مزاحمتی شعور اور ریاستی کفالتی ادارے/محمد سالم

جس کا نظام غالب ہوتا ہے فکر و فلسفہ (سیاسی ،معاشی اور معاشرتی) بھی انہی کا غالب ہوتا ہے۔ انسانی سوچ ،عمل اور نفسیات طاقت کے مرکز کے تابع ہوتی ہے۔ یہی طاقت انسانی دماغوں کو کنٹرول کرتی ہے ۔غلام معاشروں کی فکر و عمل مقتدرہ کے تابع ہوتی ہے ۔

کہتے ہیں  کہ علم طاقت سے پیدا ہوتا  ہے۔ لازمی بات ہے ہمارا  علم بھی وہ ہے جو مقتدرہ کی خواہش ہے۔ یہ علم و فکر ہمارے  رویوں میں آجاتی ہے۔ اور ہم پھر عمل بھی ان کی منشاء پر کرتے ہیں ۔
غالب نظام اپنی فکر کو غالب کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا ہے۔ وہ پورے اداروں کو اس میں استعمال کرتا ہے ۔1 education system 2 media 3 religious institution 4 political institutions 5 bureaucracy 6 7 actors 8 celebrities 9 sports man 10 VIP,s 11 NGO,s 13 Foundations.
اور بھی بہت سارے طریقوں سے سوسائٹی  اپنے بیانیہ کو سیٹ کرتی ہے۔

ہمارا  تعلیمی نظام نوآبادیاتی دور کا تسلسل ہے۔ یہ نظام غلام ہندوستان کے لیے بنایا تھا ۔ جس کا بنیادی مقصد ہندوستانیوں کو اپنے فکر و فلسفے اپنے  کلچر اپنی تاریخ سے دور کرنا  تھا۔ اپنی تعلیم سے یورپین کو مرعوب کرنا ۔ اور اپنے لیے اپنا آلہ کار بنانا ہے۔ پاکستان کے بننے کے بعد بھی یہی نظام ہم پر مسلط کیا گیا۔ یہ طبقاتی تعلیمی نظام نے معاشرے میں تقسیم اور فکری انتشار پیدا کیا۔ اور نوجوانوں کو اپنی تاریخ علم اپنی روایات سے دور کیا۔ اور مقتدرہ کا  آلہ کار بنا۔ سرمایہ داروں کے لیے ایک آلہ بنا۔ اس تعلیمی نظام نے ہم سے آزادی حریت خوداری کا جذبہ چھین لیا۔ نوجوانوں کو دیکھیں تو  کسی میں بھی مزاحمتی شعور نہیں ۔ سب یا تو مایوس یا مرعوب ہیں ۔

میڈیا آج کا دور کا سب سے بڑا پروپیگنڈا آلہ ہے۔ اور ریاست کا بنیادی ستون ہے۔ ہمارا  میڈیا مقتدرہ یا نظام کے تابع ہے۔ ہمارا  میڈیا وہی نشر کرتا  ہے جو ایلیٹ کے فائدے میں ہو۔ میڈیا نے جوانوں کو غیر ضروری مباحث میں مشغول کیا ہوا ہے۔ان کو اپنے  بنیادی حقوق نہیں مل رہے،وہ آزاد نہیں وہ حیوانوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں لیکن میڈیا نے ان کو اور چیزوں میں مبتلا کیا ہے۔ ٹاک شوز میں غیر ضروری مباحث ہوتے  ہیں، اور عوام پھر اپنے آپس میں لڑتے ہیں ۔اور عوام سے مزاحمتی شعور دور کیا ہے۔

اسی طرح مذہبی رہنماؤں کا بنیادی کردار یہ تھا کہ وہ لوگوں کو حق کی تعلیم دیتے ۔ ان کے  حقوق کی بات کرتے اور اپنا کردار ادا کرتے لیکن وہ بھی مذہبی اور فرقہ وارانہ لڑائیوں میں مصروف ہوئے ۔ اور کہتے ہیں کہ  تم پر جو ظلم و زیادتی ہوتی ہے وہ آپ کی قسمت اور آپ کے  اپنے اعمال کی وجہ سے ہے۔ اور کہتے ہیں امیری غریبی اللہ کی طرف سے ہے۔ صبر کی تلقین کرتے ہیں ۔ اور انفرادی اصلاح کی بات کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں آخرت کی فکر کرو۔ جس کی وجہ سے نوجوانوں میں مزاحمتی فکر و شعور مر جاتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آج کل این جی او ، مختلف خیراتی اداروں ، فاؤنڈیشن ، ایکٹرز ، موٹیویشنل سپیکرز، سپورٹ مین کے ذریعے عوام سے مزاحمتی شعور ختم کر دیتے ہیں ۔ یہ سب انفرادی محنت ، اصلاح کی بات کرتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں آپ محنت کریں ۔ سبق پڑھیں  توآپ کامیاب ہو جائیں گے ۔ لیکن اس پورے ظالمانہ نظام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یہ تمام ادارے ہمارا  مزاحمتی شعور ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرتے  ہیں۔ ہمیں ایسی متبادل تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے جو ہمیں اپنی  قومی ذمہ داریوں سے واقف کریں ۔ ہمیں اپنی حقیقی تعلیم ، تاریخ اور آزادی پسند رہنماؤں سے واقف کریں ۔ مرعوبیت اور مایوسی سے نکالے۔ آزادی کی سوچ پیدا کریں ۔اور ایسے فکر و فلسفہ کو اپنائیں جو قومی مفادات پر مبنی ہو اور پوری انسانیت کے مفاد میں ہو۔
آج نوجوانوں کو مزاحمتی شعور اور پھر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی آزادی کی سوچ ہمیں اپنا انسانی وقار دلا سکتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply