• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سیکس ایجوکیشن ، مدارس دینیہ اور مذہبی طبقہ۔۔صاحبزادہ عثمان ہاشمی

سیکس ایجوکیشن ، مدارس دینیہ اور مذہبی طبقہ۔۔صاحبزادہ عثمان ہاشمی

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ  ہمارا مسئلہ کیا ہے  ۔ آپ ماضی قریب میں رونما ہونے والے حادثے کو ہی لے لیجیے ، جس میں ایک معصوم کلی زینب کو مسل دیا گیا   اور اس واقعے کے ردعمل میں پوری قوم میں غم و غصہ کی شدید لہر  دکھائی دی

اس دلدوز سانحے کے فوراً  بعد ہی اس کے محرکات و اسباب کو تلاش کرنا شروع کردیا گیا ۔ کہیں اس کی وجہ قانون شکنی اور متعلقہ محکموں کی غیرذمہ داری قرار دی گئی   اور کہیں والدین کی جانب سے بچوں کو اس حوالے سے مناسب معلومات کی عدم فراہمی کو ایک سبب قرار دیا گیا ۔اور ایسے میں سدباب کے طور ایک آواز جو سب سے زیادہ بلند ہوری ہے وہ ہے ” سیکس ایجوکیشن”۔

ایک طبقے کا خیال ہے  کہ اگر تعلیمی اداروں میں اس تعلیم کو بھی شامل ِ نصاب کردیا جاۓ تو اس طور کے واقعات کو کسی حد تک قابو کیا جا سکتاہے ، جبکہ ایک دوسرا طبقہ اسے جنسی بے راہ روی کا سبب قرار دیتا ہے اور ” سیکس ایجوکیشن” یعنی کہ  جنسی تعلیم کی شدت سے مخالفت کرتاہے ۔

یہ پڑھیں: قصور: ہماری تفہیم کا دیوالیہ پن۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

جنسی تعلیم کے حامی  و مخالفین کی آراء اور تحاریر دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے  کہ دراصل یہ دونوں ہی  طبقات (اکثریت) اپنے دعوے کے بارے میں ہی معلومات نہیں رکھتے ۔ اگر موخر الذکر طبقہ کے سامنے جنسی تعلیم کا نام لیا جاۓ تو انکا رد عمل اس طرح کا ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے کسی بہت ہی فحش حرکت کی جانب اشارہ کردیا ہے  ۔ میں نے بہت سے ایسے دوستوں سے( جوکہ اس تعلیم کے مخالف ہیں ) سوال کیا کے ان کے نزدیک ” سیکس ایجوکیشن” سے کیا مراد ہے ؟ تو ان کے جوابات بیک وقت رولانے اور ہنسانے کے لیے  کافی تھے ۔ ۔ ۔ المختصر ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو  ” پورن موویز” دکھانے میں کچھ دلچسپی  نہیں رکھتے ۔

جب جب مذہبی طبقہ یا مدارس دینیہ کے فضلا جنسی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں، مجھے شدید حیرت ہوتی ہے چونکہ مدارس دینیہ میں سالہا سال سے یہ تعلیم دی جارہی ہے اور اچھی خاصی  دی جارہی ہے، میں نے غالباً  12 برس کی عمر میں متوسطہ (نرسری) میں تعلیم شروع کی تھی تب ہمیں ” تعلیم الاسلام” نامی ایک کتاب پڑھائی جاتی تھی جس میں پاکی اور ناپاکی کے مسائل کی تفصیل بیان کرتے ہوۓ ہمارے استاذ مکرم نے وہ وہ تفصیلات بتائی تھیں جو سولہ برس کے بعد سمجھ میں آئی تھیں ۔

مدارس دینیہ میں سال اول سے لے کر سال پنجم تک الفقہ المیسر ،قدوری ،کنز ،شرح وقایہ اورہدایہ کے باب النکاح میں جنسی تعلیم کے حوالے سے جو معلومات دی جاتی ہیں یورپ کے تعلیمی  اداروں میں دی جانے والی تعلیم تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں  ۔ یہاں یورپ میں تو پھر بھی ” سیکس ایجوکیشن ” کا استاذ نصاب کا پابند ہوتا ہے اس سے ہٹ کر معلومات نہیں دے سکتا اور نہ ہی ایک حد سے آگے گفتگو کرسکتا ہے ۔
جبکہ ہمارے وہاں مدارس دینیہ میں تو اساتذہ جو چاہتے ہیں بتاتے ہیں اور خوب بتاتے ہیں ۔

یہ پڑھیں: انتہا پسندی، ردِ عمل کی نفسیات۔اختر علی سید (آخری قسط بمعہ مکمل سیریز)

پھر سمجھ نہیں آتی کے انہی مدارس کے فضلا جنسی تعلیم کے خلاف کیوں محاز آراء ہیں ۔۔ آپ کا مطالبہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ ” سیکس ایجوکیشن “، ” کو ایجوکیشن ” میں نہ دی جاۓ مگر سرے سے ہی مخالفت کرنا چہ معنی دارد ؟

میں اس مخالفت کو مذہبی طبقہ کی کسی سازش سے تو موسوم نہیں کرسکتا لیکن مجھے لگتاہے  کہ یہ صرف لاعلمی اور سنی سنائی باتوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ ہمیشہ ہی اس راہ میں دیوار بن کر سراپا احتجاج ہوجاتا ہے ۔ ۔ لہذا  پہلے تو یہ جان لیجیے  کہ دینا بھر میں جہاں بھی عصری اداروں میں جنسی تعلیم دی جاتی ہے وہ بچے کی عمر اور اس کے ذہن کو مد نظر رکھتے ہوئے دی جاتی ہے۔اور اس حوالے سے درجہ بدرجہ معلومات میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ عمر کے جس حصے میں ایک بچے کو جتنی معلومات درکار ہوتی ہیں اتنی ہی دی جاتی ہیں  نہ کہ پہلے ہی  درجے میں الف تا ی  سب کچھ بتا دیا جاتا ہے ۔

ابھی کچھ ہفتے قبل کا ہی واقعہ ہے کہ ایک عزیزہ  دوست  کے ہاں کھانے پر مدعو تھا جہاں ان کی دس سالہ بچی بھی موجود تھی اور کھیل میں مصروف تھی ۔ باتوں باتوں میں بات نکلی کہ بھلے وقتوں میں کراٹے سیکھا کرتا تھا اور اس کھیل کا اچھا کھلاڑی تھا ۔ بچی نے یہ سنا تو میری طرف چلی  آئی اور کہنےلگی مجھے بھی سکول میں سکھاۓ جاتے ہیں اور پھر ” سیلف ڈیفینس ” کے حوالے سے ابتدائی چیزیں بتانے لگی ۔مثال کے طور پر اگر وہ اکیلی ہے اور کوئی اسے پکڑنا چاہتا ہے تو وہ کیا کرے گی ؟ اس کے جسم کے کون سے حصے ہیں جہاں اس کے ماں باپ کے علاوہ کوئی ہاتھ لگاۓ تو وہ کیا کرے گی ؟ وہ اپنے سے زیادہ عمر کے انسان کو کہاں اور کیسے مار سکتی ہے تاکہ وہ بھاگ سکے ؟ اگر اسے کسی سے خطرہ محسوس ہوگا تو مدد کے لیے  کون سے الفاظ کا استعمال کرے گی ؟ وغیرہ وغیرہ۔

یہ پڑھیں :  پیڈوفیلیا۔۔ محمد منیب خان

ایک چھوٹے بچے کو اتنا تو معلوم ہونا ہی چاہیے کہ  اس کے جسم کی حد کیا ہے، کون کہاں تک چھو سکتا ہے اور کس حد کے بعد ممنوعہ علاقہ شروع ہوتا ہے اور اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے  ۔اور عمر کے ساتھ ساتھ بچے کو اضافی معلومات درکار ہوتی ہیں اس کے ذہن میں نئے نئے  سوال اٹھتے ہیں جن کے جوابات  جاننے کی اسے ضرورت ہوتی ہے،  اگر وہ اسے بروقت کسی ماہر استاذ یا والدین کی طرف سے راہنمائی نہیں ملے گی تو وہ یہ سب ” گلی” اور ” انٹرنیٹ ” سے از خود سیکھنے اور جاننے کی کوشش کرے گا اور اس کے  نتائج  عموماً  بھیانک ہی آتے ہیں ۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک  بچہ  جنسی  زیادتی کا شکار ہوتا ہے اور یہ صرف وہ فگر ہے جو کسی بھی طرح سے ریکارڈ میں آیا ہے  وگرنہ درحقیقت اس کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے   اور  یہ  کوئی  آج کل کا واقعہ نہیں بلکہ سالوں سے یہ ظلم ہوتا چلا آرہا ہے  ۔ ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بی بی سی اردو کی کچھ رپورٹس بھی اس کی تائید کرتی ہیں ۔

اور اب معصوم زینب کے ساتھ بیتے حادثے کے بعد تو ہمیں کم از کم اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے  ، اور اس حوالے سے جو بن پڑے کرنا چاہیے  ۔ بلا دلیل اور بلا وجہ مخالفت کرکے ہم  اس آگ کو اپنے گھر تک آنے کا راستہ فراہم کررہے ہیں ۔

کوئی بھی ایسا نہیں کہہ رہا کہ ” سیکس ایجوکیشن ” کے فراہم ہوتے ہی سب بچے محفوظ ہوجائیں گے ۔یہ تو صرف ایک قدم ہے اور پہلا قدم ہے  جس کے فوائد بھی ضرور آپ دیکھیں گے ۔

جس طرح سے معصوم زینب ایک اجنبی شخص کے ساتھ چلی جارہی تھی یہاں یورپ میں آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے  ۔ حتٰی کہ  آپ  کسی بھی ریلوے سٹیشن ، بس سٹیشن یا کہیں  بھی کسی  بچے کو اس کے  ماں  باپ  کی  اجازت  کے بنا ہاتھ تک نہیں  لگا سکتے ، کچھ بھی کھلانے یا  پلانے کی  پیشکش نہیں کرسکتے ۔ اگر آپ ایسا کچھ بھی کرنے کی کوشش کریں گے تو سب سے پہلی  مزاحمت  بچہ  خود کرے  گا  چونکہ  اسے  تعلیمی ادارے میں سات آٹھ  برس  کی عمر سے ہی  اس حوالے سے راہنمائی  ملنا شروع ہو چکی ہوتی ہے ۔ سو  وہ جانتاہے کہ  اسے کیا کرنا ہے ۔

یہ پڑھیں اسلامی مدارس ایک تاریخ اور ایک تجزیہ ۔۔ڈاکٹر غلام نبی فلاحی/حصہ اول

لہذا   جو  احباب  بنا دلیل اور بنا  معلومات  کے  جنسی تعلیم کی مخالفت کر رہے ہیں  ان  سے  گزارش ہے کہ اس پر معلومات لیجیے  اور پہلے  جانیے  کہ  جنسی تعلیم سے مراد کیا ہے ؟ اور مدارس دینیہ کے متعلقین وہ تو خود یہ سب سیکھ چکے ہیں اب دوسروں کو سیکھنے سے کیوں روکنا چاہتے ہیں ؟

حقیقت یہ ہی  ہے  جو میں نے پہلی سطر میں عرض کی کہ ہم من حیث القوم سنی سنائی پر چل رہے ہیں اور ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنے مسئلے سے ہی ناواقف و لاعلم ہیں ۔اور یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے ۔

عثمان ہاشمی
عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *