• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چیئر مین پی ٹی آئی ایڈووکیٹ گوہر علی خان کے نام تحریکِ شناخت کے رضاکار اعظم معراج کا کھلا خط

چیئر مین پی ٹی آئی ایڈووکیٹ گوہر علی خان کے نام تحریکِ شناخت کے رضاکار اعظم معراج کا کھلا خط

کراچی۔1 اپریل۔ 2024
چیئر مین پی ٹی ائی
ایڈووکیٹ گوہر علی خان
سینٹرل سیکٹریٹ پی ٹی آئی
پلاٹ 1.اسٹریٹ 32 سیکٹر G8/4
اسلام آباد
محترم گوہر صاحب
اسلام و علیکم
میرا نام اعظم معراج ہے ۔۔میں دنیا بھر کی اقلیتوں کو “پیغام انضمام بذریعہ شناخت برائے ترقی وبقاء “دیتی فکری تحریک ۔۔تحریک شناخت کا رضاکار ہوں ۔ تحریک کا تفصیلی تعارف میں آپ کو اس خط کے ساتھ علیحدہ بھیج رہا ہوں ۔ اس خط کے ذریعے ،میں آپ کی توجہ، ایک ایسے آئینی مسئلے کی طرف دلوانا چاہتا  ہوں ۔جس کی آپکی سیاسی جماعت تازہ شکار ہوئی ہے ۔  یہ مسئلہ ہے، اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں کے انتخابی نظام کا  ۔سمجھ دار قومیں ایسے مسائل کا حل آئینی ترمیم سے نکالتی ہیں ۔ یہ 226 مخصوص نشستوں پر صنفی اور مذہبی بنیاد پر ممبران کے چناؤ کا طریقہ ہے ،ہی غیر جمہوری اور جمہوریت کی روح کے منافی۔ ۔۔یہ کیسا نظام انتخاب ہے ،جس میں جن کی صنفی ومذہبی شناخت پر 226لوگوں کو ایوانوں میں پہنچایا جاتا ہے ۔ان تقریباً 13 کروڑ (12کروڑ خواتین اور 1ایک کروڑ اقلیتی خواتین وحضرات کو پتہ ہی نہیں چلتا، کہ  انکی شناخت پر کن 226 لوگوں کو چن لیا گیا ہے ۔۔ اور کس میرٹ پر چنا گیا ہے ۔اسکے لئے آپ جیسے آئینی ماہرین و قانون دانوں کو عرق ریزی سے سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے ۔۔اب اقلیتوں کو ہی لے لیں ،77 سال میں ان پر 16انتحابات میں 6 بار 3انتحابی نظاموں کے تجربات کئے گئے.۔ جن میں اول۔ مخلوط طرز انتحاب میں انکا اسمبلیوں میں پہنچنا ہی بہت مشکل ہے ۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ 77سال میں دو اقلیتی ارکان جنرل نشستوں پر انتحاب میں حصہ لے کر ممبر قومی اسمبلی بن سکے ہیں ۔ دوئم جداگانہ طرزِ انتحاب اس طریقہ انتحاب میں ہزاروں سال سے اس دھرتی پر بستے دھرتی کے غیر مسلم شہریوں کو ایک آمر کے جنبشِ قلم سے ناپاک سیاسی شودر اور معاشرتی اچھوت بنا دیا گیا تھا۔ یہ نظام بھی سات بار آزمایا گیا۔ سوئم موجودہ انتخابی نظام میں مذہبی اقلیتوں کا جنرل نشستوں پر ووٹ ڈالنا اور الیکشن میں حصہ لینا جمہوری اقدار کے عین مطابق ہے ۔لیکن اقلیتوں کے مذہبی شناخت پر نمائندے منتحب کرنے کا طریقہ انتہائی غیر جمہوری اور جمہوریت کی روح کے منافی ہے ۔ جس میں تقریباً نوےلاکھ مذہبی اقلیتوں کی مذہبی شناخت پر تین یا چار آپ جیسے سیاسی عہدار 38 خواتین وحضرات کو چن لیتے ہیں ۔ یہ سب ان کی مرضی سے بالا بالا ہوتا ہے ۔جن کی مذہبی شناخت پر یہ چنے جاتے ہیں ۔اس لئے 98 فیصد اقلیتی شہری انھیں اپنے نمائندے کم اور بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کے جمہوری غلام سمجھتے ہیں ۔۔اس طرز انتخاب کی وجہ سے اقلیتوں میں جمہوری غلامی کا کلچر ہمارے دوسرے سیاسی کلچر کے مقابلے میں 100گنا زیادہ تیزی سے پروان چڑھا ہے ۔یہ تجربات پاکستان کی سیاسی,حکومتی,ریاستی ، دانشور اشرفیہ اور اقلیتوں کے نمائندوں ناکامی کا بہت بڑا ثبوت ہے،،ان نظاموں کی انھی خامیوں کی وجہ سے اقلیتں کبھی بھی ان نظاموں سے مطمئن نہیں ہوئی ۔تحریک شناخت نے ان تمام نظاموں جن کی شروعات 1909 کے آنڈین ایکٹ المعروف مارلے منٹو اصلاحات سے ہوتی ہے۔اس وقت سے موجودہ نظام تک کے نظاموں کےبغور مطالعے کے بعد ان نظاموں کی خوبیوں خامیوں سے اخذ کرکے پاکستان کے معروضی سیاسی و معاشرتی حالات سے ہم آہنگ آئین کے مطابق ،ایک لالحہ عمل تیار کیا ہے ۔جو ایک بے ضرر آئینی ترمیم سے ممکن ہے ۔جس کو اگر ایک جملے میں سمویا جائے تو وہ یوں ہوگا ۔

“اقلیتوں کے لئے موجودہ دوہری نمائندگی کے انتخابی نظام میں مذہبی شناخت والی نمائندگی کو بے ضرر آئینی ترمیم سے دوہرے ووٹ سے مشروط کرکے ایسا بنایا جائے ،جس سے ہر مذہبی نمائندگی والے نمائندے کو اس مذہبی کمیونٹی کے اقلیتی شہریوں کے ووٹوں سے ہی چنا جائے۔ جس کمیونٹی کی مذہبی شناخت کی نمائندگی وہ شخص جس بھی ایوان میں کرتا ہو۔ دوسرے لفظوں میں اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے ۔ ” اقلیتوں کی موجودہ دوہری نمائندگی والے انتخابی نظام جس میں مذہبی شناخت والی نمائندگی بزریعہ سلیکشن کی جاتی ہے۔۔ کو دوہرے ووٹ سے مشروط کرکے بذریعہ الیکشن کیا جائے ۔”

یہ مکمل لالحہ عمل و مطالبہ کتابی صورت میں اردو اور سندھی اور انگریزی میں بھی چھپ چکا ہے۔ جس کے بارے میں آگاہی تحریک شناخت کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بے لوث رضا کار کتابوں ،کتابچوں ،قومی وکمیونٹی کے اخبارات ،رسائل ،پوسٹرز ،وڈیو کلپس ٹی وی انٹرویوز ودیگر ذرائع سے تقریبا ًدہائی سے متاثریں و ذمہ دارین کو دے رہےہیں ۔لیکن یہ ہمارے اس جمہوری نظام کا ایک تاریک پہلو ہے، کہ رائے عامہ ہموار ہونے کے باوجود اس مسئلے کو آپ یا آپ جیسے چند قائدین نے ہی حل کرنا ہے۔  98فیصد اقلیتی شہری موجودہ اقلیتی انتخابی نظام سے غیر مطمئن و بے چین ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپکے اقلیتی رفقاء آپکو کبھی اس سیاسی فائدے کا نہیں بتائیں گے ۔۔ جو اس آئینی ترمیم کے لئے پہل کرنے والی جماعت کو ہوسکتاہے۔میں یہ مکمل کتابچہ آپکو بھیج رہا ہوں جس کی مدد سے آسانی سے آئینی ترمیم تیار کی جاسکتی ہے ۔ میرے خیال میں اس ملک کے سیاسی راہنما اس بے ضرر آئینی ترمیم سے اقلیتوں کا یہ 78سالہ پرانا مسئلہ حل کرکے ،وطن عزیز کی مذہبی اقلیتوں کے 80 فیصد معاشرتی،سماجی و سیاسی مسائل کے حل کا خود کار نظام ترتیب دے سکتے ہیں۔۔ جو بھی سیاسی جماعت اس آئینی ترمیم کے لئے آواز اٹھانے میں پہل کرے گی اسے آنے والے الیکشن میں 50لاکھ ووٹروں کی ہمدردیوں کی وجہ سے سندھ اور پنجاب کی 20قومی اور 50صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر یقینی کامیابی بھی حاصل ہوگی ۔۔یہ آپکی خوش نصیبی ہے  کہ آپ ان چند راہنماؤں میں سے ایک ہیں ۔ جو خان صاحب کی مشاورت سے اس مسئلے پر اسمبلی میں بات کرکے اس انتہائی اہم مسئلے کو آئینی ترمیم سے حل کرنے کا عندیہ دے کر پہل کر سکتے ہیں ۔اسی تناظر میں، اسی لالحہ عمل کی روشنی میں آپ اس ملک کی 12 کروڑ خواتین کے لئے بھی آئینی ترمیم ڈرافٹ کر سکتے ہیں ۔اپ سوچیئے اگر آپ تحریک شناخت کی انتہائی محنت سے تیار کی گئی اس آئینی اصلاحاتی دستاویز سے مدد لے کر 13کروڑ ابادی کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔تو اس سے آپ کو اگلے الیکشن میں کیا فائدہ ہوسکتاہے ہے ۔۔ ایک منٹ کے لئے سوچیں کے اگر ایسی آئینی ترمیم سے خواتین کی شناخت پر 193ممبران خواتین ممبر صوبائی و قومی اسمبلی بنی ہوں۔ تو ہمارے معاشرے میں آئے دن ٹوبہ ٹیک سنگھ والے واقعے کی طرح کے دلخراش جو واقعات ہوتے ہیں ۔۔ایسی آئینی ترمیم سے ایسے واقعات کے سدباب کا خؤد کار نظام ترتیب پاسکتا ہے ۔۔ اسی کتابچے کی روشنی میں ایک خیال شیئر کرتا ہوں۔ اگر آپ ایسی آئینی ترمیم پیش کریں اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے اس کی ایڈوکیسی بھی کریں کہ ایسی آئینی ترمیم کی جائے جس میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کی مجموعی تعداد کی 17فیصد جنرل نشستوں پر ہر پارٹی خواتین کو ٹکٹ دیں ۔باقی 33فیصد کے موجودہ 23فیصد کے مطابق ہی خواتین کی مخصوص نشستوں کو پورے صوبے کی آبادی کے حساب سے اتنے بڑے حلقوں میں بانٹ دیا جائے ۔اسی فارمولے کو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر عملدرآمد کروایا جائے ۔ دیکھیں پھر کس سطح کا معاشرتی انقلاب آتا ہے۔ ہمارے سماج میں جب خاتون امیدوار خاتون ہی اسکی مرکز، صوبے سے لے کر یوسی وارڈ تک کی علاقائی عہدے دار ہوگی،تو ہماری یہ 50فیصد آبادی جب سیاسی طور پر متحرک ہوگی ۔۔تو اسکے اثرات معاشرے کے ہر شعبے پر آئیں گے اور یہ معاشرتی انقلاب ہماری سماجی ومعاشرتی اقدار کو مزید تحفظ دے گا ۔۔اس سے مختاراں مائی ،ٹوبہ ٹیگ سنگھ والے ہزاروں گھناؤنے واقعات کی روک تھام کا ایک خؤد کار نظام بھی ترتیب پا جائے گا ۔۔آپکی پہل آپکو 13کروڑ خواتین و اقلیتوں میں و ہی مقبولیت دے گی، جو آپکے پاس پہلے تارکینِ وطن پاکستانیوں کی صورت میں ہے۔ وہ آپکی کتنی بڑی طاقت ہیں، یہ آپ یا بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان صاحب مجھ سے بہتر جانتے ہیں ۔۔۔ لہٰذا آئین نو سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔کیونکہ ،نئے خیالات نوزائیدہ بچے کی طرح ہوتے ہیں۔جن کو پیدائش کے بعد ماں، نانی، دادی کے علاوہ کوئی اُٹھانا نہیں چاہتا۔۔ لیکن۔جیسے ہی انکو نہلا دھلا کر تیار کیا جاتا ہے ۔۔تو وہ سب کو پیارے لگنے لگتے ہیں۔ آپ بھی اس خیال کو اپنے سمجھ دار اور آئین،سیاست کو سماج، معاشرے، کی امنگوں کے مطابق ہونے کی باریکیوں کو سمجھنے والے ساتھیوں سے ضرور شئیر کریں ، اس خیال کو سمجھنے کے لئے آپ اس کتابچے کو دھیان سے پڑھیں ۔ تاریخ بنانے کے موقعے تو زندگی میں کئی انسانوں کو ملتے ہیں لیکن ان موقعوں سے کروڑوں زندگیوں پر مثبت اثرات بہت کم لوگ مرتب کر پاتے ہیں ۔۔ امید ہے آپ اس موقع سے ضرور فائدہ اُٹھائیں گے ۔
اس ضمن میں اعانت و معاونت کے لئے میری اور میرے ساتھیوں کی خدمات ہر وقت دستیاب ہیں
شکریہ
وسلام
اعظم معراج
منسلک
1.کتابچہ
پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے لئے دوہرا ووٹ کیوں ضروری ہے ۔؟اور یہ کیسے ممکن ہے ۔؟
2.تعارف تحریک شناخت

Advertisements
julia rana solicitors london

تعارف:اعظم معراج کا تعلق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ہے۔ وہ ایک فکری تحریک” تحریک شناخت” کے بانی رضا کار اور 20کتب کے مصنف ہیں۔جن میں “رئیل سٹیٹ مینجمنٹ نظری و عملی”،پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار”،دھرتی جائے کیوں پرائے”پاکستان کے مسیحی معمار”شان سبزو سفید”“کئی خط اک متن” اور “شناخت نامہ”نمایاں ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply