• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • جہنم کی ائر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ / گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا ؟(23 )-حامد عتیق سرور

جہنم کی ائر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ / گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا ؟(23 )-حامد عتیق سرور

عمومی تاثر کے بالکل برعکس ، صرف اعداد و شمار پر جائیں اور اپنی 25 کروڑ آبادی کی آمدنیوں کو جمع کیا جائے تو سالانہ 375 ارب ڈالر بنتے ہیں یعنی کوئی 1500 ڈالر فی کس سالانہ یا 125 ڈالر ماہانہ یا 4 ڈالر روزانہ آمدن ۔ دنیا کی آبادی کل 8 ارب ہے یعنی 800 کروڑ اور اس میں ہم دنیا کی آبادی کا کوئی 3 فیصد ۔ اس کے مقابلے میں دنیا کی کل آمدن 100 کھرب ڈالر جس میں ہمارا حصہ کوئی 0.4 فیصد۔ دنیا بھر کی درآمدات 32 کھرب ڈالر اور اس میں ہماری برآمدات کل 32 ارب ڈالر یعنی 0.1 فیصد۔

ہر چند کہ ہم ہر میڈیا لیک میں اپنے کچھ لوگ ضرور ڈھونڈ لیتے ہیں اور اس بہانے اپنے امیر اور مبینہ طور پر بے ایمان لوگوں پر جی کی بھڑاس بھی نکالتے ہیں (ہماری سوشلسٹ ذہنیت جانے کیوں دولت اور دولت مند کو قابل نفرت کیوں سمجھتی ہے کہ ماریو پوزو کے قول کے مطابق امارت کے ہر مظہر کے پس منظر میں جرم کے علاوہ کچھ نہیں دیکھ سکتی ) ۔ مگر یقین کیجئے ہمارے امیر ترین لوگ دنیا کے امرا کی لسٹ کی گرد کو بھی نہیں پہنچتے ۔

دنیا میں ایک ارب ڈالر سے زائد دولت والے کل 2783 لوگ ہیں جس میں forbes جیسی قبل بھروسہ لسٹ میں ایک پاکستانی بھی نہیں ۔ اور بھارت کے 100 نمبر کا امیر بھی 2.6 ارب ڈالر کی دولت رکھتا ہے ۔

ہمارے ملک کا کل بیرونی قرض 130 ارب ڈالر ہے اور ریلائنس کمپنی والے اکیلے مکیش امبانی کی دولت 116 ارب ڈالر اور بھارت کے سو ارب پتی لوگوں کے کل اثاثے 800 ارب ڈالر کے قریب ہیں ,مگر یہ بات ہمیشہ سے ایسے نہیں تھی ۔ نوے کی دہائی کے وسط میں بھارت میں کل دو ارب پتی ہوں گے ( ڈالر والے ) اور ہمارے ہاں بھی آج یعنی 2024 میں ڈھونڈ ڈھانڈ کر اورکمپنیاں جوڑ کر اینگرو اور لکی گروپ کی دولت ایک ارب ڈالر فی گروپ سمجھی جا سکتی ہے ۔ مگر کیا یہ ممکن ہے کہ بھارت کی طرح آج سے تیس برس بعد ہمارے ہاں بھی 130 ارب پتی ہوں گے ؟ جن کی مجموعی دولت کوئی ایک کھرب ڈالر کو چھو رہی ہو گی ؟ ایسا ہونا بظاہر پچھلے تین عشروں میں میسر مواقع گنوانے کی وجہ سے ناممکن دکھتا ہے مگر چین ، بھارت اور ویتنام کی پچھلے تیس برس کی ترقی کی رفتار یہ ضرور بتاتی ہے کہ اس بات کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے ۔

ہمارے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے ملک کو قیام سے لے کر آج تک بے تحاشا لوٹا گیا ہے اور لوٹ کھسوٹ کا یہ سرمایہ پاکستان سے باہر لے جایا جا چکا ہے اور آج بھی یہ دولت پاکستان میں واپس آجائے تو ہمارے تمام تر مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو مگر یہ بات طے ہے کہ 2010 کے بعد سے بین الاقوامی اطلاعات کے موثر اور قدرے سخت نظام کی بدولت آج کل اپنی دولت چھپا کر بیرون ملک رکھنا خاصا مشکل ہو چکا ہے ۔ ابھی دوبئی لیکس میں موجودہ مارکیٹ قیمت (قیمت خرید کے حساب سے نہیں )کی بنیاد پر دبئی کی 400 ارب ڈالر کی پراپرٹیز میں سے کل 2.5 فیصد کوئی 17000 پاکستانیوں کی نکلی ہیں جو کہ فی کس کوئی 16 کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں جو لاہور کراچی ڈیفنس کے دو کنال گھر اور اسلام آباد کے ایف سیکٹر کے ایک کنال پلاٹ سے کم ہے ۔
غیر مصدقہ ذرائع بھی کسی ایک پاکستانی کی کوئی جائیداد وغیرہ بھی پکڑتے ہیں تو اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت 50 سے 200 ملین ڈالر تک ہوتی ہے ۔ مقصد کرپشن کی حوصلہ افزائی یا condonation نہیں مگر یقین کیجئے کہ ہمارے بے ایمان بھی دنیا کے دیگر بے ایمانوں کے مقابلے میں ایک کمزور اقلیت ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں اس دولت کی مقدار (convertible in dollars ) کا نہ ہونا ہے جس سے اربوں ڈالر کی لوٹ کھسوٹ ممکن ہو ۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے جس کو ڈالر میں فوری تبدیل کیا جاسکتا ہو ؟ کوئی تیل ، گیس ، قیمتی دھات ، کوئلہ ، اناج ، کیمیکل یا کھاد جو ہم برآمد کرتے ہوں ؟ کوئی جہاز ، مشین ، آبدوز یا کمپیوٹر جو ہم بناتے ہوں ؟ کوئی تعلیم ، صحت کا ادارہ یا کوئی بڑا بینک یا سٹاک ایکسچینج جہاں کی خدمات بیرونی ممالک خریدتے ہوں ؟ ہمارے ہاں تو so called بد دیانتی (جس کے بدلے ڈالر بیرون ملک رکھے جا سکیں ) کے مواقع بھی برآمدات کی انڈر انوائسنگ اور درآمدات کی انڈر یا اوور انوائسنگ تک محدود ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈالر والی بیرون ملک منتقلی ہمارے ایک کروڑ تارکین وطن کی ترسیلات پر منحصر ہے جسے چاہے تو وہ خود باہر invest کریں اور چاہیں تو حوالہ ہنڈی سے پاکستان کے لوگوں کو یہ موقع فراہم کریں جس سے روپے میں موجود دولت ڈالر میں تبدیل ہو کر بیرون ملک جا سکے ۔ واضح رہے کہ اس نظام پر بھی خاصی ملکی اور بین الاقوامی اداروں (FATF وغیرہ ) نگرانی رہتی ہے ۔

تمہید کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی ہے ۔ مدعا وہی غالب والا ہے کہ
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
1991 کے بھارت میں تو ترقی کا بلیو پرنٹ آہلو والیہ کے چند صفحات پر مشتمل ” ڈاکیومنٹ ایم ” سے بن گیا تھا جس نے معیشت کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کر کے اور وسط مدت سے لانگ ٹرم پالیسیاں بنا کر اور ان پر پہرا دے کر ملک کی معیشت کو دو فیصد سالانہ ہندو ریٹ آف گروتھ سے لگاتار 8 فیصد سالانہ ترقی کرنے والا ملک بنا دیا مگر وہ 1991 تھا اور آج 2024 ۔ دوسرے وہاں 1947 سے 1991 تک تعلیم میں بے تحاشا سرکاری سرمایہ کاری ہو چکی تھی ( ویسے بھی بھارت کو تقسیم پر ملنے والا حصہ پاکستان سے تعلیم ، کاروبار اور حرفت میں خاصا آگے تھا ) اور دوسرے وہاں وسائل میں کوئلہ ، لوہا اور ایلومینیم وافر مقدار میں موجود تھا ۔

اس کے بعد بات آئی صنعت وحرفت کی اساس یعنی سٹیل اور پلاسٹک دانے کی ۔ ہماری ایک (1984 تا 2015 ) سٹیل مل کے مقابلے میں ان کی تیس ملیں ، ہمارے برسوں کے عدم تکمیل شدہ خواب والے ایک نیفتھا کریکر پلانٹ کے بدلے بھارت کے سات نیفتھا کریکر ۔ نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا یعنی بھارتی صنعت 1991 میں سرکاری کنٹرول سے نکل کر نجی شعبے کے ہاتھ میں گئی تو ترقی کو سانس لینا کا موقع نہیں ملا اور ہم سب کچھ نجی شعبے کو دے کر بھی غریب کے غریب رہے ۔

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ماہرین معیشت دو باتوں کو آئندہ دس سال میں پاکستان جیسے ملکوں کے لئے ترقی کی اساس سمجھتے ہیں ۔ایک برآمدات کے قابل صنعتی پیداوار اور دوسرے معیاری آئی-ٹی خدمات۔ اتفاق سے ہم اس زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کے حصول پر کوئی خاص قدغن نہیں ۔ مگر اس کے لئے سرمایہ پھر بھی درکار ہے ۔ مشین اور پلانٹ بھی سرمایہ مانگتے ہیں اور انسانی سرمائے کی ترقی کے لئے آئی ٹی اور صنعتی / مینجمنٹ سکلز بھی ۔ قدرتی وسائل کی کمی کی وجہ سے دھاتیں اور پلاسٹک دانہ بھی باہر سے آنا ہے اور پٹرول اور گیس بھی ۔

یہ سرمایہ کاری حکومت کے بس کی بات نہیں مگر اتنا ضرور ممکن ہے کہ ایک لانگ ٹرم صنعتی اور آئی ٹی پالیسی سے حکومت نجی شعبہ کے لئے یہ سرمایہ کاری آسان بنا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں حکومت نہ تو سستے قرضے دے سکتی ہے ، نہ ٹیکسوں میں چھوٹ اور نہ ہی بجلی /گیس / پٹرول میں بہت زیادہ رعایت ۔ لے دے کر حکومت کے پاس برآمد کے قابل صنعتی اور آئی ٹی کی ترقی کے کل 6 ممکنہ اسباب ہیں ۔

1۔ بیرونی مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے پندرہ سے بیس صنعتی شعبوں کا انتخاب جن پر حکومتی توجہ پوری طرح مرکوز رہے (تمام شعبوں کے لئے نہ تو سرمایہ ہے اور نہ ہی حکومتی وسائل) ۔
2۔ ان صنعتوں کے لئے بالخصوص اور باقی کے لئے بالعموم ٹیرف ( کسٹم ڈیوٹیوں) کا اسطرح سے تبدیل کرنا (زیادہ صورتوں میں کم کر کے صفر کرنا ) کہ ان صنعتوں سے وابستہ چھوٹے بڑے تمام کاروبار ترقی کر سکیں ۔
3۔ صنعتوں پر عائد سینکڑوں حکومتی منظوریوں اور نگرانی کا خاتمہ ( جس سے صرف رشوت کے مواقع جنم لیتے ہیں ) اور remote methods
سے حکومتی حفاظتی اہداف کا حصول ۔
4۔ صنعتوں اور آئی ٹی کے علاوہ مارکیٹ میں موجود زیادہ شرح سے اور آسان منافع دینے والی تمام صورتوں پر بھاری ٹیکسوں سے سرمائے کا رخ برآمدی شعبے کی طرف موڑنا۔
5۔ ان صنعتوں کے لئے کرائے کی بنیاد پر فوری کام شروع کرنے کے وعدے پر plug and play industrial parks کا حکومتی ترقیاتی بجٹ سے اہتمام جس میں پیداوار روکنے والے کو دو ماہ بعد eviction notice مل جائے ( زمین اور انفراسٹرکچر کل سرمایہ کاری کا ساٹھ فیصد بن جاتا ہے جو حکومت اپنی ملکیتی زمینوں سے تقریبا” مفت دے سکتی ہے ) ۔
6۔ حکومتی اداروں مثلا” سمیڈا وغیرہ کی handholding سے مائکرو صنعت کو سمال ، سمال کو میڈیم اور میڈیم کو لارج کاروبار میں بدلنا ۔
بات کرنے میں سب کچھ بہت آسان دکھتا ہے مگر کرنے نکلیں تو مستقل مزاجی اور درست سمت کے دس سال لگ کر ہی کوئی ترقی کی شکل نکلنا شروع ہوگی اور مشکل یہ ہے کہ ان اقدامات کا ارادہ بھی مشکل ہے ۔ یہ سب کچھ ایسا ہی آسان ہوتا تو آج ہم بھی دو سو ارب پتی ( ڈالر والے ) والا ملک ہوتے ۔
اَے بَسا آرْزُو وغیرہ

جاری ہے

Advertisements
julia rana solicitors

بشکریہ فیسبک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply