علاجِ دنداں ،اخراجِ دنداں

مشہور مزاحیہ شاعر جناب انور مسعود کی شہرہ آفاق پنجابی نظم ــ" جہلم دے پل "میں انہوں نے اسٹاپ پر کھڑی لاری میں آنکھوں کے علاج ،جنتری فروش، منجن بیچنے والوں کا خوبصورت احوال تحریر کیا ہے اس میں سے چند بول دانت کامنجن بیچنے والے کے یوں تھے
تے دوستو ،بزرگو،نیانیو،سیانیو
دودھ نالوں پانی زرا تسی وی پچھانو
میرے کول دارو اے دنداں دی مشین دا
چکی جے خراب ہووے مزا کی اے پِین دا
تے دند ایویں کڈنے تے پٹَنے نئیں چاہیدے
تے رب جیہڑے موتی دتے سٹَنے نئیں چاہیدے
دنداں نالوں ہور چیز کیہڑی چنگی اے
بسم اللہ اے پیکٹاں دی جوڑی کنے منگی اے
اردو دان دوستوں سے معذرت،اصل متن پڑھنے کا اپنا ہی مزا ہے اور ترجمہ سارا لطف غارت کردیتا ہے۔ تو قصہ مختصر پچھلے پانچ دنوں سے ہماری پیسنے والی چکی بھی خراب ہے اور ہم اس دانتوں کے درد کے حد سے گزر کر دوا ہوجانے کے مرحلہ میں ہیں۔دانتوں کے بارے میں اتنے محاورے، جملے ،اشعار اور فرامین ہیں کہ ایک الگ سے مضمون صرف ان پر باندھا جا سکتا ہے مگر جس تن لاگے سو تن جانے ،گزشتہ زندگی کے ماہ وسال میں ہم اس عذاب سے کبھی نہ گذرے تھےالحمدللہ، اس لئے جانتے نہ تھے کہ دانتوں کا درد کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ درد زہ سے سو گنا ذیادہ جان لیوا اور شدید وہ درد ہوتا ہے جب مرد کی دو ٹانگوں کے بیچ لات پڑتی ہے ، دردِ زہ کا ہمیں کوئی تجربہ نہیں مگر ثانی الذکردرد کے وار سے اٹھتی ٹیس کے بارے میں پورے وثوق سے بتا سکتے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہے، جب جب اس مرحلہ لات سے گذرے ،بس جاں سے گذر گئے والا حال ہی تھا ۔ اب یہ دونوں طرح کے درد دو مختلف اصناف کے ابدان پر گذرتے ہیں اس لیے ایک دوسرے کے دردکوسمجھنا شائدمشکل ہو مگر ایک دردجو دونوں میں کامن ہے وہ دانت کا درد ہے ۔اور ہم نے ان دانتوں کے درد سے سب کو پناہ مانگتے اور بلبلاتے دیکھا ہے ،اب اپنے اوپر بیتا تو جانا ہے اس درد سے رشتہ کتنا پراناہے۔
اہل مغرب کے ہاں وہ پیشے جو اپنی بے پناہ مانگ اور گرانی کی وجہ سے بہت مقبول ہیں ان میں وکیل اور ڈینٹیسٹ سرفہرست ہیں اور ان دونوں سے راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے کے بعد ہی حقیقت عیاں ہوتی ہے ۔ایک کے سامنے آپ اپنا منہ کھولتے ہیں تو آپ کے وارنٹ اور وٹ نکل جاتے ہیں اور دوسراآپ کے دانت نکال دیتا ہے۔جتنا مہنگا علاج مسائلِ دنداں کاان مغربی ممالک میں ہے اتنے میں ایک شریف آدمی آسانی سے بنکاک کا چکر لگا کر علاج اور ثواب دونوں بخوبی کرا اور کماسکتا ہے ہمارا مطلب ان تمام مطلوبہ اسبابِ گناہ کے میسرہوتےہوئے بھی صبر شکر کرکے فائدہ نہ اٹھانا یقیناََ باعث ثواب ہی گردانا جائے گا۔
ایک گورے کولیگ جو اب اپنی عمر کی اچھی بہاریں دیکھ چکے اور چند سالوں تک ریٹائرمنٹ کا سوچ رہے ہیں ،ساری عمر اپنےانہی ٹیڑھے دانتوں کے ساتھ گذار کرکچھ عرصہ پہلے چھ ہزار ڈالر میں اپنے دانتوں میں بریسز لگوا کر آئے تو اس کی توجیہ یہ پیش کی کہ جوانی میں ان دانتوں کی طرف لڑکیاں اتنا دھیان نہیں دیتی تھیں اور معاملات اور تعاملات چل جایا کرتے تھے اب ریٹائر ہونے والا ہوں تو کیا ایسے دانتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانا اچھا لگے گا؟ موصوف شادی نامی پھندے کا شکار نہیں ہوئے اور فقط دلہا ایک رات کا پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ خیرشوق کا کوئی مول نہیں اور دل جوان ہونا چاہیے،عمر تو فقط ایک نمبر ہے ۔
ہمارے ایک شبھ چنتک نے ہمیں بھی مشورہ دیا ایک چکر بیک ہوم کا لگا آئیے اور جتنے پیسےآپ یہاں خرچ کریں گے اتنے میں آپ کے دانتوں کا علاج اور آنے جانے کی ٹکٹ نکل آئے گی اور سب سے ملنا ملانا بھی ہوجائے گا ۔ایک ٹکٹ میں دو مزے ۔ بات تو دل کو لگتی ہے مگر میرے پاکستان کے ایک محلے دار جو خاندانی حکمأ کی طرح تیسری پیڑھی کو یہ ہنر منتقل کرچکے اور ثقہ بی ڈی ایس ڈاکٹروں سے ذیادہ کامیاب ہیں، کے ذریعے سے پتا چلا ہے کہ دانتوں کی تبدیلی کے لئے انسانی دانتوں کا بہترین متبادل بکرے کے دانت لگا کر کیا جاتا ہے تب سے پاکستانی طریقہ علاج سے دل کچھ مزید کٹھا سا ہو گیا ہے۔اب تو مجھے تو لاہوریوں پرباقاعدہ ترس آرہا ہے جہاں بکرے کی جگہ گوشت بھی ایک اور جانور کا سپلائی ہوتا ہے تو وہاں دانت بھی کیا؟؟؟؟ اب اگر کبھی کسی کا ہری ہری گھانس کھانےیا ہنہنانے کو جی چاہے تو مچلتی طبیعت اور نیت میں صرف آپ کے من کا عمل دخل ہی نہیں کچھ نا کچھ تاثیر وہاں سے بھی آتی ہوگی۔ وللہ اعلم۔
عقل داڑھ جسے ہمارے کلچر میں بلوغت و عقلیت کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور جن کی عقل داڑھ ابھی نہیں نکلی ان کے لئے کہا جاتا ہے ان کو کیا علاقہ ابھی عقل سے؟ مگر اہل مغرب اسے بڑی عمر میں نکلنے والی ان داڑھوں یا وژڈم ٹیتھ کا نام دیتے ہیں جو کافی دیر کے بعد اپنا ورود مسعود آپ کے دہنِ مبارک میں کرتی ہیں ۔اوران کی مناسب صفائی و ستھرائی نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی بےدخل کر دی جاتی ہیں پیشتر اس کے کہ تکلیف دینے لگیں۔مگرہم دیسی اپنی ہر چیز کو یوں سینت سینت کر سینے سے لگا کر رکھنے کے عادی ہیں کہ کوئی بھی چیز نکمی نہیں قدرت کے کارخانے میں کے مصداق حتی الوسع احتراز کرتے ہیں۔ کافی عرصہ سے میرے ڈینٹیسٹ ڈاکٹر سنجے ماتھر مجھے ان داڑھوں کے اخراج کا مشورہ دے چکے تھے مگر ہر دفعہ اگلی بار کی گولی دے کر نکل آتا تھا ، اس بار لانگ ویک اینڈ پر ایسا درد اٹھا جمعہ کی شب عقل داڑھ میں کہ مت پوچھیئے، ہفتہ کو اپائینٹمنٹ کا پوچھا تو منگل تک ٹل گئی، دو دن پین کلر کھا کر وقتی آرام پاپا پھر جب ڈاکٹر نے مژدہ سنایا کہ نکالنی پڑیں گی مگر پہلے دو تین دن اینٹی بایوٹک کھائیے اس کے بعد ۔
اس وقفہ کے دوران جس سے بھی بات ہوئی اس نے اپنے تجربے کی بنیاد پر اس درد کی شدت ، علاج اور ٹوٹکوں کے متعلق جانکاری دے کر اس فقیر کی ہمت بندھائی۔ بی بی سریندر کور اور پھر مسرت نذیر کا لونگ جو کبھی گواچ گیا تھا، اس کو منہ میں رکھنے سےلیکر ،نیم گرم پانی اور ڈسپرین کی گولیوں کے غرارے اور کلیاں سب کچھ آزمایا میں نے ، پر پائی نہ شفا ۔ایک دوست نے تو درد کا علاج ہجر و فراق کی متضاد کیفیت میں ڈھونڈنے تک کا مشورہ دے ڈالا ۔افشا کی نہیں بخدااخفا کی نیت ہے بس اتنے لکھے کو ہی ذیادہ جانیے۔
یادش بخیر دانتوں کا منجن ڈنٹونک جو ہمارے بچپن میں اپنے مخصوص اشتہار کی وجہ سے بہت پاپولر تھا سے لے کر کوئلہ اور نمک پیس کر سب دیسی طریقے دانتوں کی صفائی کا استعمال کر چکے ہیں ۔ مسواک کا استعمال بھی بہت ذوق شوق سے کیا کرتے تھے تاوقتیکہ ٹوتھ پیسٹ ان تمام روایتی طریقوں کو اپنے ساتھ کلی کرا کر لے گیا ۔
اب جب ذکر چھڑ ہی گیا ہے قیامت کا تو بات پہنچے گی کہانی تک کہ دانت توڑنا سرکار انگلشیہ کے دور سے سخت ترین قابل تعزیر جرائم میں سے ایک مانا جاتا تھا ۔آج بھی تعزیرات پاکستان کےانوسار اگر کسی کا دانت یا ہڈی ٹوٹ جائے لڑائی میں تو ناقابل ضمانت دفعہ ۳۳۷ کے تحت پرچہ کٹتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر ۲ سال سے ۱۴ سال کی سزا ہوسکتی ہے ۔
مگر یوں بھی ہوتا تھادانت خود تڑوائے جاتے تھے شاہ ایران کے دور میں ۔جی ہاں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کے لئے خواتین کااپنے سامنے کےدانت تڑوانا فیشن میں شامل تھا، تب پیرس کے ساتھ ایک ہی دن نیا ڈیزائن ریلیز کیا جاتا تھا تہران میں۔دن پھرتے دیر نہیں لگتی اوروقت ایک جیسا کبھی نہیں رہتا ۔
جب دانت تھے تب دانے نہیں تھے ،جب دانے آئے تو دانت نہیں رہے۔اس دنیا میں کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *