زینب۔۔امجد زاہد

میں لکھنا چھوڑ چکا ہوں بیٹا، پر تمہارے الم نے میرے قلم کو اس شدت سے پکارا کہ اوسان خطا کردیے ہیں ۔۔ تمھارا دکھ صفحے کی زینت بنانے کے لیے بنا ہی نہیں اور جو کبھی ایسا سرزد ہوجائے تو میرے الفاظ تمھارے قاتل کو بھنبھوڑ ڈالیں گے.
مگر میں وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جو ایسا کر گزریں. ایسا صرف تخیل کی دنیا میں ہوتا ہے زینب۔۔

تمھارے قاتل کی مذمت کروں؟
تمھارے بہیمانہ قتل پہ آنسو بہاؤں؟
تمھارے ماں باپ کو پرسہ دوں؟
یا میں اس امیر شہر کی جان کو روؤں کہ جس کی مملکت میں تم بن کھلے مرجھا گئیں، جو ایک دردناک داستان ہے.
اور میں اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہوں؟
یہ “کیا کرسکتا ہوں” کا سفر طویل ہے. یہ گھٹا ٹوپ رات کا سفر ہے جس کی منزل ابھی نامعلوم ہے. جب لوگ جاگ کے زادراہ اور امیر قافلہ کو اپنے پاس نہیں دیکھیں گے تب سمجھ میں آئے گا کہ وہ کالی رات سو کے گزارنے والی نہ تھی. ان کا میر قافلہ ہی ان کارہزن تھا.

لوگ تو سو رہے. رات کالی ہوتی جارہی. نیند گہری ہوتی جارہی. کسی شب زندہ دار نے ‘ہُو’ کی آواز لگائی پر اسے خواب غفلت کو کھدیڑنے سے روک دیا گیا. قریب میں کہیں نقب زن اپنا کام کررہے تھے اور
ایسے میں ایک بھیڑیے نے تمھیں دبوچ لیا.
مگر یہ رات ہمیشہ نہیں رہے گی. سحر ہوگی۔۔ سورج نکلے گا، لوگ جاگیں گے، نئے امیر بنیں گے،بچے اور مال محفوظ ہوگا، لوگ اگلا سفر حکمت عملی سے کریں گے.
“کیا کرسکتا ہوں” کا سفر پایہ تکمیل کو ضرور پہنچے گا.
خدا تمھیں جنتیوں کی سربراہی سے نوازے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”زینب۔۔امجد زاہد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *