ٹیکسی ڈرائیور/عبدالرحمٰن خان

قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
فرانس کے بارے میں کیا آپ جانتے ہیں کہ وہاں عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کا مذہب تو کریسچیانٹی ہے مگر وہ فکری طور پر لادینیت والے نظریے کے حامل ہیں۔ یہ فکر نوّے کی دہائی میں کچھ زیادہ ہی عروج پر رہی تھی جب کافی عیسائی  لادینیت سے ہوتے ہوئے اسلام یا بدھ ازم کی طرف جارہے تھے۔ آج کی کہانی بھی کچھ اسی وقت کی ہے۔۔

یہ ہیں فرانس میں جنمے اور پَلے Julien Drolon ، کیتھولک فیملی سے تھے، بچپن سے ہی مذہبی رجحان تھا اور راہب بننا چاہتے تھے، مگر عیسائیت سے کچھ زیادہ مطمئن نہ تھے۔ ان دنوں دلائی لامہ کا بڑا چرچا تھا، ماں نے انہیں مشورہ دیا کہ بدھ ہو جاؤ اور یہ بدھ ازم کی طرف کچھ مائل بھی ہوگئے۔ اٹھارہ سال تک پہنچتے پہنچتے یہ جرنلسٹ کی حیثیت سے دنیا بھر میں سفر کرنے لگے۔ صحافت کے حوالے سے انہوں نے پچاس سے زائد ممالک کا سفر کیا۔ نیو یارک ٹائمز، دی ایکونومکسٹ جیسے معتبر اخبارات کے ساتھ ساتھ کئی  مشہور پریس ایجنسیوں کے لئے رپورٹنگ کرتے رہے۔ ان اسفار کے دوران انہیں اسلام اور دیگر مذاہب اور انکی عبادت گاہوں اور لوگوں سے سابقہ ہوا۔ اب تک انہیں پتہ  لگ گیا کہ بدھ ازم بھی انکے کام کی چیز نہیں تھی اور اسے بھی دماغ سے نکال دیا۔ کہتے ہیں کہ جب آپ اپنے پیشے میں کافی کچھ پاچکے ہوں تو اکتاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہی انکے ساتھ بھی ہوا، سکون قلب کی تلاش میں جرنلزم چھوڑ  کر میوزک انڈسٹری میں آگئے۔ گانے اچھا لکھنے کے ساتھ ساتھ اچھے سنگر بھی تھے۔ انکے میوزک البم Phil So Good, Wake Up, Peace through Music, End of Time کافی مشہور ہیں، آپ یوٹیوب پر انہیں دیکھ سکتے ہیں۔

جب آپ کے لئے کچھ اور مقدور ہو تو جرنلزم چھوڑ میوزک میں آنا بھی آپ کو سکون نہیں دے پاتا۔ خود کہتے ہیں کہ میں ہانگ کانگ میں ایک میوزک کنسرٹ میں تھا اور اپنے پسندیدہ سنگر کے ساتھ اسٹیج شیئر کر رہا تھا۔ مجھے اس وقت بھی لگا کہ کامیابی بھلے ہے مگر کچھ تو ہے جو ابھی دور ہے، زندگی میں سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ تو ایسا ہے جو ابھی تک مجھے حاصل نہیں ہے۔  معاملہ یہاں تک پہنچا کہ رب کی تلاش میں ڈرولون نے پیدل سفر اور میڈیٹیشن کا ارادہ کرلیا، اور تیس دنوں میں اسپین بارڈر سے اسپین کے مغربی ساحل تک ایک ہزار کلو میٹر طے بھی کر ڈالا۔ کہتے ہیں کہ اس دوران میں ڈھیر سارے عیسائیوں سے ملا، خود ہی خدا سے اکیلے میں باتیں کیا کرتا تھا۔ ہزار کلو میٹر طے کرنے کے بعد میں Santiago de Compostela میں پہنچا تو وہاں ایک برازیلین لڑکا اپنی سائیکل سے ایسے میرے پاس سے گزرا کہ مجھے ڈرا سا گیا، میں نے اسے کھری کھوٹی  سنائی  اور گالی بھی دے دی ، اس نے بھی مجھے بُرا بھلا کہا۔۔  اچانک مجھے لگا کہ یہ پیدل چلنا کافی نہیں، اگر اتنا لمبا چلنے کے بعد بھی آپ اتنے اچھے نہیں بن سکے کہ دوسروں پر ردِعمل اور دوسروں کی تکلیف کا آپ کو احساس نہیں تو بھلا یہ پیدل چلنا کس کام کا۔ مجھے محسوس ہوا کہ پیدل مسافتوں کے بجائے مجھے کسی ایسے راستے کی طرف چلنا تھا جہاں سے ہدایت ملے کہ آپ کو دوسروں کو تکلیف نہیں دینی ہے۔

ڈرولون کہتے ہیں کہ سائپرس، دارالسلام، ترکی اور تنزانیہ وغیرہ میں مَیں نے بارہا اذان سنی ،جس سے میرے دل کو کچھ عجیب سا سکون ملتا تھا مگر پھر خیال آتا تھا کہ یہ تو عرب علاقے کا دین ہے اس سے میرا کیا لینا دینا ۔ پھر کچھ وقت بعد میں فلپائن جارہا تھا، میری فلائٹ کا ابو ظہبی میں چھ گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ مجھے یہ چھ گھنٹے کسی طرح گزارنے تھے اس لئے میں ائیرپورٹ سے باہر نکل کر کہیں جانے کے لئے ایک ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ ٹیکسی میں کچھ بج رہا تھا جو میرے دل کو بڑا سکون دے رہا تھا ۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا۔  “یہ کون سا گانا ہے؟ مجھے اچھا لگ رہا ہے”۔  ۔ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے جواب دیا ۔۔۔۔ “یہ گانا نہیں قرآن ہے”۔  ڈرائیور نے بلا کسی تاخیر یہ بھی کہا کہ “سر! اگر آپ کو خود کو اور اپنی فیملی کو جہنم کی آگ سے بچانا ہے تو ایک اللہ اور اسلام پر ایمان لے آئیں”۔

اسکے بعد ڈرولون فلپائن چلے گئے اور ارادہ تھا کہ وہیں میوزک کریں گے اور مستقل سکونت اختیار کرلیں گے۔ وہاں انہوں نے کئی  مقامی ایکٹریس اور مس ورلڈ کے ساتھ بھی میوزک البمز کیے۔  ۔۔ مگر ان سب کے باوجود بھی دل سے سکون غائب ہی تھا۔ دھیرے دھیرے پھر انکا رجحان عیسائیت کی طرف گیا اور ایک دو بار چرچ بھی گئے۔  کہتے ہیں کہ ابو ظہبی میں قرآن کی آواز اور ٹیکسی ڈرائیور کی سیدھی جہنم سے وارننگ کا ایسا اثر رہا کہ میں چاہ کر بھی عیسائیت کی  طرف مکمل نہیں جا پارہا تھا ۔  میں نے اپنے لئے گاڈ سے دعا کرنا شروع کردی، کہ مجھے عیسائیت اور اسلام میں سے کسی ایک کی طرف رہنمائی  کر دے۔

۲۰۱۲ کے رمضان کے دوران میں نے اسلام کو پڑھنا شروع کیا اور اس سال ایک مسلم دوست کے ساتھ عید کی نماز میں گیا، وہاں سب کچھ دیکھ کر میں بڑا متاثر ہوا، اور بالآخر عید کے بعد پیس ٹی وی پر آن لائن اسلام قبول کرلیا، بعد میں ایمبیسی جاکر رسمی شہادت اور کاغذی کاروائی  مکمل کی۔  اسلام لانے کے بعد فلپائن میں رہنا میرے لئے مشکل ہوگیا، اس لئے ملیشیا آگیا۔

ڈرولون نے ملیشیا آکر نا  صرف میوزک چھوڑا بلکہ ایک ایگریکلچر کمپنی میں بطور بزنس ڈیویلپمنٹ منیجر کام شروع کردیا۔ زارا شفیع نامی ملیشین خاتون سے شادی کی جو کہ پہلے ایک اوپیرا سنگر تھیں اور بعد میں انہوں نے بھی میوزک ترک کردیا تھا۔ اسکے بعد دونوں نے ملکر New Muslim Care کے نام سے دعویٰ سینٹر قائم کیا۔ ساتھ ہی Halis Media کے نام سے ایک پروڈکشن ہاؤس بھی بنایا جس کا مقصد تھا اسلام کے خلاف اعتراضات کا موزوں طریقے پر جواب دینا۔ اس پروڈکشن ہاؤس کی ایک بڑی مشہور ڈاکیومنٹری فلم ہے “فریڈم / Freedom”۔ یہ کچھ نوّے منٹ کی فلم ہے جس میں کئی  ممالک کی کچھ پچاس نو مسلم خواتین نے اسلام میں انکے حقوق و آزادی پر گفتگو کی ہے۔ اس فلم کو بنانے کی وجہ یہ تھی اسلام میں عورتوں کے حوالے سے نا  صرف مغربی پروپیگنڈوں بلکہ خود ڈرولون کی ماں کا  بھی خیال تھا کہ اسلام عورتوں کو دبا کر رکھتا ہے، حقوق نہیں دیتا، انہیں آزادی تک حاصل نہیں ہے۔ جبکہ اسلام کا عورتوں کے حوالے سے نظریہ ہی مختلف ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ڈرولون اور زارا آج ملیشیا میں دعویٰ کا کام بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ ڈرولون اپنی بیوی کی  سپورٹ کے حوالے سے اکثر کہتے ہیں کہ یہ میرے لئے ویسی ہی معاون ہے جسے خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھیں۔ زارا میری خدیجہ ہے!
(فریڈم / Freedom یوٹیوب پر موجود ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں، ڈرولون کے میوزک ویڈیوز بھی موجود ہیں۔)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply