• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آزاد، غیر جانبدار سچائی ، مصالحتی کمیشن اور عدالتی انکوائری/نصیر اللہ خان ایڈووکیٹ

آزاد، غیر جانبدار سچائی ، مصالحتی کمیشن اور عدالتی انکوائری/نصیر اللہ خان ایڈووکیٹ

آزادی سے لیکر اب تک اس ملک میں اقتدار اور طاقت کا منبع سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے۔ہائبرڈ حکومتیں اسٹیبلشمنٹ کا اہم ہتھیار ہیں ،دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومتیں بنانا اور گرانا اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر ہوتی ہے اورسارے نظام کے ڈانڈے برٹش کالونیل نظام میں پنہاں ہیں ۔ جس وجہ سے ملکی نظام میں ہر وقت سیاسی اور معاشی بحرانات پیدا ہوتے رہتے ہے۔ ایسے بیانات زبان زد عام ہیں  کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں  اور حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ غریب مزید غریب اور مالدار مزید مالدار ہو رہا ہے۔ پاکستانی تاریخ کچھ اس طرح ہے کہ سازش، دباؤ اور دھاندلیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ عدالتی انکوائری اور سچائی و مصالحتی کمیشن کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یاد رہے پارلیمنٹ، عدلیہ اسٹبلشمنٹ یعنی ایگزیکٹوز کا ربڑ سٹیمپ بنا ہوا ہے ۔دراصل عدالتی انکوائری اور کمیشن سےکرپٹ سیاستدانوں کے علاوہ ڈکٹیٹرز  احتساب کی زد میں آتے ہیں۔ اس لئے جب تک ملکی ادارےغیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرینگے  ،تب تک  ان مقتدرہ اور کرپٹ سیاسی عناصر کے اثرو نفوذکو کم نہیں کیا جاسکتا ۔بدیں وجہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

ہائبرڈ رجیم چینج کا کمال دیکھیے کہ عدالت کے ذریعے ایک پارٹی سے بزور پارٹی کا نشان لیا گیا، ان کو الیکشن کمپین نہیں کرنے دی گئی ، ان کی پکڑ دھکڑ روز کا معمول رہا، الیکشن کے دن انٹرنیٹ سروس معطل ہوئی ، ای وی ایم مشین بند کی  گئی  اور مبینہ طور پرفارم 47 کے تحت جعلی اسمبلی لائی گئی اور وزراء تک  حکومت کی مرضی سے نہیں لگا نے دئیے گئے۔ حکومت ایسی ہے کہ ممبران شرم سے بات کرتے ہوئے سر نیچے رکھتے ہیں ۔ آخر کار سیاستدان ہیں ، کچھ تو لحاظ رکھتے ہوں گے اپنے اخلاق و روایات اور آئین و قانون کا۔ جب کسی سیاستدان سے پوچھیں کہ حالیہ الیکشن میں پاکستان کی  تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی ہے تو گویا ہوتے ہیں  کہ 2018 میں بھی تو دھاندلی ہوئی تھی۔ بعض سیاستدان 2018 کو 2024 سے ملانے کیلئے کس بے شرمی سے اور ڈھٹائی سے دفاع کرتے ہوئے ذرہ  برابر نہیں ہچکچاتے۔ان سیاستدانوں کاسچائی اور دیانتداری سے دور دور کا  واسطہ نہیں رہا ۔ ا بھی تو حکومتی صفوں سے بھی فارم 47 کی  باتیں دبے لفظوں میں آنی  شروع ہوئی ہیں۔ اس کے با وجود پاکستانی سیاستدان ایک صفحےپر آنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب یہ  ہے کہ ایک نے غلطی کی ہے تو ان کو بھی غلطی کرنے کی گنجائش دینی چاہیے۔

آپ بخوبی سمجھتے ہیں   کہ اس مملکت میں آئین اور قانون کا کیا عمل دخل ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے  چھ  ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط سپریم کورٹ میں فل بنچ کے سامنے زیر سماعت ہے جس میں ججز نے نام لے لے کر بتایا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے ججز کودھمکی  آمیز رویوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ اسکے باجود ججوں کومزید دھمکیاں ملنا سوالیہ نشان ہے۔عوام کہاں جائے، جب منصف خود  اپنے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔جب کسی ملک کی  سیاسی پارٹیوں کے  نظریات پولر از  ہوجائے تو پھر وہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

حالیہ طور پر گندم سکینڈل کے مرکزی کردار بھی اب آشکار  ہو چکے  ہیں۔نگران حکومت نے قانون سے ماورا بیرون ملک سے لاکھوں ٹن خراب قسم کی  گندم درآمد کی  اور اب پنجاب کےکسانوں کی  تیار فصل پنجاب اور وفاق خرید نے کیلئے تیار نہیں ہے، جو کہ خراب ہونے والی ہے اور یہ ظلم کسانوں کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔

حالیہ کشمیر کے واقعات کے ڈانڈے پچھلےسال سے شروع ہوئے ہیں اورجس میں بشمول سرکاری اہلکاروں کوجان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ کچھ عناصر ان واقعات کو بھارت کی سازش قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ عوام اورجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ڈیمانڈ یہ ہے کہ جب ہمارے وسائل پانی سے حکومت کم قیمت پربجلی بنارہی   ہے، تو کیونکر کئی گنا زیادہ قیمت پر واپس عوام پر فروخت کی جا رہی  ہے۔ اس نسبت حالات کو قابو کرنے کیلئے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے ۔سوچنےکی بات ہے کہ مظاہرین اب انڈ یا اورپاکستان سے آزادی لینے کے نعرے لگاتے ہوئے ذرہ برابر نہیں ہچکچاتے ہیں۔

دوسری طرف مالاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ،کسٹم ٹیکس اور انکم ٹیکس اوردیگر مجوزہ ٹیکسوں کے نفاذ کی وجہ سے پورے ڈویژن میں شٹر ڈاؤن، جلسے جلوس اور مظاہروں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ تاجر برادری ، وکلاء اور دیگر ایسوسی ایشن ہڑتال پر ہیں۔مالاکنڈ قومی جرگہ ڈویژن بھر میں فعال ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومت پاکستان نے مالاکنڈمیں کوئی میگا انڈسٹری نہیں لگائی بلکہ جو سمال انڈسٹری تھی وہ بھی دھمکیوں اور ٹیررازم کا شکارہوتے ہوئے پنجاب جانے پر مجبور ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں حکومتِ پاکستان کے خلاف نفرت بڑھتی چلی جا رہی ہے اور علاقہ میں اشتعال اور بے چینی کی فضاپنپ رہی ہے۔

اس ملک میں سیاست اور جمہوریت کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ختم کر دیا گیا ہے، جس میں اولین ذمہ داری ریاستی اداروں اورسیاست دانوں کی بنتی ہے کیونکہ ادارے اور سیاستدان اپنی پارٹی کے تحفظ میں ملک کی مقتدرہ کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے دوسری سیاسی پارٹیوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ آئین اور قانون کی باتیں اس ملک میں ایک سراب کی مانند لگتی ہیں، کیونکہ قانون کی پاسداری پارلیمنٹ میں ہوتی ہے اور نہ ہی عدلیہ اس پر عمل درآمد کرواتی ہے۔یہاں تک کہ بیوروکریسی، ایگزیکٹوز، لا ءانفورسمنٹ ایجنسیز قانون و آئین کے برعکس اپنی خود ساختہ بنائی ہوئی پالیسی پر قانون کی تشریح اور نفاذ کرتے ہیں۔ملک میں اشرفیہ اور بیوروکریسی سے احتساب کی کوئی روایات نہیں ۔چند ایک مقدمات بنتے ہیں اور ان کو بعد ازاں مداخلت پرختم کروادیا جاتا ہے۔ اب تو داخلی کے علاوہ خارجی شہادت یعنی  آئی ایم ایف اور دوسرے انٹرنیشنل اداروں نے بھی کھل کر کہہ  دیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تک سیاسی معاشی استحکام نہیں آسکتا جب تک عوام نے جس پارٹی کو مینڈیٹ دیا ہوا ہے اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس پارٹی کے ساتھ مذاکرات نہیں کئے جاتے۔ اس لئے اب کہیں  جاکر سیاسی پارٹیوں کو ہوش آیا ہوا ہے اور مذاکرات کی پیشکش کرتی دکھائی دیتےہیں، کہ اسکے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا ہے۔ضمناً عرض ہے کہ  آئی ایم ایف کے سٹرکچرل ریفارمز کے علاوہ حکومت از خود کوئی میگا انڈسٹری نہیں بنا رہی ہے اور  آئی ایم ایف بھی اسکی مخالفت پر اتر آتی ہے ۔ جس سے ملک کی غلام ذہنیت کی واضح عکاسی ہوتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ کس طرح ملک کے غریب عوام کو پسماندہ اور غریب رکھنا مقصود ہے۔ سمال اینڈ میڈیم اور کہیں  کہیں  میگاانڈسٹری کے علاوہ کوئی دیگر اپشن موجود نہیں ۔ زرعی انڈسٹری سے ہمارا ملک دنیا کےدیگر اقوام کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔

اندازہ لگائیے! کہ سعودی پرنس شہزادہ سلمان کے حالیہ دورے کو جس طرح منسوخ کیا گیااور شاید سعودی عرب کے بھیجے ہوئے وفد کو بھی ملک میں بے چینی اوربے یقینی کا اندازہ ہو چکا ہے۔

ایک نیا سکینڈل “دبئی لیکس” میں پاکستانیوں کی گیارہ ارب ڈالرز کی جائیدادوں کاانکشاف ہوا ہے جس میں 12 بڑےجرنیل، اعلی سیاستدان ،وزراء ، بیوروکریٹس وغیرہ شامل ہے ۔ 17 ہزار پاکستانیوں نے دبئی میں 23 ہزار جائیدادیں کیسی خریدی گئی ہے اداروں پاکستانی اداروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کہاں سے آیا ہے اتنی بڑی رقم ، کوئی جائیداد بنانے کیلئے ایک تاویل دےرہا ہے اور کوئی دوسرا اوراس سارے منظر میں ملکی ادارے خواب غفلت میں سوئے ہیں ۔اشرافیہ نے عدالتوں کا مذاق بنا یا ہوا ہے ، ایف بی آر اور نیب کہاں گم ہے۔ اتنی بڑی اسکیم پر کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ “کوئلہ سکینڈل” بھی منظر عام پر آنے والا ہے ۔ہر طرف ملک میں تماشے اور ڈرامے جاری ہے کوئی پرسان حال نہیں ۔۔

لاہور ہائی کورٹ کے وکلا پر تشدد اور ہڑتالیں کہی کم تھی کہ پنجاب میں مزید محاذ بھی بنتے دکھائے دے رہے ہیں۔

دیگر صوبوں جیسے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بے یقینی اور بے چینی کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ جہاں بارڈر کے آر پار پشتون اور بلوچ اقوام رہائش پذیر ہے وہ ایک دوسرے کی قریبی رشتہ دار ہے اور نگران حکومت نے جس طرح ان اقوام پرپابندیاں لگائی ہےاس کی مہذب دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے ۔ ان کاسارا کاروبارٹھپ کردیا گیا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اب نادرا اور پاسپورٹ ودیگر ایک ایک ویزہ کےلئے ان سے لاکھوں روپے بٹور لیتے ہیں۔ جس وجہ سےخیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں مزید انتشار افتراق اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگا اور ازادی کی تحاریک مزید تیز ہونگی۔

یاد رہے کہ انڈیا کے وزراء میڈیاپر اب برملا طور پر کہتے ہیں کہ ان کے ایجنسیوں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں کئی ایک افراد کو قتل کر دیاہے۔ افغان بارڈر پر بھی دہشت گردوں کی جانب سے خیبر پختونخواہ میں کاروائی کی جاتی ہیں۔ اس سارے منظر نامے میں پاکستانی ایجنسیوں کی ترجیحات کیا ہے ۔ان کو سیاست میں مداخلت کرنے سے فرصت نہیں ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کو بارڈرز پر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔

اس سارے منظر نامے میں کچے کے ڈاکوؤں کے ساتھ ساتھ پکے کے ڈاکوؤں کا بھی انتظام کرنا چاہئے کیونکہ جس طریقے سے ملک کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور جن غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرنے کی حکومت پاکستان ذمہ دار ہے اس اخراجات کے نقصان سے کسی طور پر بھی بچنا محال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دراصل خرابی کی جڑ دراصل پکےّ کے ڈاکووں میں ہےاور جب تک حکومتی اہلکاروں کی غیر ضروری اخراجات کا سد باب نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک میں بے چینی کا دور دورہ رہے گا۔اس کے علاوہ اگر اداروں کے حجم کو چھوٹا نہیں کیا جاتا ، بیوروکریٹک اخراجات کنٹرول نہیں ہوتے، وزراء کے تعداد کو کم نہیں کیا جاتا اور جب تک حکومت اپنے اخراجات اور غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں کو کنٹرول نہیں کرتی اور غیر ضروری طور پر حکومتی اہل کاران کو دی گئی مراعات واپس نہیں لیتی اس وقت تک حکومت اخراجات میں توازن نہیں لایا جاسکتا۔ سب کو پتہ ہے کہ وہ مبینہ اخراجات کون کون سے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میں سمجھتا ہوں کہ ان درجہ بالا تمام واقعات کا ذمہ دار پاکستان میں موجودسیاسی بحران ہے اور جب تک سیاسی بحران تعطل کا شکار رہے گا، حکومت، عدلیہ ،لا انفورسمنٹ ایجنسیز اور سیاسی پارٹیاں ملک کی ترقی کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے برعکس ملک کی داخلی اور خارجی محاذوں پر نئے مسئلے پیدا ہو کر مملکت کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ لہذا اس وقت حکومت، عدلیہ اور اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور ائین کی بالا دستی کی خاطر عوامی مطالبات کو مان کرسچائی کی مصالحتی کمیشن اور ایک آزاد غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تمام جملہ متذکرہ امور میں ملوث ہر کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے مجرمان کوقرار سزائیں دی جائیں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں ترقی کرنے کی راہ پر گامزن کردیا جائیں۔

Facebook Comments

نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply