسٹریلیا کے جزیروں میں شفٹ کر لیا مگر حب الوطنی کا راگ الاپنے والا متوسط آدمی مار دیا گیا، زندہ درگور کر دیا گیا، اس کی نسلوں کو مقروض کرنے والوں نے ایک مرتبہ بھی اس ملک کا نہیں سوچا، ایک مرتبہ بھی بھوک سے خودکشی کرنے والوں کے بارے میں نہیں سوچا۔

گزشتہ دو سالوں میں ایک لاکھ سے زائد نوجوان ملک چھوڑ چکے، وجہ کیا ہے، یہ نوجوان اس ملک سے اس قدر مایوس کیوں ہوئے، اس مایوسی کا الزام کس کے سر جانا چاہیے، کیا میرے ملک کے مقتدر اور طاقتور حلقے یہ الزام اپنے سر لیں گے؟ ان ایک لاکھ نوجوانوں نے یہ ہجرت اپنی مرضی سے نہیں کی بلکہ انھیں یہاں سے نکالا گیا، کون سا ملک ہے جو اپنا قیمتی اثاثہ باہر بھیجتا ہے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں لیتے ہیں اوراپنے لوگوں کو تڑپتا چھوڑ کر دوسروں ملکوں کی خدمت کو نکل پڑتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سب میرے ان “دور اندیش دانش وروں”نے کیا جن کی اپنی حب الوطنی صرف نوکریوں تک ہوتی ہے، جن کی حب الوطنی پانچ سالہ سیاسی اقتدار تک ہوتی ہے، افسوس ہے وہی لوگ غریب آدمی کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

آج اگر میں پاکستان چھوڑنا چاہتاہوں تویہ فیصلہ میں نے ایک دن میں نہیں کیا، میرے جیسے لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر بھی مایوس ہیں، انھیں لگتا ہے کہ اگر ہم پاکستان میں رہیں گے تو ہم بھوکے مر جائیں گے، ہماری نسلیں دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں گے، میرے سمیت لاکھوں نوجوانوں کو لگتا ہے کہ جو ملک غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کی زندگیاں آسان بناتا ہے، اس ملک کو خیر باد کہہ دینا ہی دانش مندی ہے۔ جس ملک کا نوجوان ایمان داری سے ٹیکس دے کر بھی تعلیم، صحت اور انصاف جیسی بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہا ہو، اسے اس ملک کو جلد از جلد چھوڑ دینا چاہئے، اس سے پہلے کہ اس کی نسلیں صاف پانی کو ترس جائیں، اسے کسی ایسے ملک کا انتخاب کر لینا چاہیے جہاں ٹیکس دے کر افسوس نہ ہو، جہاں محنت کا صلہ پورا پورا ملتا ہو۔

Advertisements
julia rana solicitors

میں اپنے اوورسیز دوستوں اور شاگردوں کو ہمیشہ سمجھاتا تھا کہ ملک نہ چھوڑیں، اگر ایک مرتبہ آپ پاکستان سے نکل گئے، کبھی واپس نہیں آسکیں گے، پاکستان سے جانے والوں کی صرف لاشیں واپس آتی ہیں، وہ خود نہیں آتے۔ پیسہ کمانے والی مشین بننے سے بہتر ہے کہ اپنوں کے درمیان زندگی گزاریں، روکھی سوکھی کھالیں مگر گھر نہ چھوڑیں، یورپ و امریکہ کی شہریت لے کر بھی آپ دوسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں، یہاں کم سے کم ایسا نہیں ہے۔ مگر صد حیف پاکستان کی موجودہ زبوں حالی کے بعد میرے خیالات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں، اب میرے شاگرد اور دوست جب مجھ سے مشورہ مانگتے ہیں، میں انھیں سب سے پہلے پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیتا ہوں، ایسا کیوں ہوا، کیسے ہوا، کب ہوا، یہ سب آپ جانتے ہیں، کاش مقتدر حلقے بھی اس اذیت ناک کہانی کو سمجھ جائیں۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply