“آپ” سے کچھ کہنا تھا !

دیکھئے ہم نے “آپ”ے کچھ کہنا تھا … ہوا کچھ یوں کہ 1947 میں ہم آزاد ہو گئے ، قطع نظر اس سے کہ تقسیم غلط تھی یا صحیح ..اور حد بندی کے لیے کھینچی جانے والی لکھیریں درست تھیں یا نہیں،،، لیکن ہم آزاد ہو گئے تھے اور اب ایک الگ ملک کی حیثیت سے ہماری ایک شناخت بن چکی تھی ، یہ الگ بات کہ اس وقت ہماری حالت اس قدر دگردوں اور نا گفتہ بہ تھی کہ ہمارے بارے میں اندازے لگتے تھے کہ ہم بمشکل کچھ ہی سال نکال پائیں گےاور پھر سے ہندوستان میں مدغم ہو جائیگے،،، لیکن بہرحال ہم خدا کی مدد ، اپنی کوششوں اور کچھ دوستوں کی مہربانیوں سے بچ بچا گئے اور ترقی کا پہیہ چل پڑا… سوال یہ ہے کہ “آپ”بھی تو مسلم تھے “آپ” اس وقت کہاں تھے ؟ جب دنیا لپک لپک کر ہمیں آزادی کی مبارک بادیں دے رہی تھی اس وقت آپ نے ہمارے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا …بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ تک کہہ دیا کہ یہ سرحدی تقسیم غلط ہے ہمیں اٹک تک کا حصّہ چاہیے… لیکن چلو خیر…ہم آگے بڑھ گئے.. پھر ہم پہ 1965 میں ایک جنگ مسلط ہو گئی ، بہت سوں نے ہماری مالی اور اخلاقی مدد کی… لیکن سوال یہ ہے ..کہ اس وقت آپ اور آپکا اسلامی بھائی چارہ کہاں تھا ؟ لیکن خیر …وقت تھا ، سو گزر ہی گیا ۔
پھر کچھ وقت بعد 1971 میں ہم دو لخت ہو گئے ،،ہمارا ایک بازو کٹ گیا ، ہم بھری دنیا میں انتہائی تنہا ہو کر رہ گئے، ہمیں یہ امید تھی کہ آپ اور کچھ نہ سہی شائد تھوڑی بہت ہمدردی ہی جتا دیں ، لیکن نہیں ، آپ کے دل کی خلش ویسی کی ویسی ہی رہی… ہم نے وہ وقت بھی دیکھا اور پھر ہم آگے بڑھ گئے ۔
1979 میں سوویت یونین نے آپ کی سرحدوں کو پھلانگ کر آپ پہ حملہ کر دیا ، آپ میں مقابلے کی سکت نہ تھی لیکن امریکا آپکی مدد کو دوڑا آیا ، آپ نے ہم سے مدد چاہی اور ہم نے اپنی سرحدوں کو آپکے لئے کھول کر آپ کو سر چھپانے کے لئے اپنی زمینوں پے مکان دیے ، اپنے کاروبار میں آپکو شریک کیا ، اسلامی اخوت کے ناتے آپ سے رشتے ناتے جوڑے اور آپکے لئے آپکے لوگوں سے زیادہ قربانیاں دے ڈالیں ،اپنے بچوں کو آپکی جنگ کے لیے مشق ستم بنا ڈالا اور یہی نہیں بلکہ آپکو کھلی چھٹی دے دی کہ اس ارض پاک میں جہاں چاہیں جائیں اور جیسے چاہیں کمائیں ، پریاد ہے آپ نے ہمیں تحفے میں کیا دیا ؟ کلاشنکوف ، ہیروئن، مسلکی اور جغرافیایی منافرت اور تعصب … ہم اپنی ہی زمینوں ،اپنے ہی کاروباروں اور اپنے ہی رشتوں سے صرف اس لیے دور ہو گئے کیوں کے ہم نے “آپ” کے 40 لاکھ لوگوں کا بوجھ اپنے سینے پے لاد ڈالا تھا …لیکن پھر بھی ہم آگے بڑھ رہے تھے ..
پھر گیارہ ستمبر کا واقعہ رو نما ہو گیا ، اس بار امریکا اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ آپکی سرحدوں کو روندھ کر داخل ہو گیا ،،، آپ نے پھر ہماری جانب دیکھا اور ہم نے پھر اپنے سینہ آپ کے لوگوں کے لیے فراخ کر دیا ، جنگ بیت گئی ، امریکا بھی چلا گیا ، آپ نے ایک جمہوری حکومت بھی بنا لی ، لیکن آپکے ٤٠ لاکھ شہری جو 35 ،36 سال پہلے ایک جنگ کی وجہ سے یہاں وارد ہوے تھے آپ انکو اپنانے سے گریزاں ہو گئے ۔
بات یہی تک رہتی تو ہم مان بھی لیتے ، لیکن آپ لوگوں نے ہماری زندگیوں اور ہمارے اداروں کا سودا کرنا شروع کر دیا، ہمارے دشمنوں کو آپ کی صورت میں سستے جاسوس اور خودکش بمبار مل گئے اور اس کے بعد ہمارا ہر شہر ،ہر گھر ہر مسجد ہر درگاہ ہر مندرہر کلیسا ہر مقبرہ ہر اسکول، ہر کالج، ہر یونیورسٹی ہر پارک اور ہر ادارہ غیر محفوظ ہو گئے ،،،بے رحمی اور بربریت کی جو تاریخ رقم ہوتی رہی اس کو تحریر کرنے سے ہم قاصر ہیں ، ہم ایک طرف سے لاشے اٹھاتے اور دوسری طرف خون کی ہولی کھیلی جا چکی ہوتی …ہم نے ہر ہر قدم پہ ٹھنے کی سعی کی لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی کاری وار ہمیں بہت پیچھے دھکیل دیتا …
ہم نے بہت آنکھ پھیری ، بہت بار نظر انداز کیا اورہم میں سے بہت سوں نے آپکے دفاع کے لیے آواز بھی اٹھائی لیکن آپ کو ہمیشہ ہمارے دشمنوں کا آلہ کار ہی پایا …ہم بہ ہر طور سے آپکے محسن تھے لیکن آپ نے ہمیشہ ہم کو ہی چھلنی کیا اور ہمارا ہی پرچم جلایا اور ہمیں کو دوش دیا …ہم نے جب جب زخم کھا کر کمین گاہ کی جانب نظر دوڑائی تو ہماری ملاقات آپ ہی سے ہوئی…
دیکھئے ہم نے آپ سے بس اتنا کہنا تھا کہ اب صبر کے پیمانے چھلک چکے ہیں ۔سو یہ دیکھئے ہمارے جڑے ہوئے ہاتھ اور یہاں سے نکل جائیے۔۔۔۔۔

اکرام بخاری
اکرام بخاری
سید اکرام بخاری اباسین یونیورسٹی پشاور میں آڈٹ و فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں، دنیا کے تمام علوم و فنون کی روح سے واقفیت حاصل کرنے کا جنون اورتجسس رکھتے ہیں کیوں کہ روحانیت کو سب سے مقدم جانتے ہیں اوراسی راہ کے سالک بھی ہیں !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *