“کتے اور ہم”

صبح صبح واک کے لئے جانا تازہ ہوا سے پھیپھڑوں کی ٹکور، ابھرتے سورج کی تمازت سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور اندرونی و بیرونی خامشی سے لطف اندوز ہونے کا باعث ہوتا ہے۔صبح جب میں واک کے لئے نکلتا ہوں تو میرا ڈوگی “موشو”بھی میرے ساتھ ہوتا ہے۔ایسا ہے کہ موشو کی دوستی ہمارے گھر کے قریب موجود ایک فارم ھاوس اور پیٹرول پمپ کے رہائشی تین کتوں سے ہے جنہیں ان کے مالک نے کھلا چھوڑا ہوا ہے۔کبھی کبھار موشو کے تینوں دوست بھی اس کو کمپنی دینے کے لئے ساتھ ہوتے ہیں۔
گذشتہ روزجب حسب معمول میں اور موشو سیر کے لئے نکلے تو موشو کے دوست بھی ساتھ ہو لئے۔میں رستے میں ان چاروں کی حرکات کا مشاہدہ کرتا گیا۔جاتے ہوئے رستے میں نا تو کسی جگہ رکے نا ادھر ادھر منہ مارا نا ہی کسی پر بھونکے۔واپسی پر میں نے ایک بیکری سے دودھ اور بریڈ پکڑے تو ان چاروں کے لئے پنیر لے کر اس کے چار حصے کر لئے۔
رستے میں ایک رگبی گراونڈ پڑتا ہے جس کے باہر بینچ وغیرہ رکھے ہوئے ہیں جہاں صبح صبح واک کے لئے آئے مرد و حضرات کا کافی رش ہوتا ہے۔میں وہاں بنچ پر بیٹھ کر جب موشو اور اس کے چاروں دوستوں کو پنیر کھلا رہا تھا تو ارد گرد سے گزرتے افراد کے ساتھ موجود کتوں میں سے کسی کو بھی کچھ پرواہ نہیں تھی۔مجال جو کسی نے کتوں کی طرح منہ اٹھا کر پنیر کی طرف دیکھا بھی ہو۔میں سوچ رہا تھا کہ یہاں کے کتوں اور پاکستان کے کتوں میں اس تہذیبی ارتقاء کے فرق کی وجہ کیا ہے۔جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ تھا کہ کتا اپنی عادات و اطوار اپنے مالک سے سیکھتا ہے۔جیسے سکاٹ لینڈ کے لوگ ویسے ان کے کتے اور جیسے ہم پاکستانی لوگ ویسےہمارے کتے۔اگر یہ کتے نادرا آفس کے باہر لائن توڑتی، راہ چلتی دوشیزاوں پر آوازوں اور نظروں کے نشتر کستی، دوسروں کے کام میں فضول کی ٹانگ اڑاتی ،بابا فرید کے دربار پر لنگر کے لئے ایک دوسری کی قمیضیں پھاڑتی، پاوں مسلتی لڑتی بھڑتی پاکستانی عوام کو دیکھ لیں تو بالیقین اپنے کتا ہونے پر فخر محسوس کریں۔
ان چاروں کو پنیر کھلا کر ہم واپسی کو ہو لئے۔رستے سے میں نے ایک اور شاپ سے بریڈ پکڑی اور اسے یونہی عام شاپر میں ڈال کر ہاتھ سے لٹکا لیا۔اب چاروں کتوں کو یہ محسوس ہو رہا تھا شاید یہ بریڈ ہمارے لئے ہے۔کبھی لپک کر میرے آگے آتے کبھی پیچھے۔غرضیکہ جو کتے جاتے وقت اپنی ہی مستیوں میں گم تھے اب میرے آگے پیچھے گھوم رہے تھے اور مجھے ان کے کتے پن پر ہنسی آ رہی تھی۔
جب میں اپنے گھر کے صدر دروازے سے داخل ہو رہا تھا تو چاروں کتے مجھ پر لپک رہے تھے۔میں دروازے سے داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ صرف موشو اندر داخل ہو رہا تھا اور باقی کے تینوں کتے دروازے کے باہر کھڑے تھے۔غور کرنے پر مجھے اندازہ ھوا کہ شاید وہ موشو کو بائے بائے ٹیک کئیر بول رہے تھے یا پھر انہیں اپنی حدود کا ادراک تھا کہ بے شک بریڈ کا لالچ اپنی جگہ مگر ایک حد میں رہ کر، وہ محض بریڈ کی خاطر گھر کی چاردیواری پھلانگ کر اپنے دوست موشو کو میری نظر میں شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
میں بریڈ ہاتھ میں لئے کھڑا موشو اور اس کے دوستوں کی طرف دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ واقعی قرآن مجید درست فرماتا ہے۔ ہم نے انسانوں کے لئے جانوروں میں بھی سبق رکھا ہے۔ موشو کے دوستوں کا جاتے ہوئے مجھ سے بے نیاز اور واپسی پر پنیر اور بریڈ دیکھ کر بیتاب ہونا “غرض"” سے جڑے تعلقات کو وضح کرتا ہے۔ یورپ کے تو کتے بھی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، انسان تو انسان۔جب کہ ہمارے معاشرے میں دوسرے کے لقمہ تر پر نظر رکھنا اور حسد و بغض کی بھٹی میں بلاوجہ سڑتے رہنا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔
گھر کے دروازے میں داخل ہوتے وقت باقی کتوں کا اپنی حدود سے تجاوز، نہ کرنا درحقیقت دیگر کتوں کے لئے ایک رول ماڈل اور انسانوں کے منہ پر طمانچہ تھا کہ ہم کتے ہو کر اپنی حدود سے واقف ہیں اور تم انسان ہو کر اپنی حدود سے نا آشنا۔

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *