آج کی پیپلزپارٹی کی قیادت/عامر حسینی(1ٍ)

شرجیل انعام میمن کی چہرہ نمائی کرچکا تھا کہ پی پی پی کے ایک سینئر منجھے ہوئے سیاست دان کا فون آگیا۔ انہوں نے ٹیلیفونک گفتگو میں جو ‘شکوہ’ پیش کیا ، اس طرف آنے سے پہلے میں چاہتا ہوں ان کے سیاسی سفر پر تھوڑی سی روشنی ڈالوں تاکہ پڑھنے والوں کو اندازہ ہو یہ گھر کے اندر کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ معتبر ہوا کرتی ہے۔

ہمارے زیر بحث سیاست دان کا تعلق پنجاب کے ایک انتہائی معروف پیر زمیندار اشراف گھرانے سے ہے ۔ اور جب پی پی پی بنی تو ان کے گھر کا ایک بزرگ جو پی پی پی کا بانی کارکن بھی تھا ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر بھی رہا ۔

خود وہ سیاست دان لاہور کے معروف تعلیمی ادارے فورمین کرسچن کالج کا طالب علم تھا جب اس نے اس زمانے کی ترقی پسند طلباء تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ۔ این ایس ایف سے اپنی سیاست کا آغاز کیا ۔ وہ ایوب آمریت کے خلاف طلباء تحریک کے ہر اول دستے کا کارکن تھا ۔ وہ ون یونٹ کی تشکیل کے خلاف چلنے والی تحریک میں سرگرمی سے شامل تھا ۔

جب پی پی پی کی تشکیل ہوئی تو پنجاب میں بھٹو کی حمایت میں سرگرداں این ایس ایف کے ایک دھڑے کا اہم رکن بھی تھا۔ اور 1972ء میں معراج محمد خان کی سرپرستی میں این ایس ایف کے جس دھڑے نے پی ایس ایف کی شکل اختیار کی تو یہ اس کے بانی اراکین میں سے بھی ایک تھا۔

جب 5 جولائی 1977ء میں ملک میں تیسرا مارشل لاء لگا تو اس کے والد جیل میں تھے اور یہ بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں اس مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کی شروعات ہی میں اس تحریک کا صف اوّل کا کارکن تھا اور جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ملک میں تحریک کا اگلا مرحلہ شروع کیا تو یہ اس مرحلے میں صف اول کے کارکنوں میں شامل ہوگیا اور اس تحریک میں جلد ہی اس کا شمار محترمہ بے نظیر بھٹو کے انتہائی قابل اعتماد اور قریبی ساتھیوں میں ہونے لگا۔ بحالی جمہوریت کی تحریک کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد ایم آر ڈی میں یہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ایم آر ڈی پنجاب کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا سب سے کم عمر رکن تھا اس وقت اس کی عمر محض 34 سال تھی۔ اس نے جنرل ضیاع الحق کی آمریت کے 11 سالوں میں مجموعی طور پر 7 سال مختلف ماہ و سال میں پنجاب کے مختلف جیلوں میں قید بھی کاٹی ۔ 11 سالوں کے دوران فوجی آمریت نے اسے کئی بار پیپلزپارٹی میں رہ کر ان کا مخبر بننے کی پیشکش بھی کی ۔ اسے وزرات سمیت کئی عہدوں کہ پیش کش ہوئی جسے اس نے ٹھکرا دیا حالانکہ اس کے اپنے خاندان سے اس کے کئی بزرگ اور کزنز ضیاء الحق کے ساتھ جا ملے اور وہ ضیاع الحق کے روحانی بیٹے نواز شریف کے معتمد ساتھی بنے جنھوں نے اقتدار کے خوب مزے لوٹے۔ بے نظیر بھٹو نے پنجاب کے شہروں اور قصبات میں جو تقریریں کیں ان میں سے سے کئی کے ڈرافٹ اس کے تیار کردہ تھے ۔

مابعد جنرل ضیاع دور میں وہ پنجاب میں ضیاع الحقی باقیات کے خلاف شمشیر برہنہ بن کر سیاسی میدان میں کھڑا رہا ۔ اپنے عوامی طرز سیاست کے سبب وہ پنجاب کے محنت کش طبقات مزدوروں اور کسانوں کی پرت سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے کارکنوں میں بہت مقبول بھی رہا ۔ 88ء، 93ء میں وہ قومی اسمبلی کا رکن رہا۔

جب 1999ء میں ملک میں چوتھی بار مارشل لاء لگا تب بھی وہ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے بحالی جمہوریت کی تحریک کے ہر اول دستے میں شامل رہا اور اسے محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے سب سے معتمد ساتھیوں میں شمار کرتی رہیں ۔

وہ پیپلز پارٹی کے اندر صف اول کے چند رہنماؤں میں سے ایک تھا جو پارٹی کی تنظیم اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان واضح امتیاز کے قائم رکھنے اور پارٹی کے اندر نامزدگیوں کی بجائے بذریعہ انتخابات عہدوں کی تقسیم کا علمبردار رہا ۔

وہ آج بھی پیپلزپارٹی کے سوشل ڈیموکریٹک تشخص کی بحالی کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے سنٹر لیفٹ سے سنٹر رائٹ جھکاؤ کی شدید مخالفت کرتا ہے۔
وہ ان رہنماؤں میں شامل ہے جو پیپلزپارٹی میں جنرل ضیاع الحقی اور عرف عام میں لیگی سیاست دانوں کو پارٹی کی پارلیمانی اور تنظیمی ڈھانچے میں کلیدی اختیار اور کردار دیے جانے کی شدید مخالفت کرتا ہے اور اسے یہ خیال شدت سے ستاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے پنجاب میں ووٹ بینک کے زوال میں ایک بہت بڑا کردار ضیاع الحقی انتخابی سیاست کی ثقافت میں پل کر سیاست دان بننے والوں کو ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان کرنے سے ہوا ہے۔

ہم اسے اپنے طبقہ پیر زمیندار اشرافیہ سے باغی ، اس طبقے کے مجموعی مفادات سے غداری کرکے ورکنگ کلاس کے مفادات کی ترجمانی کرنے والا سیاست دان بھی قرار دے سکتے ہیں۔ اور اسے اس بات کا شدید گلہ ہے کہ آج پیپلزپارٹی میں ان طبقات سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو پارٹی کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے جن کے خلاف اصل میں پی پی پی کی تشکیل ہوئی تھی ۔

2013ء سے 2018ء کے درمیانی عرصے میں اسے پاکستان میں “تبدیلی” کے نام پر فوجی جنتا کے ایک ٹولے نے تشکیل دی جانے والی جماعت میں اہم ‘کردار’ کی پیشکش بار بار کی گئی جسے اس نے ٹھکرا دیا اور اس انکار کی پاداش میں اسے قومی اسمبلی میں داخل ہونے سے روکا گیا ۔ اسے اس بات پر کوئی ملال نہیں ہے ۔ اسے ملال ہے تو اس بات کا ملال ہے کہ خود اس کی اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت نے فوجی اسٹبلشمنٹ کی ناراضگی اور ان کی طرف سے گرین سگنل نہ ملنے کی بنا پر نظر انداز کیا اور اس کو پنجاب میں پی پی پی کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے کسی کلیدی عہدے کے لیے نہیں چنا اور وہ پچھلی نشستوں پر بٹھا دیا گیا ہے۔

ایک گھنٹے کی طویل ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اس نے پارٹی کی قیادت کے اس ملک میں اسٹبلشمنٹ کی سب سے طاقتور تنظیم کی قیادت کے ساتھ سمجھوتوں اور پارٹی کی بنیادی اساس سے انحراف کی وہ کہانی سنائی جسے سن کر مجھے تو کوئی حیرت نہیں ہوئی لیکن وہ کہانی پیپلزپارٹی کے عام کارکن اور ہمدردوں کے لیے شدید صدمے کا باعث بن سکتی ہے ۔

ان کا کہنا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت نے پارٹی کی تنظیم اور پارلیمانی ڈھانچے میں اس توازن کو انتہائی خطرناک حد تک اس ٹولے کے حق میں کردیا ہے جسے وہ ضیاع الحق کی باقیات اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت، سمجھوتوں اور مشترکہ بزنس وینچر کا سب سے بڑا حامی ٹولہ قرار دیتا ہے ۔ اس کا دعوا ہے شہید بے نظیر بھٹو نے 1988ء تا 2007ء تک اپنی آخری سانس تک پارٹی کی تنظیم اور پارلیمانی تشکیل میں اس توازن کو کبھی بھی ضیاع الحقی باقیات کے حق میں جانے سے روکے رکھا تھا اور بی بی شہید نے فوجی اسٹبلشمنٹ کے ملٹری بزنس میں شراکت داری کرنے اور ایسے ہی فوجی جنتا کی تین صوبوں میں قبضہ گیر پرتشدد اور نسلی کشی و وسائل کی لوٹ مار سے ایمپائر کھڑی کرنے کے عمل میں جونیئر پارٹنر بننے کا سوچا بھی نہیں تھا جس کی موجودہ قیادت اس حد تک مرتکب ہوئی ہے کہ اس نے اپنی پارٹی کے قومی اسمبلی ، سینٹ کے اراکین کی نامزدگی اور مختلف اہم سرکاری اداروں کی سربراہی اور عہدوں تک کے لیے شخصیات کے انتخاب کا حق بھی فوجی جنتا کے موجودہ ٹولے کو دے رکھا ہے ۔ ایک مرحلے پر تو انھوں نے ” بوٹ چاٹ” تک کی اصطلاح استعمال کی ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنی بزنس ایمپائر کی تعمیر اور عالمی مالیاتی سرمائے کے نیٹ ورک میں اپنی حثیت کو مضبوط کرنے کے لیے فوجی جنتا ، چین ، یو اے ای اور سعودی عرب کے مالیاتی سرمایہ داروں سے اشتراک کو بڑھانے کے ایک ایسے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کے سب سے بڑے متاثرہ وہ طبقات ہیں جن کے مفادات کے لیے پی پی پی کی تشکیل ہوئی تھی اور جو سیاست دان اس منصوبے کا مخالف ہے اسے کھڈے لائن لگایا جاتا ہے۔
جاری ہے

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply