اردو زبان کا خاندانی پسِ منظر: ایک تحقیق/عبدالوحید فانی

دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ زبانیں زمانے اور علاقے کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض زبانوں میں ساخت و اسلوب کی بنیاد پر یکسانیت پائی جاتی ہے اور بعض میں اختلاف ہوتا ہے۔ مختلف انواع و اقسام کا پایہ جانا اپنی شناخت کے لیے درجہ بندی کا تقاضا کرتی ہیں اور ماہرینِ لسانیات نے اسی بنیاد پر زبانوں کو مختلف خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔

زبان کا خاندان زبانوں کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جن کا منبع و ماخذ کسی زمانے میں ایک ہی زبان تھی۔ اسی لیے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے زبانوں کی ساخت میں کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔

اردو زبان کا خاندان کے جاننے کے ساتھ ساتھ اس کا پسِ منظر معلوم ہونا بھی اشد ضروری ہے۔ جس کی مختصر تحقیقی وضاحت ذیل میں دیا گیا ہے۔

برِصغیر اپنی زرخیز زمین، بہتر آب و ہوا، پانی کی کثرت و فراوانی (نہروں کی شکل میں) اور معدنیات سے لبریز پہاڑوں کی وجہ سے روزِ اول ہی سے بیرونی حکمرانوں اور حملہ آوروں کے لیے دلچسپی کا باعث بنی۔ اسی پسِ منظر کے سائے میں یہاں پر تقریباً ۲۵۰۰ ق م میں افریقی لوگ آئے۔ جن کا تکلم کی بنا پر مقامی لوگوں کے ساتھ تعلق بنا۔ ساتھ ہی ان کی زبان کا اثر مقامی زبانوں پر پڑا اور نتیجتاً افریقی ایشائی خاندان ظہور میں آیا۔ اور اس کا اثر بالواسطہ اردو پر بھی پڑا۔ یعنی اس زمانے میں اردو کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن اس کے وجود و ارتقا کے لئے کچھ حد تک راستہ ہموار کیا جا رہا تھا۔

اردو کا خاندان کے حوالے سے ڈاکٹر شوکت سبزواری نے لکھا ہے کہ:
“آج جس زبان کو ہم اردو کہتے ہیں وہ آریا قبائل کے ہمرکاب اور ہند آنے والی قدیم پراکرات کے کسی قدیم تر روپ کی ترقی یا صورت ہے۔” (داستانِ زبان اردو۔ ص: 199)

اس قول سے یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ اردو کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے۔

🔹 ہند آریائی خاندان کا دور ۱۵۰۰ ق م سے شروع ہو کر ۵۰۰ ق م پر ختم ہوا۔ تقریباً سو سال اس خاندان کو ترقی کرنے اور پھلنے پھولنے کے مواقع ملے۔

آریا قبائل کے اصل وطن کے حوالے سے مسعود حسین خان نے ایک قدیم خیال کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“قدیم زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ آریا تبت سے آئے تھے۔ ہندؤوں کے مذہبی عقیدہ کی رو سے تبت کو انسان کا پہلا مسکن مانا جاتا ہے، اس لیے آریوں کو بھی اسی علاقے سے منسوب کیا گیا۔ سنسکرت کے بعض عالموں کا خیال ہے کہ آریا قبائل ہندوستان ہی کی پاک سرزمین سے اٹھے اور بعد میں ایران اور یورپ میں پھیل گئے۔ لیکن ان نظریوں میں قباحت یہ ہے کہ یہ تحقیق سے زیادہ عقیدے کی پیداوار ہیں۔” (مقدمہ تاریخ زبان اردو۔ ص:2)

مسعود حسین خان نے مختلف محقیقینِ لسانیات کے رائے اور نظریے پیش کیے ہیں۔ جو درجہ ذیل ہے:
“ڈاکٹر چڑجی کا خیال ہے کہ قرونِ اولٰی کی ہند یورپی زبان و تمدن کا گہوارہ یوریشیا کے وہ وسیع میدان ہیں جن کا سلسلہ ایک طرف پولینڈ اور جرمنی سے ملتا ہے اور دوسری طرف یورال پہاڑوں کے جنوب میں وسط ایشیا کے الطائی اور تھین شان کے سلسلہ ہائے کوہ سے۔” (مقدمہ زبان اردو۔ ص: 3)
“پروفیسر شریدر نے تعینِ مقام کرتے ہوئے دریائے والگا کے دہانے کو آریاؤں کا اصل وطن قرار دیا۔” (مقدمہ زبان اردو۔ ص 3)
“پروفیسر گلز ( Giles) نے جغرافیائی اور تاریخی وجوہ کی بنا پر آریاؤں کی نقل و حرکت کے اس نظریہ کو رد کیا ہے۔ وہ آریاؤں کے پھیلنے کا مرکز آسٹریا ہنگری بتاتے ہیں۔” (مسعود حسین خان نے “کیمرج ہسٹری آف انڈیا” سے نقل کیا ہے)

لیکن معتبر ذرائع اور حوالوں سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ آریاؤں کا اصل وطن وسط ایشیا ہے۔

آریا قبائل وسط ایشیا کے ایک خشک پہاڑی علاقے پر رہتے تھے۔ انھیں اس علاقے کو چھوڑ کر زرخیز زمین اور اپنے جانوروں کے لیے گھاس کے میدانوں کی تلاش میں اپنے وطن کو خیر باد کہنا پڑا۔ ۱۵۰۰ ق م میں آریا ہندوستان آئے اور یہاں پر ایسے ٹھرے کہ پھر کہیں نہ گئے۔ یہ لوگ ہند یورپی زبان بولتے تھے اور مقامی زبانوں سے ان کی زبان کا اختلاط ہوا جس کے نتیجے میں ہند آریائی خاندان منظر عام پر آئی۔ ہندوستان میں قیام کے دوران ہند آریائی کے دو قدیم ادوار ہیں۔ پہلے دور کو ویدک سنسکرت یا ویدک زبان کہتے ہیں۔ دوسرے دور کو عوامی سنسکرت (لوک سنسکرت) یا کلاسیکل سنسکرت کہتے ہیں۔

🔹ہند ایرانی خاندان ہند ایرانی خاندان کے ساتھ بھی اردو کا گہرا تعلق ہے۔ اس خاندان کے حوالے سے مسعود حسین خان نے کچھ اس طرح لکھا ہے:
“یہ امر یقینی ہے کہ ہند یورپی زبان بولنے والے آریا اپنے داخلۂ ہند سے قبل، ایک عرصے تک مشرقی ایران میں قیام کرچکے تھے، جہاں ان کی زبان ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی ۲۰۰۰ ق م تک “ہند ایرانی” منزل پر پہنچ جاتی ہے۔ ہند یورپی زبان کی یہ ہند ایرانی شکل ہی ان تمام زبانوں کی ماں کہی جاسکتی ہے، جو بعد کو ایران میں پھیلی اور جسے آریا بولتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہوئے۔” (مقدمہ تاریخِ زبان اردو – ص:6)

🔹اردو زبان کا تعلق جن خاندانوں سے ہے ان میں سے ایک دراوڑی خاندان ہے اور اس خاندان کی زبان بولنے والوں کو دراوڑ کہا جاتا تھا۔ تمِل، ملیالم، تیلگو، کنڑ اور براہوی، دراوڑی خاندان سے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہندوستان کے قدیم باشندوں میں سے “دراوڑ” کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بحیرہ روم اور ایشیائے کوچک کے باشندے تھے اور وہ وہاں سے نکل کر کافی عرصے تک عراق میں رہے اور تقریباً ۳۵۰۰ ق م میں ہندوستان کو اپنا وطن بنایا۔ یہ لوگ پنجاب اور سندھ کے علاقے ہڑپا اور موہنجوداڑو میں آباد ہوئے۔ اپنے عہد میں دنیا کے ترقی یافتہ تہذیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ آریاؤں کے ہندوستان میں آمد پر ان کا مقابلہ دراوڑیوں سے ہوا۔ آریاؤں نے انھیں جنوب کی طرف دھکیل دیا اور خود شمالی ہندوستان پر قابض ہوگئے۔ موجودہ دور میں دراوڑی خاندان کی زبانیں جنوبی ہندوستان میں بولی جاتی ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply