• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تحریک تحفظ آئین پاکستان: خدشات اور توقعات/شمس الرحمن غرشین

تحریک تحفظ آئین پاکستان: خدشات اور توقعات/شمس الرحمن غرشین

دنیا کے اکثر جمہوری ممالک میں جب سیاسی افراتفری اور معاشی عدم استحکام حد سے بڑھ جاتا ہے اور عوامی سمندر کے ٹھہرے ہوئے پانی میں جب اُبال پیدا ہو جاتا ہے تو وہاں کے ادارے اور حکومت حالات کو راہِ راست پر لانے کے لیے عوام سے رجوع کرتے ہیں، اور صرف شفاف انتخابات ہی کو اکسیر اعظم سمجھ کر سارے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور یوں ممالک معاشی گرداب میں دھنس جانے کی بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ یا اگر ایسا تاثر بھی قائم ہو جائے کہ ہم جس راستے اور سوچ پر گامزن ہیں اس سے چین اور استحکام نہیں ملے گا تو حزب اختلاف کی جماعتیں جمہوریت بحالی یا معاشی استحکام کی تحریکیں شروع کر دیتی ہیں۔ نتیجے میں منتخب حکومت ہوش کے ناخن لے کر نا  صرف اپنا سیاسی قبلہ درست کرلیتی ہے بلکہ گرینڈ ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کو ٹھکانے لگا دیتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا معرض وجود میں آنے سے آج تک اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے ماضی سے سبق سیکھا ہے ،نہ سیاسی افراتفری، معاشی بے چینی اور دستور پاکستان کو پے در پے حملوں سے بچانے کی صدق دل سے تدبیر نکالی ہے۔ ویسے تو سیاسی تاریخ کی اوراق گردانی سے جمہوریت بحالی کی تحریکوں کا پتہ تو چلتا ہے لیکن ان کی کامیابی کے بارے میں حتمی دعویٰ اس لیے نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مسلسل تیزی کے ساتھ ساتھ اداروں کی تنزلی، سیاسی بے چینی، معاشی عدم استحکام اور عام آدمی کے حالات ابھی تک جوں کے توں ہے۔

پاکستان میں جمہوریت بچاؤ کی جتنی تحریکیں، ایوبی اور ضیائی مارشل لاء کے خلاف جمہوریت بحالی کی تحریکوں سے لے کر پی ڈی ایم پارٹ ٹو تک کا سفر بھی کسی منزل پر پہنچنے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ ان تحریکوں میں انقلاب کے گُن   وقتی طور پر کانوں کو بھلے لگتے ہیں لیکن بعد ازاں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام  ٹھہرتے  ہیں، اس ناکامی کی بنیادی وجہ جمہوری سوچ اور آئینی اصولوں پر متفق ہونے کی بجائے اشتراک اقتدار کا وہ فارمولا ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت کے تمام علمبردار سیاست دان اقتدار اور وزارتوں کی بندر بانٹ کو مال غنیمت سمجھ کر جمہوری اصولوں سے انحراف اور موروثی سیاست پروان چڑھانے کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے غیر آئینی اقتدار کو طوالت دینے کے لیے غیر جمہوری قوتوں کو بھی اس حمام میں ننگے ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ نتیجتاً ہم گول دائرے میں ایک چکر مکمل کرنے کے بعد واپس پہلی پوزیشن پر پہنچ پاتے ہیں۔

20 ستمبر 2020 کو اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی حکومت میں بے لگام مہنگائی، جمہوری اصولوں سے انحراف، اظہار آزادی پر قدغن، انسانی حقوق کی پامالیوں اور  فوج کی سیاست میں روز بروز بڑھتی مداخلت کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی بنیاد رکھی، مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کیے، بھر پور عوامی اجتماعات منعقد کیے اور بالآخر نو اگست 2022 کو عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران حکومت کا دھڑن تختہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اپوزیشن اکٹھ کی جانب سے شہباز شریف ملک کے سیاہ و سفید کے  مالک بن گئے۔ یعنی ایک بار پھر نظام اور سوچ بدلنے کی بجائے چہرے تبدیل ہوگئے اور عوام کی زندگی میں رتی برابر فرق آنا تو درکنار، عوام الناس کی حالت بتدریج بدترین ہونے لگی، مہنگائی 13 فی صد سے 28 فی صد پر پہنچ گئی، ڈالر کو پَر لگ گئے، میڈیا کا گلہ گھونٹا گیا، نامور صحافی شہید اور لاپتہ ہوگئے، سیاسی مخالفین پابندِ سلاسل کردیے گئے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ مسلسل دفعہ  144کے نفاذ سے سیاسی جماعتوں کے حقوق متاثر ہوئے، اور غیر جمہوری قوتیں پردہ حائل رکھے بغیر فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلنے لگیں۔ جمہوری روایات روندی  گئیں، بالآخر شہباز حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد نگرانی کے نام پر دودھ کی رکھوالی پنجاب میں محسن نقوی اور وفاق میں کاکڑ صاحب کو سونپ دی گئی۔

اب بِلّوں سے دودھ کی رکھوالی کی توقع احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے، کاکڑ صاحب تو سابقہ نگرانوں سے بھی دو قدم آگے نکل گئے اور مشرقی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے سب سے پہلے دودھ کا پیالہ  اپنے بڑوں کے سامنے پیش کیا، بعد ازاں کچھ بچ جانے کی صورت میں خود ہاتھ صاف کر لیتے  اور رعایا ہمیشہ کی طرح کف افسوس ملتی رہ جاتی۔ یعنی کاکڑ صاحب نے   صاف اور شفاف انتخابات کے علاوہ ، وہ سب کچھ کیا جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ بحیثیتِ طویل المدت نگران وزیراعظم انکا دور حکومت ہر حوالے سے فاشزم کا عملی نمونہ رہا، نو مئی کے خودساختہ بیانیہ کی آڑ میں  مخصوص جماعت کے اجتماعات پر پابندیاں، اعلیٰ  عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود سیاسی کارکنوں کی پے در پے گرفتاریاں، تحریک انصاف کی بطور سیاسی جماعت انتخابی نشان سے محرومی اور عمران خان کے خلاف عدت اور غیر شرعی نکاح جیسے انتہائی ذاتی نوعیت کے مقدموں کا  وہ نہایت ڈھٹائی سے دفاع کیا کرتے تھے، گویا انہیں بھی مسند پر لمبے عرصے کے لیے تخت نشین اور خدا ہونے پر مکمل یقین تھا۔

بالآخر خدا خدا کرکے 8 فروری 2024 کو انتہائی گھٹن زدہ ماحول میں تاریخ کے متنازع  ترین انتخابات کروائے گئے، عوام نے ووٹ کے ذریعے پی ڈی ایم اور عسکری حمایت یافتہ نگران ٹولے کے خلاف نا  صرف اپنے غم و غصّے کا بھرپور اظہار کیا بلکہ بڑے بڑے سیاسی گھوڑے جو ہر نیلامی میں مہنگے داموں بک جاتے تھے اس بار عام کارکنوں اور انتہائی غیر مقبول نشانات بینگن، جوتے اور درانتی سے مات کھا گئے، قیدی نمبر 804 کے بیانیے کو مقبولیت ملی،مگر ہمیشہ کی طرح قبولیت نہ دینے والے آڑے آگئے، فارم پینتالیس جس پر انتخابی گنتی کی عمارت قائم ہے، راتوں رات فارم سینتالیس کو پینتالیس پر فضیلت حاصل ہوئی اور ہندسوں کے ساتھ ایسا کھیل کھیلا گیا کہ بڑے بڑے ریاضی دان انگشت بدندان رہ گئے۔ شومئی قسمت  کہ  ایک بار پھر عوام پر ان کی مرضی کے خلاف مسترد کردہ حکمران مسلط کر دیے گئے، اس بار نظام بدلنا تو کجا چہرے تبدیل کرنے کی زحمت تک نہ کی، یعنی پرانی بوتل میں وہی پرانی شراب نوش کرنے کے لیے پیش کی گئی جسے کوئی عوامی پذ یرائی نہیں ملی اور نتیجتاً معاشی کسادبازاری اور سیاسی بے چینی مزید بڑھ گئی،نادیدہ قوتوں کے ہاتھ مزید لمبے ہوگئے،جمہوری افق پر ہر سُو آمریت کے گہرے سائے منڈلانے لگے اور دستور پاکستان کی حیثیت ردی کے کاغذ کے برابر دیکھ کر ایک بار پھر اپوزیشن اتحاد بشمول سنی اتحاد کونسل نے محمود خان اچکزئی کی زیر قیادت تحریک تحفظ آئین پاکستان کی داغ بیل ڈالی۔ تحریک کا مقصد آئین کا تحفظ، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کی بقا اور مقتدرہ کو یہ باور کرانا ہے کہ اصل طاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔ تاکہ سب ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر ملک کی تعمیر وترقی کے لیے کام کرے۔ تحریک کو مزید جاندار بنانے کے لیے تحریک کے ساتھیوں کو حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف عمران خان کی غیر موجودگی میں مذہبی طاقت سے لیس مولانا فضل الرحمان کی حمایت درکار ہے۔ اس حوالے سے ملاقاتیں جاری ہیں، دونوں سیاسی حریفوں تحریک انصاف اور جمیعت علمائے اسلام کے درمیان گفت و شنید کے ذریعے برف کافی حد تک پگھل چکی ہےجو ایک خوش آئند امر ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سائے تلے اپوزیشن اتحاد نے پہلا عوامی اجتماع پشین میں منعقد کیا، 8 جون کو شہر اقتدار میں جلسہ ہوگا، اور رفتہ رفتہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات منعقد ہوں گے، انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہ ملنا یا پُر امن شہریوں پر لاٹھی چارج وغیرہ اس تحریک کے لیے ایندھن کا کام دے گا اور تحریک زور پکڑتی جائے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحریک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی؟ یا اس تحریک کے روح رواں بھی سابقہ انقلابیوں کی طرح اقتدار کی خاطر جمہوریت کے پیٹ میں چھرا گھونپ کر مقتدرہ کے ہم پیالہ و ہم نوالہ بن جائیں  گے؟

Advertisements
julia rana solicitors

تو اس کا جواب انتہائی سادہ ہے۔ اگر اس تحریک کے توسط سے پاکستان میں آئینی بالادستی، آزاد خارجہ پالیسی، معاشی استحکام، بروقت شفاف انتخابات، سیاسی رواداری، غیر جانبدار عدلیہ، اظہار رائے کی آزادی، مقتدرہ کی سیاست سے بےدخلی، آزاد میڈیا کا قیام، تیز ترین سماجی انصاف، بین الصوبائی ہم آہنگی، اور جمہوری روایات کو فروغ نہ ملی تو یوں سمجھ لیجئے کہ ہم ایک بار پھر دائروی سفر مکمل کرنے کے بعد واپس پہلی پوزیشن پر پہنچنے کو ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply