سِک نوٹ کلچر/فرزانہ افضل

برطانیہ کے وزیراعظم رشی سناک نے گزشتہ دنوں سِک نوٹ کلچر کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ سکھ نوٹ کلچر سے مراد وہ رجحان ہے جس میں ملازمین بیماری کی وجہ سے کام سے چھٹی لیتے ہیں لیکن کچھ ملازمین کا ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو بہانے بازی کر کے سسٹم کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ کیونکہ سک نوٹ میں تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں ملتی ہیں حالانکہ حقیقت میں وہ بیمار نہیں ہوتے۔ رشی سناک کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے ڈاکٹر یعنی جنرل پریکٹیشنر( جی پی ) سے بیماری کا نوٹ لے کر، معمولی بیماری کی صورت میں بھی کام سے چھٹیاں لیتے ہیں۔ جس کا بوجھ گورنمنٹ کے سوشل ویلفیئر اور بینیفٹ سسٹم پر پڑتا ہے۔ حقیقت میں یہ ٹیکس ہندگان کی رقم ہوتی ہے جن کے دیے گئے ٹیکسز سے گورنمنٹ کا سوشل ویلفیئر یا بینیفٹ سسٹم چلتا ہے۔ رشی سنا کا کہنا تھا کہ روزمرہ کے چیلنجو اور زندگی کی پریشانیوں کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر میڈیکل طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کا پلان یہ ہے کہ جی پی کی بجائے متعلقہ ماہرین اور ہیلتھ پروفیشنل بیماری کا نوٹ جاری کریں تاکہ عوام کی کام کرنے میں مدد کی جائے نہ کہ اس بات میں سپورٹ کی جائے کہ وہ کام نہ کریں۔ لیبر پارٹی کے لیڈر سر کیئر سٹامر نے اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اب ٹوری حکومت کے پاس آئیڈیاز ختم ہو گئے ہیں اس بات کے رد عمل میں چیرٹی تنظیموں نے حکومت کی بکھرتی ہوئی پبلک سروس کو بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے حالات برے ہیں اپؤانٹمنٹس کا نہ ملنا، طویل ویٹنگ لسٹ ، نرسنگ اور میڈیکل سٹاف کی شارٹیج، ایجنسی سٹاف پر انحصار اور بہت سے ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کا وقت پر علاج نہ ہونے سے بیماری طویل ہو جاتی ہے۔ اور ایسی صورتحال میں ملازمین بیماری کی چھٹی لیتے ہیں تو قطعی ناجائز نہیں۔ جسمانی صحت کے علاوہ مینٹل ہیلتھ یعنی ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جو ورکرز کے کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ رشی سناک کا موقف یہ تھا کہ ہمیں اسے ایک مثبت علامت کے طور پر دیکھنا چاہیے کہ لوگ ذہنی صحت کے بارے میں اب کھل کر بات کر سکتے ہیں جب کہ چند سال پہلے تو اس کا کوئی تصور بھی نہ تھا۔
اس بات کو تسلیم کرنا نہایت اہم ہے کہ بیماری کی چھٹی جائز وجوہات سے ملازمین لیتے ہیں کہ وہ بیماری، ذہنی صحت کے مسائل، حادثے کا شکار ہونے پر چوٹیں یا پھر کسی ذاتی وجوہات کی بنا پر کام سے چھٹی لینا ان کا حق ہے اور سک لیو کی وجہ سے انہیں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ نوکری کھو جانے کے خوف کے بغیر چھٹی لے کر اپنے صحت کا خیال کر سکتے ہیں۔ لیکن جو ورکرز سسٹم کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور کام سے غیر حاضری کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے مالکان کے کام پر بہت اثر پڑ سکتا ہے مثلاً پروجیکٹس کی تکمیل میں تاخیر اور ساتھی کارکنوں پر کام کا اضافی دباؤ پڑھ سکتا ہے کیونکہ انہیں غیر حاضر کولیگز کے حصے کا کام بھی کرنا پڑتا ہے اس وجہ سے کمپنی کو مالی نقصان بھی ہو سکتا ہے میں نے عارضی طور پر ملازمین رکھنے پڑ سکتے ہیں یا پھر موجودہ ورکرز کو اوور ٹائم دینا پڑتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بیماری کی چھٹیوں کا کلچر دوسرے ملازمین پر منفی  اثرات  ڈال سکتا ہے یعنی وہ کام کے بوجھ اور پریشر سے ناخوش اور چڑچڑے پن کا شکار ہو سکتے ہیں جس سے پوری کمپنی کا ماحول منفی اور ٹینشن زدہ ہو جاتا ہے۔
زیادہ تر کمپنیوں نے بیماری کی چھٹی کی پالیسیز مرتب کی ہوتی ہیں ۔ بیماری کی وجہ سے طویل غیر حاضری اور مزید چھٹی کی درخواست کی صورت میں ڈاکٹر کے نوٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یا بیماری کے دنوں کو ٹریک کرنا، ان کی نگرانی کے لیے نظام کو نافذ کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے ملازمین کو سسٹم کی غلط استعمال سے روکنے میں مدد مل سکتی ہیں۔
گورنمنٹ کو چاہیے اگر وہ سک نوٹ کلچر کو ختم کرنا چاہتی ہے تو مالکان اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کو فروغ دیں۔ مثلاً دماغی صحت کی معاونت کی خدمات ، صحت اور فلاح بہبود کے پروگراموں کی پیشکش اور کام کا مثبت کلچر بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر بیماری کی چھٹی ملازمین کا حق ہے اور مالکان اور ملازمین دونوں کا فرض ہے ایک بیلنسڈ میرے متوازن نظام ترتیب کیا جائے صحت کی وجہ سے ضروری چھٹیاں لینے اور سسٹم کا ناجائز استعمال نہ کرنے کے بارے میں ایک صاف شفاف اور ملازمین کے حق میں ان کے مکمل سپورٹ کرنے والا کلچر بنایا جائے جس میں ورکرز چھٹی لینے میں بھی آسانی محسوس کریں اور ناجائز چھٹی کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کو نیشنل ہیلتھ سروس میں سدھار لانا بہت ضروری ہے اس میں زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کی جاۓ تاکہ ہیلتھ کیئر سسٹم کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو پورا کیا جا سکے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply