مولانا فضل الرحمان سے 10سوال/نجم ولی خان

مولانا فضل الرحمان بھلے سیاستدان ہیں، میں ان کی گفتگو کی اعلیٰ صلاحیت کا ہمیشہ سے قائل ہوں، وہ جو بھی کر رہے ہوں، اچھا ہویا برا، اس کے لئے دلائل بھی رکھتے ہیں۔ وہ اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے اہم ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ تکلف برطرف، وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی عشرو ں کی سیاسی جدوجہد کا ثمر اب ملنے ہی والا ہے۔ وہ ان کے ساتھی یقین سے بھرے تھے کہ ان انتخابات کے بعد نہ صرف ان کے بغیر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں نہیں بن سکیں گی بلکہ وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ صدر کے عہدے کے لئے زرداری صاحب کو ناک آؤٹ کر سکیں۔

ہر سیاستدان کو اس طرح سوچنے اور امیدیں رکھنے کا حق ہے کہ سیاست اقتدار کے لئے ہی کی جاتی ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنی اقدار کو نافذ کیا جا سکے مگر انتخابی نتائج نے مولانا کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا اور پھر انہوں نے اپنی کئی عشروں کی سیاست سے یو ٹرن لے لیا۔ محترم المقام مولانا فضل الرحمان کاکہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور ان کامینڈیٹ چرا لیا گیا ہے۔ یہ بات پاکستان کا ہر وہ سیاسی رہنما کہتا ہے جو الیکشن ہار جاتا ہے۔

پاکستان کے انتخابات میں سیاستدانوں کے لئے یا جیت ہوتی ہے یا دھاندلی ہوتی ہے، تیسری کوئی بات نہیں ہوتی سو مولانا بھی کوئی نئی اور حیران کن بات نہیں کر رہے۔ اب وہ ایک تحریک چلانے جا رہے ہیں جس کے مقاصد وہ بہت سارے بیان کرتے ہیں مگر میری حد تک نامعلوم ہی ہیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے واقعی علم نہیں کہ مولانا کی منزل اب کیا ہے تاہم جس طرح انہیں بطور سیاستدان اپنا سیاسی مؤقف رکھنے کا حق ہے اسی طرح مجھے بطور صحافی سوال پوچھنے کاحق ہے۔ میں خلوص دل سے چاہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان غصے میں تباہی کے راستے پر نہ چلیں، چاہے وہ ان کی اپنی ہو یا ملک کی۔

میرا دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے والے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ سے پہلا سوال ہے کہ کیا وہ الیکشن سے پہلے ہی نہیں جانتے تھے کہ وہ ہار رہے ہیں؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ رائے عامہ کے تمام جائزوں میں خیبرپختونخوا میں جے یو آئی، پی ٹی آئی سے پیچھے نہیں بلکہ بہت پیچھے تھی؟ میرا دوسرا سوال بھی اسی سے متعلقہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کے واحد سیاستدان نہیں تھے جو انتخابات کا مزید التوا چاہتے تھے اوراس کے لئے امن و امان کے ساتھ ساتھ موسم کے جواز بھی پیش کر رہے تھے؟ مانیں یا نہ مانیں، وہ پہلے سے جانتے تھے کہ وہ الیکشن ہا ررہے ہیں۔

میرا تجزیہ ہے کہ مولانا کے لئے، پرویز خٹک کی طرح، خیبرپختونخوا کے انتخابی نتائج زیادہ شاکنگ رہے۔ وہ ایسی شکست بارے سوچ بھی نہیں سکتے تھے مگر تیسرا سوال ہے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ اپنے حلقے میں علی امین گنڈا پور سے ہمیشہ ہارتے رہے ہیں اور بڑی لیڈ سے ہارتے رہے ہیں؟ مجھے علی امین گنڈا پور اپنی شخصیت کے حوالے سے کچھ زیادہ پسند نہیں ہیں مگر وہ اپنے حلقے میں بہت مقبول ہیں لہٰذا امولانا کو دھاندلی، دھاندلی کا شور مچانے کی بجائے اپنے حلقے پرکام کرنا چاہئے۔

میرا چوتھا سوال یہ ہے کہ وہ ہارے کس سے ہیں؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ وہ جس سے ہارے ہیں اسی کے ساتھ مل کر دھاندلی کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ وہ اس نوازلیگ پر چڑھا ئی کر رہے ہیں جو پہلے ہی ہانپتی کانپتی حکومت کر رہی ہے جس کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی کے ہاتھ پاؤں بندھ جانے کے بعد دو تہائی نہیں تواسے سادہ اکثریت توضرور مل جائے گی مگر ملا کیا؟ اب وہ حکومت چلانے کے لئے پیپلزپارٹی کی بھی دست نگر ہے۔

میرا پانچواں سوال ہے کہ کیا انہیں کبھی یاد نہیں آتا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیا بیانیہ بنایا تھا؟ میں یاد کروا دیتا ہوں کہ وہ عمرن خان کو یہودی ایجنٹ بھی کہتے رہے، مالی کے ساتھ ساتھ اخلاقی جرائم کا مجرم بھی۔ تو کیا الیکشن ہارنے کے بعد مقتدر حلقوں پردباو ئبڑھانے کے لئے جناب عمران خان ان کے لیے دودھ کے دھلے ہوگئے ہیں؟ ویسے جے یو آئی سے زیادہ پی ٹی آئی کا ورکر پریشان ہے کہ وہ مولانا بارے تھُوکا کیسے چاٹے گا۔

مولانا، پی ٹی آئی سے ہارنے کے بعد پی ٹی آئی پر ہرگز، ہرگز غصے میں نہیں ہیں بلکہ مقتدر حلقوں پر شدید برہم ہیں سو یہاں میرا چھٹا سوال ہے کہ کیا وہ واقعی یہ سمجھتے تھے کہ مقتدر حلقے انہیں جتوا دیں گے اور اسی سے جڑا دوسرا سوال ہے کہ وہ خود بتائیں جہاں وہ دو، چار، چھ یا دس ہزار نہیں بلکہ ایک بڑی لیڈ سے ہار رہے ہوں وہاں انہیں کیسے جتوایا جاتا؟ میرا ساتواں سوال ہے کہ وہ اب ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے ہیں کہ مقتدر حلقوں نے سیٹوں کی بندر بانٹ کی ہے اور بلوچستان اسمبلی کے بارے تو پچاس، ساٹھ ارب بولی کی باتیں بھی کر رہے ہیں تو میرا بلوچستان اسمبلی کے حوالے سے ہی سوال ہے کہ کیاجب انہوں نے2017ء کے بڑے رجیم چینج آپریشن میں بلوچستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت ختم کروائی تھی اور باپ، بنائی گئی تھی تب تو آپ اس بندر بانٹ سے بہت مطمئن نہیں تھے، اس کی وکالت نہیں کرتے تھے؟ بلکہ اس سے بھی بہت پہلے جب 2002ء کے انتخابات ہوئے تھے اور آپ کو خیبرپختونخواہ کی حکومت کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی اپوزیشن لیڈری بھی عطا ہوگئی تھی تو کیا آپ کو اس وقت کی تقسیم پر کوئی اعتراض تھا؟ کوئی تحریک چلائی تھی؟ چلیں، اسی دور میں واپس آجاتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ یہ سب غلط ہے تو میرا ا ٓٹھواں سوال ہے کہ کیا آپ نے پی ٹی آئی (یا سنی اتحاد کونسل) کی مخصوص نشستیں لیتے ہوئے بھی سوچا کہ یہ بھی غلط ہے؟

میں جس مولانا فضل الرحمان کو جانتا ہوں وہ ملکی آئین اور قومی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے سیاستدان ہیں سو میرا نواں سوال ہے کہ ان کی یہ تحریک ملکی سیاست اور معیشت کو کس طرف لے جا سکتی ہے؟ میں تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور جانتا ہوں کہ پاکستان کے مخصوص سیاسی پس منظر میں کوئی بھی احتجاجی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک اسے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل ہو نہ ہو اور میری اطلاعات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اس وقت ملکی سیاست اور قومی معیشت کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میرا اس میں دسواں سوال ہے کہ مولانا جس قسم کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کر رہے ہیں کیا وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ وہ فطرتا ًعمران خان بن سکتے ہیں؟ مجھ سے پوچھیں تو میرا جواب نفی میں ہے۔ کیا آپ کو بھی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کھلاڑیوں کی حمایت حاصل ہے؟ کرکٹ کا کھلاڑی اگر ہاکی کھیلنے کی کوشش کرے تو پیر تڑوا کے بیٹھ جاتا ہے۔ مولانا اور ان کے چاہنے والے برا نہ منائیں، وہ جہاں کھیل رہے ہیں وہ ان کا میدان ہی نہیں ہے۔

Facebook Comments

نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply