• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش برآمد

ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش برآمد

SHOPPING
SHOPPING

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری سے ملنے والی لاش کی شناخت ایم کیو ایم لندن کے رہنما کے طور پر ہوئی ہے‘ ایس ایچ او ابراہیم حیدری کے مطابق وہ اپنی گاڑی کی عقبی نشست پر مردہ حالت میں پائے گئے‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر حسن ظفر عارف گزشتہ روز سے لاپتہ تھے اور ان کی تلاش جاری تھی۔

جناح اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جب انہیں اسپتال لایا گیا تو ان کی موت واقع ہوچکی تھی‘ موت کے اسباب کاتعین پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاش پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں ہیں۔

پروفیسر حسن ظفر عارف کی عمر 70 سال تھی اور انہوں نے بائیس اگست 2016 کو ایم کیو ایم کراچی اور لندن قیادت کے درمیان علیحدگی کے بعد لند ن اور پاکستان کے نام سے دو دھڑے وجود میں آئے ۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف جنہوں نے محض چند ماہ قبل ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تھی ‘ انہیں عبوری رابطہ کمیٹی میں ڈپٹی کنوینر نامزد کیا گیا‘ لندن ونگ کی پہلی پریس کانفرنس بھی انہی کی قیادت میں منعقد کی گئی تھی۔

انہیں 22 اکتوبر 2016 کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی پریس کلب سے گرفتار کیا تھا جہاں انہوں نے ایک پریس کانفرنس طلب کررکھی تھی ‘ ان کے ساتھ ایک اور رہنما کنور خالد یونس کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔18 اپریل 2017 کو انہیں عدالتی حکم پر سنٹرل جیل کراچی سے رہا کیا گیا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف جامعہ کراچی شعبہ فلاسفی کے سابق استاد رہے ہیں ۔وہ مختلف سیاسی موضوعات پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں ، ان کی پوری زندگی علمی موضوعات اور سیاسی جدوجہد سے منسلک رہی ہے۔

SHOPPING

بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پہلی بار وطن واپسی کی تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار اداکرنے والوں میں پروفیسر حسن ظفر کا نام سر فہرست تھا جنہوں نے پس پردہ رہتے ہوئے بی بی کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔انیس سو پچاسی میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے کی پاداش میں انہیں کراچی یونیورسٹی سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *