وحدت الوجود اور سنی آرتھوڈوکسی/نبیلہ

میں ابھی ابھی سو کر اٹھا ہوں تو میرے موبائل کی وٹس ایپ میسج ٹون بج اٹھی – وٹس ایپ میسجز میں دیکھا کہ میری کزن سسٹر نبیلہ احسن کا خط نما پیغام پڑھے جانے کا منتظر تھا – انھوں نے میری پوسٹ “وحدت الوجود اور سنی آرتھوڈوکسی” پڑھنے کے بعد مجھے وہ خط بھیجا تھا- وہ لکھتی ہیں:
ڈئیر برادر عامر،
آداب،
تمہاری پوسٹ “وحدت الوجود اور سنی آرتھوڈوکسی” پڑھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ تم نے ایم اے کے تھیسس میں ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود کے سماجی اثرات بارے بحث کے بعد آخر میں جو نتیجہ اخذ کیا تھا، اس سے آگے نہیں گئے۔ کافی عرصہ بعد میں اپنی معلومات کی روشنی میں سمجھتی ہوں کہ تمہارے اس تھسیس کی بنیادی کمزوری یہ تھی کہ تم نے ایک تو یہ غلطی کی کہ شیخ ابن عربی نے جہاں فتوحات المکیہ میں جہاں مسئلہ خلافت و نیابت میں خود کو سنی المذہب بتایا تھا اس کو تم نے یہ سمجھ لیا کہ شیخ ابن عربی کسی شیعہ کی  خلافت کو رد کرنے کے عمل کو خارج از مشئیت اور اسے مطلق وجود کا ایک تعین نہیں سمجھا، حالانکہ تمہیں مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی میں شیخ ابن عربی کے ایک مُلاں کے ساتھ مکالمے کی اس حکایت سے یہ سمجھنے کی ضرورت تھی جہاں شیخ ابن عربی آخر میں قرآن کی کئی ایک آیات سے مشئیت کی وضاحت کرتے ہوئے یہ لکھتے ہیں کہ کثرت تمام کی تمام تجلیات کے زمرے میں داخل ہیں اور مطلق وجود کی تجسیم کی صورتیں ہیں ۔دوسرا تمہارے تھیسس میں سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ تم نے ہندوستان میں شطاری اور ملامتی صوفیا کی اکثریت اور ایسے ہی بھگتی تحریک کی تشکیل کرنے والے مسلمان صوفیا کو نظر انداز کردیا، وہ سب کے سب وحدت الوجودی تھے اور ان کی صلح کلیت میں کیا شیعہ، کیا سنی ، کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا سِکھ سب کے سب شامل تھے اور انھوں نے تو دہریہ اور لا ادری رجحانات کو بھی از روئے تعینات اور مطلق وجود کی کثرت کے مظاہر میں شمار کیا تھا- ان کے پیش نظر کبھی بھی نہ تو سنی آرتھوڈوکسی کا پھیلاؤ تھا اور نہ ہی شیعہ آرتھوڈوکسی کا پھیلاؤ تھا۔

تم یہ بھی اپنے تھیسس  میں نظر انداز کرگئے ایرانی سلسلہ روشنائی جس کے بانی شاہ نعمت اللہ ولی تھے کے درجنوں ہندوستانی خلفاء سنی تھے اور خود شاہ نعمت اللہ ولی شیعہ تھے۔جون پور سمیت اکثر بنگال اور کشمیر میں شاہ نعمت اللہ ولی کا سلسلہ طریقت شیعہ،سنی اختلافات کو خاطر میں نہیں لایا کرتا تھا۔

تم نے یہ بات کیسے نظر انداز کردی کہ فیروز شاہ تغلق کے دور میں فیروز شاہ کی فوج نے دہلی میں شیعہ مسلمانوں کی جس مسجد پر نماز جمعہ کے وقت یلغار کی اور ان کے اس وقت کے شیعہ عالم و صوفی کو مرتد قرار دے کر قتل کیا تو اس سے پہلے فیروز شاہ تغلق نے علما  کے ساتھ ساتھ مشائخ سے بھی دہلی کے شیعہ اور ان کے عالم کے خلاف فتوٰی ارتداد کی تائید طلب کی تھی تو یہ شیخ نظام الدین اولیاء تھے جنھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر ڈالا تھا اور یہ عمل بھی کہ انھوں نے اپنی خانقاہ میں ایک محفل میں فیروز شاہ تغلق کے اس عمل پر اظہار ناراضگی بھی کیا تھا۔

نواب سعادت اللہ خان جو اودھ کے گورنر رہے (1735-1739) اور انھوں نے بعد ازاں فیض آباد کو اپنا دارالحکومت بنایا کے دور میں اودھ سے منسلک جتنے شہر اور دیہات تھے وہاں پر محرم الحرام ایک مشترکہ ثقافت کے طور پر ابھرا تھا۔

میں حیران ہوں کہ تم نے اپنی کتاب “شیعہ نسل کشی: حقیقت یا افسانہ” کے دیباچے میں ڈاکٹر مشیر الحسن کے تحقیقی مقالے (جو بطور ضمیمہ تمہاری کتاب کا حصہ ہے) کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لکھنئو اور اس کے گرد و نواح میں تہذیب عزا کیسے مشترکہ ثقافت کا حصہ تھی جسے تمام مذاہب اور شیعہ و سنی مسالک کے ماننے والے مل کر مناتے تھے اور یہ عمل نو آبادیاتی دور میں ریڈیکل دیوبندی ازم کے زیر اثر ابھرنے والی تکفیری تحریک نے بدل ڈالا تھا ۔لیکن پھر بھی تمہیں وحدت الوجود اور سنی آرتھوڈوکسی کے درمیان اینٹی شیعہ یگانگت کا مفروضہ پیش کرنے میں تضاد نظر نہ آیا ۔

تم اچھے سے واقف ہو کہ شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالعزیز ، مرزا مظہر جانجاں اور غلام علی وغیرہ نے دہلی میں اور اودھ صوبے میں تہذیب عزا (تعزیہ داری و شبیہ سازی اور ان کے جلوسوں کے بانی مبانی سنی مسلمان ہونے اور ان کے شیعہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایام عزا منانے) کے مشترکہ ثقافت کا عوامی اور اجتماعی رنگ ہوجانے پر دہلی دربار میں روھیلہ سرداروں کو خطوط لکھے اور انھیں اس عمل کی بیخ کنی کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کون سے صوفی تھے جو تہذیب عزا کو شیعہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر منانے میں پیش پیش تھے ۔
شاہ نعمت اللہ ولی کے سب سے مشہور خلیفہ حاجی شہرت تھے اور ایسے ہی ایک اور معروف خلیفہ ابراہیم مقدس عرف شیخ داود تھے – حاجی شہرت ماتھرا میں آباد تھے اور شیخ داؤد مانک پور میں یہ دونوں (یہ 1666ء کے بعد کا زمانہ ہے) بھی ایام عزا شیعہ کے ساتھ مل کر مناتے تھے ۔

میں یہاں نواب سعادت اللہ خان برہان الملک گورنر اودھ کے دور میں بانسہ میں مقیم شاہ نعمت اللہ ولی قادری کی شاخ کے ایک معروف وحدت الوجودی صوفی شاہ عبدالرزاق بانسوی کا ذکر تمہارے گوش گزار کروں گی ۔ انھوں نے اور ان کے خلفاء و مریدین نے اودھ میں خاص طور پر لکھنئو اور اس کے گرد و نواح میں سلسلہ قادریہ کو پھیلانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا- یہ وحدت الوجود کے بہت بڑے پرچارک تھے اور یہ محرم کے پہلے دس دنوں میں باقاعدگی کے ساتھ تعزیوں کی زیارت کرتے اور تعزیے کے جلوس کو اپنے گھر مدعو کرتے اور تعظیم سے ہاتھ باندھے تعزیوں کے سامنے کھڑے رہا کرتے تھے  ۔ انھوں نے وحدت الوجود کے نظریہ کی روشنی میں تعزیوں کے بارے میں یہ کہا کہ یہ محض بانس اور کاغذ کے پنے نہیں ہیں بلکہ ان پر امام حسن و امام حسین (علیھما السلام) کی روحیں سایہ فگن ہیں – جب یہ بہت ضعیف و نحیف ہوگئے تب بھی انھوں نے اپنا معمول جاری رکھا – وہ یا تو دیوار سے ٹیک لگاکر کھڑے ہوجاتے یا ان کے خدام انھیں سہارا دے کر تعزیوں کے سامنے کھڑا رکھتے ۔

شاہ عبدالرزاق فصوص الحکم کی تفسیر ،معانی و مفاہیم کا بڑا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ت

مہاری دلچسپی کے لیے یہ بات بھی بتاتی ہوں کہ شاہ نعمت اللہ ولی کے جس خلیفہ نے جونپور ،ماتھرا اور مانک پور وغیرہ میں سلسلہ قادریہ کو پھیلایا یعنی شیخ داؤد وہ محدث و مورخ و مفسر جلال الدین سیوطی کے شاگرد شیخ شمس الدین علقمی ، ملا علی متقی ( مصنف کنزالاعمال اہم ترین مجموعہ احادیث) اور معروف محدث شیخ محمد باکری کے شاگرد تھے علم حدیث میں یعنی یہ صرف باطنی علوم کے ماہر نہیں تھے بلکہ یہ علوم شریعہ کے بھی عالم فاضل تھے ۔

شاہ عبدالرزاق بانسوی کے معروف شاگردوں میں معروف سنی عالم دین ملاں نظام الدین سہالوی متوفی 1748ء تھے جنھوں نے نہ صرف اپنے پیر شاہ عبدالرزاق کی سوانح عمری لکھی بلکہ ان کے ملفوظات کو بھی جمع کرکے شایع کیا اور شاہ صاحب کی تہذیب عزا سے وابستگی کا ذکر نمایاں کرکے کیا ہے ۔

ملاں نظام الدین سہالوی بارہ بنکی میں پیدا ہوئے اور پھر یہ مدرسہ فرنگی محل لکھنئو میں منتقل ہوگئے اور یہ وہی صوفی قادری وحدت الوجودی عالم دین ہیں جنھوں نے ہندوستان میں مدراس دینیہ میں رائج نصاب تعلیم ترتیب دیا جسے درس نظامی کہا جاتا ہے ۔

مدرسہ فرنگی محل کی خصوصیت یہ ہے کہ ہندوستان میں یہ واحد مدرسہ تھا جہاں سنی اور شیعہ دونوں مسالک کے طالب علم سند فراغت پاکر جاتے رہے۔ اور اس مدرسہ نے شیعہ کے باب میں وہ تکفیری رنگ کبھی اختیار نہیں کیا جو ہمیں مدرسہ بدایوں ، مدرسہ دہلی اور مدرسہ دیوبند و مدرسہ بریلوی و مدرسہ رامپور میں نظر آتا ہے ۔

مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے صاحبزادے مولانا جمال الدین فرنگی محلی المعروف جمال میاں نے اپنی خود نوشت میں خود مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے وقت مدرسہ میں شیعہ اور سنی طلباء کے موجود ہونے کا ذکر کیا- جمال میاں اور معروف شیعہ صنعتکار ایم ایچ اصفہانی بچپن کے دوست تھے اور جمال میاں نواب آف محمود آباد سے اپنی نیازمندی کا بڑا تفصیلی ذکر کرتے ہیں۔

اس تفصیل کو یہاں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ شاہ ولی اللہ سمیت کئی ایک وحدت الوجودی صوفی علما  کے ہاں پائی جانے والی احیائی اصلاح پسندی فرقہ پرستی کے احیا کے جراثیم رکھتی ہے اور وہ ان کے نظریہ وحدت الوجود کو سمندر سے سمیٹ کر تنگ ندی میں بدل ڈالتی ہے لیکن یہ کہنا کہ ہندوستان میں وحدت الوجود سنی آرتھوڈوکسی میں قید ہوکر رہ گیا تھا ٹھیک نہیں ہے – دارا شکوہ جب سنائی کے مزار پر جانے سے گریزاں تھا تو اس وقت تک وہ اس مقام تک نہیں پہنچا تھا جسے وہ مذہب مجازی سے کفر حقیقی تک پہنچ جانے کی منزل کہتا ہے ۔ تم نے یہاں وہ ٹھوکر کھائی جو سید اطہر عباس رضوی نے “ہندوستان میں صوفی ازم کی تاریخ” جلد دوم میں دارا شکوہ کی افغانستان میں سنائی کے مزار پر جانے سے پہلے گریزاں ہونے اور پھر ایک خواب کے بعد وہاں جانے کا واقعہ درج کرتے ہوئے کھائی اور یہ کہا کہ دارا شکوہ کی سنیت شیعی مخالف تھی حالانکہ انھوں نے خود لکھا ہے کہ حسنات العارفین اور مجمع البحرین دارا شکوہ کی آخری دو تصانیف ہیں اور مذہب مجازی سے کفر حقیقی جو دارا شکوہ کے نزدیک وحدت الوجود میں کمال عروج پر پہنچ جانے کی منزل ہے کا ذکر ہمیں حسنات العارفین میں ملتا ہے ۔ دارا شکوہ ،ملا شاہ اور میاں میر کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ شیعہ کے باب میں وحدت الوجودی وسیع المشربی کو اپنانے میں ناکام رہے تمہاری ایک فاش غلطی ہے ۔ ویسے تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وحدت الوجودی وسیع المشربی سے جو انحراف شاہ ولی اللہ وغیرہ نے کیا وہ انحراف تو کچھ بھی نہیں ہے ، ریاست اودھ میں لکھنئو میں شیعہ اصولی مذہب کی بنیاد رکھنے والے غفران مآب مولانا دلدار حسین نے سنی آرتھوڈوکس صوفی شیخ احمد سرہندی سے کہیں بڑھ کر وحدت الوجود اور وحدت الوجودی صوفیا اور ان کے اشغال کا رد “رد بدعات و شرک” کے نام سے کیا۔ وہ وحدت الوجود کے قائل نہیں تھے اور انہوں نے اس کے خلاف ایک رسالہ”شہاب ثاقب” کے نام سے بھی لکھا تھا۔(اس عنوان سے اندازہ لگا لیں کہ وہ وحدت الوجودی صوفیا کو زمرہ شیاطین میں شمار کرتے تھے جو آسمان عرش پر غیب کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی بارش ہوتی ہے) اور لکھنئو اور اس کے گرد و نواح میں ان سے پہلے شیعہ ایام محرم میں شیعت کی مسلکانہ برتری پر مبنی تند و تیز مناظرانہ تقاریر نہیں کیا کرتے تھے ان کے ہاں سوگ، سوز، رثائی اور نوحہ گری کے رنگ غالب تھے اور مجالس عزا میں حیدرآباد دکن سے آنے والی ایک روضہ خوانی کی کتاب رائج تھی جسے پڑھ کر سنایا جاتا تھا اور اعلانیہ تبرا و تولی کا چلن نہ تھا – یہ غفران مآب تھے جنھوں نے اس کتاب کو فرضی اور جھوٹے قصے کہانیاں کہہ کر مسترد کیا اور اس کی جگہ خود ایک کتاب مرتب کی جس میں واقعات کربلا سے کہیں زیادہ مذھب شیعہ کے مناظرے کا رنگ غالب تھا اور میں سمجھتی ہوں کہ غفران مآب اور ان کے شاگردوں کے ہاں
Islamic Revivalism
اور مذہبی اصلاح پسندی کا جو رجحان تھا وہ
Sectarian Revivalism
سے جڑا ہوا تھا اور اس نے شیعی آرتھوڈوکس روایت کو فرقہ وارانہ ریڈیکل ازم کی طرف دھکیلا ۔ یہ شاہ عبدالعزیز دہلوی کے معاصر تھے اور ریاست اودھ کو ایک روادار، صلح کل ، وسیع المشرب ریاست سے شیعی احیاء پسند مائل بہ فرقہ پرست ریاست کی طرف دھکیلنے میں ان کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا- سید اطہر عباس رضوی نے ان کے اس پہلو کو لیکر ان پر کافی تنقید کی ہے ۔
تم ان نکات پر مزید غور و فکر کرنا ،مجھے یقین ہے کہ پھر تم زیادہ بہتر اور تضادات سے مبرا مقدمہ بنانے میں کامیاب ہوں گے۔۔۔۔
تمہاری بہن نبیلہ

Advertisements
julia rana solicitors

عامر حسینی صاحب کی وال سے 

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply