جہنم کی ائر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ / بجٹ وغیرہ(9)-حامد عتیق سرور

غالب اردو کے بہت سے اور چاہنے والوں کی طرح ہمارے بھی پسندیدہ ترین تخلیق کار ہیں ۔ شاعری کے شہنشاہ تو ہیں ہی مگر خطوط میں اردو نثر میں انہوں نے وہ کمال دکھایا کہ سبھی عبارتیں اس کے سامنے ہیچ ۔ فن کے امام ہوتے ہوئے ان کی ذاتی زندگی کچھ ایسی قابل_ تقلید نہ تھی ۔ تمام عمر خاندانی پینشن ، خلعت اور وظیفے کی کمائی کھائی۔
مڑ کر دیکھیں تو استاد کے معاشی حالات خاص طور پر غدر کے بعد کچھ آج کے پاکستان والے ہی تھے ۔ نمونے کے طور پر استاد کے نواب علاءالدین کے نام خط کی صورت دیکھئے ۔ ” اب میں اور باسٹھ روپے آٹھ آنے کلکٹری کے ، سو روپے رام پور کے ، قرض دینے والا ایک میرا مختار کار ، وہ سود ماہ بماہ لیا چاہے ، مول میں قسط اس کو دینی پڑے ۔ چوکیدار جدا ، سود جدا ، مول جدا ، بی بی جدا ، بچے جدا ، شاگرد پیشہ جدا ، آمد وہی ایک سو باسٹھ ، تنگ آگیا ، گزارا مشکل ہو گیا ، روزمرہ کا کام بند رہنے لگا ، سوچا کیا کروں ؟ کہاں سے گنجائش نکالوں ، قہر درویش بر جان درویش۔ صبح کی تبرید متروک ، چاشت کا گوشت ادھار ، رات کی شراب و گلاب موقوف ، بیس بائیس روپے مہینہ بچا ، روزمرہ کا خرچ چلا” ۔
ملک کے تازہ ترین بجٹ پر نظر ڈالیں تو سو روپے کے خرچ میں بیرونی مہاجنوں کو قرض کی قسط میں 18 روپے اور اندرونی بیرونی ساہوکار کے سود کی ادائیگی میں 30 روپے ، صوبوں کو تقسیم 21 روپے ، تنخواہ ، پینشن، سرکاری خرچوں ، نہ چلنے والے اداروں کے نقصان اور بجلی میں رعایت کی مد میں 18 روپے ، دفاع کے 7 روپے اور ترقیاتی نئے کاموں کے 6 روپے ۔ تس پہ آمدن کے ذرائع محدود۔ کل ملا کر 49 روپے ، جس میں سے بھی 5 روپے نہ ملنے کا امکان، نئے قرض کی تخمینہ51 روپے۔
کچھ مزید تنگی ہوئی تو پیٹ کاٹ کر کچھ صوبوں کو کم دے کر اور کچھ ترقیاتی بجٹ سے کاٹ کر پانچ ، چھے روپے اور بچا لیں گے ۔ باقی قرض کی امید پر جیتے ہیں ۔ عزت _ سادات تو پہلے ہی داو پر لگی ہے ، قرض خواہوں کی نالش کا خدشہ الگ ۔
اور مرزا کی طرح ہمارے ہاں بھی یہ کوئی پانچ دس برس کا قصہ نہیں ، عمر بھر کا معاملہ ہے ۔ دو سال سے تو مرزا کی تبرید ، گوشت اور خانہ ساز کی طرح ہم بھی درآمدات موقوف کئے بیٹھے ہیں مگر حالات دگرگوں ہونے سے باز نہیں آرہے ۔ مرزا کی جان تو
اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
کے مصداق عزرائیل علیہ سلام کی بدولت چھوٹ گئی مگر ملکوں کو تو جئے جانا ہے ۔ سو ہماری تکلیف مرزا نوشہ سے کئی ہزار گنا بڑھ کر ہے ۔
ہر چند کہ معروضی حالات میں بجٹ بنانے والے کچھ ایسا ہی میزانیہ ترتیب دے سکتے تھے کہ برسوں کا روگ ہے اور شاید جسم کے ساتھ دل بھی جل چکا ہے مگر اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو بہتری کے سبھی راستے مسدود نہیں ۔ یہ الگ بات کے فیصلہ سازی کا ڈھنگ ہمیں چھے مہینے سے زیادہ کچھ دیکھنے کی استطاعت نہیں دیتا ۔ صبح سے شام کی جوئے شیر لانے سے فرصت نہیں تو پانچ دس سال کا کون سوچے ؟
2018 کی حکومت بجٹ بناتے وقت جولائی کے الیکشن کا سوچ رہی تھی ۔ یہی صورت بیش و کم پچھلے سال اور اس سال بھی تھی ۔ 2019 میں آئی ایم ایف کا ہاتھ ہماری گردن پر تھا ۔ 2020 اور 2021 میں کووڈ اور امرا کی فرمائشیں( ایمنسٹی، ٹرف فنانس، رئیل سٹیٹ کی سکیم ) ہمارے سر پر سوار تھیں ۔ ایسے میں کون دیکھے کہ ہمیں خارجہ تعلقات اور اندرونی نفاق اچھا کر کے ہمسایوں اور باقی دنیا سے کاروبار کی وسعت میں اضافہ کرنا ہے ، کاروباری مشکلات ختم کرنا ہیں ، بے جا خرچوں ( پی آئی اے ، ریلوے ، سٹیل مل وغیرہ ) کو کم کرنا ہے ۔ وفاقی حکومت کے ساڑھے پانچ لاکھ ملازمین اور ان سے دوگنا پینشن یافتہ افراد کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے ۔ بجلی گیس کے معاملات میں سالانہ کھربوں روپے کی ابتری کا حل نکالنا ہے ۔ برآمدات کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے ۔ متمول لوگوں سے درست ٹیکس لینا ہے ۔ اور یہ سب کچھ کرنے کے لئے موجودہ انتظامی بندوبست میں بڑی تبدیلیاں لانی ہیں کہ موجودہ گورننس کا نظام یہ سب کچھ نہیں کرسکتا۔
مگر یہ سب کون کرے ، کب کرے اور کیونکر کرے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ آج اور ابھی۔ کسی یوٹوپین حکومت کا خواب دیکھے بغیر ، ووٹ اور حکومت کے جانے کی پرواہ سے بے خوف ہو کر ، مصلحتیں نظر انداز کرکے ، مزید وقت ضائع کئے بغیر ۔چاہئے تو ہے کہ جو بھی اقتدار میں ہے اور جو بھی اپوزیشن میں کام بگاڑنے کی قدرت رکھتا ہے ان سب کا یہ فرض ہے کہ اپنی طاقت کو ملکی معیشت کی طویل المدت بہتری کے لئے استعمال کریں ۔ مگر ہم اتنے اچھے ہوتے تو آج ہمارے معاشی حالات اتنے برے کیوں ہوتے ۔
موجودہ بجٹ بھی چھ مہینے یا اس سے بھی کم کی حد_نظر کا شاخسانہ ہے جو ہمارے مخصوص سیاسی ماحول کی دین ہے ۔ مگر ملکی تاریخ کو مثال بنائیں تو ہماری حکومتوں کو آئندہ بھی ہر سال اسی قسم کی غیر یقینی اور مشکل صورت _ احوال میں کام کرنا ہے ۔ سو اس لحاظ سے یہ بجٹ بھی معروضی حالات میں مناسب ہونے کے باوجود ترقی اور خوشحالی کی کٹھن مگر درست راہ سے ہنوز دور ہے اور اس تناظر میں منیر نیازی کی نظم کی سی بے عملی کا مظہر ہے کہ :
سورج چڑھیا پچھم تُوں
تے پورب آن کھلویا
اج دا دن وی ایویں لنگیا،
کوئی وی کم نہ ہویا
ناں ملیاں میں خلقت نوں،
ناں یاد خدا نوں کیتا
ناں میں پڑھی نماز تے
ناں میں جام شراب دا پیتا
خوشی ناں غم کوئی کول ناں آیا
ناں ہسیاں، ناں رویا
اج دا دن وی ایویں لنگیا،
کوئی وی کم نہ ہویا

جاری ہے

Advertisements
julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply