چوتھا ستون۔۔۔شمشاد احمد

ملک عزیز کی طرح امریکہ برطانیہ فرانس جرمنی سمیت دنیا کے ہر اہم ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں ہوئی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں ہمارے ملک سے زیادہ وہاں میڈیا پایا جاتا ہے ۔ بے گناہ لوگوں کو قتل کر کے پورے ملک میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا دہشت گردوں کا مقصد جس طرح ہمارا میڈیا آزادی صحافت اورسب سے پہلے نیوز بریک کرنے کے نام پر دن رات سسپنس و دہشت کا ماحوال بنا کر سر انجام دے رہا ہے کیا دنیا کے کسی ملک میں اس کی نظیر پائی جاتی ہے۔۔
آج ہی لاہور گلبرگ کی کوریج دیکھ لیں ابھی دھماکے کی آواز آئی نہیں کہ میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔جنریٹر پھٹنے کی خبروں سے دھماکے اور شہادتوں تک سب کچھ بنا تحقیق اپنے فرشتہ صفت نامہ نگاروں کی آراء و خواہشات کے ذریعہ دن بھر قوم کا بلڈ پریشر ہائی کرتے رہے۔ ستم یہ دیکھیں تصدیق ہونے سے پہلے تک جو چینل جنریٹر پھٹنے کی نیوز دے رہے تھے ان کے رپورٹر بھی چیخ چیخ کر جنریٹر دھماکہ کے الفاظ استعمال کر رہے تھے۔۔ مطلب ہمارے آزاد میڈیا نے آزادای صحافت کا یہ مطلب سمجھ رکھا ہے کہ اب انہیں حادثہ اور تخریب کاری کی کورج میں کوئی فرق روا رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ جنریٹر پھٹنا اور جنریٹر دھماکہ میں سے خوف سسپنس اور ریٹنگ جیسے مقاصد کا حصول لا محالہ جنریٹر دھماکہ جیسی رپورٹنگ سے حاصل ہو پائے گی۔۔
عسکری ماہرین کہتے ہیں کہ دہشت گرد سہولت کاروں کے بنا اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔اس لئے دہشت گردی کی اس جنگ میں یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ آیا کسی بھی دہشت گردی کی واردات کے پیچھے دہشت گردوں کا اصل مشن و مقصد کیا ہے۔۔ ماہرین کی اس رائے کے تناظر میں آپ انصاف سے بتائیں کسی تخریب کار یا خود کش حملہ آور کے معاون سہولت کار اور دھماکے کے بعد خوف و ہراس انتشار و افتراق کا ماحوال بنانے والے میڈیا میں کیافرق ہے۔مجھے تو ان میں کوئی بڑا جوہری فرق دکھائی نہیں دیتا دونوں ہی قوم کے اعصاب پر دہشت وخوف طاری کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا نظر آرہے ہیں
دہشت گرد بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کا خوف قوم پر طاری رہے اس میں خود کش حملہ آور سے زیادہ یہ میڈیا ہاوسز کردار ادا کر رہے ہیں۔۔
آپ ذرا سوچیں دہشت گرد کو اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کے لئے مقامی سہولت کار اگر میسر نہ آئے تو وہ شاید کہیں نہ کہیں دھماکہ کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن وہ تباہی کا اپنا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کر پائے گا جس سے ایک تو کم سے کم جانی نقصان ہو گا دوجے ان کی حوصلہ شکنی ہوگی یوں فورسز سمیت قوم کا مورال بلند ہوگا۔۔
آپ ذرا سوچیں خدانخواستہ وہ دھماکہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے بعد سب سے پہلے خبر پہچانے اور ریٹنگ کے چکر میں حواس باختہ میڈیا اگر انہیں میسر نہ ہو توان کی اس کامیاب دہشت گردی کے آدھے سے زیادہ ثمرات اپنی موت آپ مر جائیں گے کیونکہ خوف کا جو ماحول وہ بنانا چاہ رہے تھے وہ بری طرح ناکام ہو جائے گا۔
بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ میڈیا دہشت گردوں کو ان کے مقصد میں ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے بجائے خوف و ہراس پھیلانے میں دہشت گروں کا غیر شعوری سہولت کار بنا دکھائی دے رہا ہے۔ اور ملک کی باگ دوڑ سنبھالے ہمارے اداروں کو دکھائی نہیں دے رہا کہ کہ دہشت گردی کی اس جنگ کے خلاف ریاست کے چوتھے ستون کا غیر شعوری جھکاؤ کس طرف ہے

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *