پروفیسرشمیم حنفی کی یاد میں /معصوم مرادآبادی

آج 6 مئی ہے۔ آج ہی کے دن تین سال پہلے2021 میں ممتاز دانشور پروفیسر شمیم حنفی نے رخت سفر باندھا تھا۔پچھلے دنوں پروفیسر بدرالدین الحافظ کی تدفین میں شرکت کے لیے جامعہ قبرستان گیا تو وہاں مجھے پروفیسر شمیم حنفی کی قبر بھی نظر آئی۔اس کی ایک تصویر اپنے موبائل سے کھینچی اور محفوظ کرلی تھی کہ کہیں استعمال کروں گا۔ آج اچانک وہ موبائل گیلری میں نظر آگئی تو سوچا کہ ان کی تیسری برسی کے حوالے سے انھیں یاد کروں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں ان کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکا تھا۔ دراصل ایک تو وبائی دور کی وجہ سے جنازوں میں شرکت پر پابندیاں تھیں۔ دوسرے خود میں بستر پر تھا، کیونکہ چند روز پہلے ہی میرے دونوں گھٹنوں کی تبدیلی کا آپریشن ہوا تھا اور میں پوری طرح چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہوپایا تھا۔ میرا اورشمیم صاحب کا تعلق عقیدت اور شفقت کا تھا۔بڑی محبت سے پیش آتے تھے۔میں ان کی علمیت، دانشوری، زبان دانی اورافکار کی بلندی کا قائل تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ انھوں نے کبھی اپنے علم کی کوئی نمائش برپا نہیں کی۔ ذاکر باغ کی چوتھی منزل کے ایک مختصر فلیٹ میں اپنی زندگی کے قیمتی ایام بسر کئے۔جہاں ان کی کتابوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔میں نے ان کے انتقال پر بستر پر لیٹے لیٹے چند تعزیتی جملے لکھے تھے۔ انھیں جوں کا توں آپ کی نذرکرتا ہوں۔
پروفیسر شمیم حنفی کے انتقال سے اردو دنیا سوگوار ہے۔انھوں نے ایک ایسے دور میں آنکھیں موندی ہیں جب تعزیت کے الفاظ بے معنی ہوچکے ہیں۔کورونا کی زد میں آکر جان ہارنے والوں کا ایسا لامتناہی سلسلہ ہے کہ اب دل بیٹھنے لگا ہے اور خدا سے یہی کہنے کو جی چاہتا ہے کہ اب بس کردے میرے مولا۔پچھلے ہفتہ جب ایک دوست نے شمیم صاحب کے کورونا کی زد میں آنے اور اسپتال میں داخل ہونے کی خبر دی تو مجھے تشویش ضرور ہوئی تھی، لیکن میں نے جان بوجھ کر انھیں فون نہیں کیا کہ جب صحت یاب ہوکر گھر آجائیں گے تو ہمیشہ کی طرح ان سے ڈھیروں باتیں کروں گا۔اسپتال سے ان کی بعافیت واپسی کا یقین مجھے اس لیے زیادہ تھا کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے مختلف اور خطرناک بیماریوں سے پوری جرات اور ہمت کے ساتھ لوہا لے رہے تھے۔اب ان کا نیا گھر دیکھنے کا بھی شوق تھا کہ وہ حال ہی میں ذاکر باغ سے جسولا منتقل ہوئے تھے۔مگر میری تمنا پوری نئی ہوئی اور ان کی تعزیت میں یہ چند جملے لکھنے بیٹھا ہوں تو الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔میں انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الفاظ کہاں سے لاؤں؟
شمیم صاحب میں بلا کی قوت ارادی تھی اور زندہ رہنے کا شوق بھی۔وہ زندگی سے بھرپور اور حوصلہ مندانہ گفتگو کرتے تھے ۔ میں جب بھی ان کے دولت کدے پر حاضر ہوتا تو دیر تک گفتگو ہوتی تھی اور علم ودانش کے بہت سے موتی اپنی جھولی میں بھر کر لاتاتھا۔ان سے میرے مراسم کا دورانیہ کوئی تین دہائیوں پر محیط ہے، لیکن ان سے قربت اس وقت پیدا ہوئی جب کوئی بیس برس پہلے انھوں نے میرے اخبار ’خبردار‘ کے آخری صفحے کے لیے کالم لکھنا شروع کیا۔اس کالم کو ایسی ہی مقبولیت حاصل ہوئی جیسی کسی زمانے میں ’بلٹز‘ میں خواجہ احمد عباس کے آخری صفحہ کو ملی تھی۔ ان سے قربت بڑھی اور ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ میں ہرماہ ان سے کالم لینے ان کی خدمت میں خود ہی حاضر ہوتا۔انھوں نے ستمبر2002 سے مئی 2004 تک میرے اخبارکے لیے کوئی چالیس کالم لکھے اور وہ اتنے مقبول ہوئے کہ لوگ اگلے کالم کا انتظار کرتے تھے۔ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا کہ ”بھئی کوئی ادبی مضمون کتنی ہی تحقیق و جستجو سے لکھو مگر اس کا وہ رسپانس نہیں ملتاجو آپ کے اخبار میں شائع ہونے والے کالم کا ملتا ہے۔“ دراصل میرا اخبار اپنی سنجیدہ صحافت کے سبب ملک کے علمی و ادبی حلقوں میں بہت مقبول تھا اور تمام قابل ذکر ادیب وشاعر اس کے قاری تھے۔
ان کے انتقال پرخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بیشتر لوگوں نے انھیں نقاد، شاعراور ڈرامہ نگار کے طورپر یاد کیا ہے۔ بلاشبہ ان میدانوں میں ان کی خدمات بہت وسیع ہیں، لیکن کسی نے انھیں کالم نگار کے طورپر یاد نہیں کیا، جبکہ انھوں نے 100سے زیادہ کالم لکھے اوراس کا سلسلہ 1980سے2004 تک جاری رہا۔یعنی لگ بھگ ایک چوتھائی صدی۔ ان کے یہ مقبول عام کالم اردو کے علاوہ ہندی میں بھی شائع ہوئے۔2014میں پروفیسر خالد جاوید نے ان کالموں کا انتخاب ’’یہ کس کا خواب تماشا ہے‘‘کے عنوان سے شائع کیا تھا۔ چارسو سے زائد صفحات کی اس کتاب میں پروفیسر شمیم حنفی کے مختلف اور متنوع موضوعات پر لکھے گئے کالم شامل ہیں۔ ان کے ان کالموں کا سب سے بڑا حسن ان کی زبان اور موضوعات پر گرفت ہے۔وہ اتنی ستھری اور دل میں اترجانے والی زبان لکھتے تھے کہ شاید ہی اب کوئی دوسرا لکھ سکے۔
پروفیسرشمیم حنفی کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ادب میں گروہ بندی کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی کسی قسم کی پی آر شپ کرتے تھے۔ وہ ایک اوریجنل دانشور اور مفکر تھے۔نہ ہی زندگی میں کبھی انھوں نے انعام واکرام کا تعاقب کیا۔ پچھلے دنوں جب انھیں دوحہ (قطر)کی مجلس فروغ اردوکا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا تو میں نے انھیں مبارکباد کا فون کیا۔ انھیں میرے فون سے ہی اس ایوارڈ کی خبر ملی تھی۔ کہنے لگے ”معصوم تم سے بہتر میرے مزاج کو کون سمجھ سکتا ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی ان چیزوں کی پروا نہیں کی۔جو کچھ بن مانگے مل گیا وہ لے لیا، جو نہیں ملا اس کا کبھی کوئی افسوس نہیں کیا۔“
پروفیسر شمیم حنفی برصغیر میں اردوکی ادبی و تہذیبی روایت کا ایک روشن ستارہ تھے۔اب اس قبیل کے لوگ اس دنیا میں خال خال ہی باقی ہیں۔ مشہور براڈ کاسٹر رضا علی عابدی نے انھیں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔”دانش وآگہی کی دنیا میں اندھیرا باقی رہ جائے گا۔اب نہ پیدا ہونے کے ایسے ہیرے جیسے لوگ۔ علم سے دل لگاتے لگاتے شمیم حنفی بھی سدھارے۔
جن جن کو تھا عشق کا آزار مرگئے۔“
آخر میں ان ہی کا ایک پسندیدہ شعر آپ کی نذر کرتا ہوں جو ان کی قبر کے کتبے پر بھی لکھا ہوا ہے۔
میں نے چاہا تھاکہ لفظوں میں چھپالوں خودکو
خامشی لفظ کی دیوار گرادیتی ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply