ہاں اس طرح ہوتا رہے گا ۔۔ طاہرہ عالم

SHOPPING
SHOPPING

زینب ہو ،فاطمہ ہو بیٹی میر ی ہو یا بیٹی تمھا ری ہو!مر نے کے بعد تو کوئی وا پس نہیں آنے والا یہ دیکھنے کیلئے کہ ہمیں انصاف ملا یا نہیں ,کئی زینب پامال ہوئیں ، موت کے گھا ٹ اُتار دی گئیں، بہت سے لوگو ں کا مجمع ا کھٹا ہوا، غم و غصے کی ایک لہر اُٹھی اور ختم ہو گئی کسی نے کہا کہ قا نون بنا یا جا ئے، کو ئی کہتا ہے اپنی بیٹی جلا دو،کوئی کہتا ہے سر پرست قصور وار ہے، کو ئی کہتا ہے ہم سب ہی اس ظلم میں برا بر کے شر یک ہیں ،کو ئی ہم شرمندہ ہیں کہہ کر خو د کو بچا لیتا ہے، کسی نے مذہب کو دوش دیاتو کسی نے لبر ل ازم کے نعر ے بلند کیے، کوئی کہتاہے سنگسار کرو تو کو ئی سرِعام پھا نسی پر لٹکا نے کی شرط رکھنے کا نعر ہ بلند کر تا ہے۔مجر م کو ن ہے؟ کیا ہے؟ کہا ں سے آیا؟ کہا ں گیا؟۔۔ کسی کو کچھ خبر نہیں لیکن ہم سب کو یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ اس مجر م کے سا تھ سلو ک کیا کر نا ہے ۔

ایک موت کے افسو س میں کئی اور گھر وں میں صف ما تم بچھ جا تی ہے کہیں بھگدڑ ہے تو کہیں پو لیس کی فا ئر نگ ، احتجاج کر نے والے بھی مو ت کے گھا ٹ اُتار د یئے جا تے ہیں بس اگر کو ئی ا حتجا ج کا را ستہ ہے تو سو شل میڈیا ہی رہ گیا ہے ،آپ کچھ بھی لکھ کر اپنی وال پہ چسپا ں کر دیں اور اپنے تما م فر ائض سے آزادی لے لیں ،کیا کر یں کیا نہ کر یں ،شا ید ہم خود بھی نہیں جا نتے، کیا سنگسار کر نے سے یا پھا نسی چڑ ھا دینے سے جر ا ئم کم ہو جا ئیں گے؟کیا بیٹیا ں یا بیٹو ں کی جا نیں اور عز تیں محفو ض ہو جا ئیں گی؟کیونکہ جہاں اسلا می قا نو ن نافذہیں اور مجر م کو سنگسا ر کیا جا تا ہے ان ممالک میں بھی یہ جر ا ئم ہو تے ہیں، کیو ں؟کیا والد ین کو چا ہیے کہ ا پنے بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں اپنی نگا ہوں کے سا منے ر کھیں لیکن کب تک؟کہا ں تک؟ایسے بہت سا رے سوا لا ت جنم لے ر ہے ہیں پھر ہم کہتے ہیں بچوں کو آگا ہی دیں کہ کوئی اجنبی آپ کا دوست نہیں ہو سکتا، پھر سوا ل پیدا ہو نے لگتا ہے کہ بچہ مزاحمت کر ے بھی تو کتنی؟ درندہ صفت لو گ صر ف ظلم ڈ ھا نے کیلئے ہیں۔زیا دہ تر مجر م قر یبی ر شتہ دار یا پھر جا ن پہچا ن وا لے ہی ہو تے ہیں ،بھا نڈا پھو ٹنے کے ڈر سے ظا لم مظلو م کو ہی مٹا ڈالتا ہے۔

یہ پڑھیں  زینب۔۔امجد زاہد

دنیا میں زیا دتی کی مثا لیں بھر ی پڑی ہیں، اگر اپنے پا کستا ن کی با ت کر و ں تو ہیومن را ئٹس کمیشن کے اندا ز ے کے مطا بق 2009 میں46%خواتین عزت کے نا م پہ قتل کر دی گئیں۔2002مختا را ما ئی اجتما عی زیا د تی کا شکا رہو ئی، 2005میں ر شو ت نہ د ینے پہ خا تو ن کو پو لیس والو ں نے اجتما عی ز یاد تی کا نشا نہ بنا ڈا لا ،کا ئنا ت سو مرو 13سالہ سکو ل گر ل زیا دتی کا نشا نہ بنی اور آواز ا ٹھا ئے جا نے پہ بھا ئی کو قتل کر د یا گیا۔پر و یز مشر ف کے دور میں بلو چستا ن میں شا ز یہ خالد جنسی تشدد کا شکا ر ہو ئی، جنو ری 2014میں مظفر گڑ ھ ڈ سٹرکٹ جہا ں مختا ر امائی کو زیا دتی کا نشا نہ بنا یا گیا، ایک با ر پھر اجتما عی زیا د تی کی سزا گاؤ ں کی طر ف سے   دی گئی2017 پسند کی شا دی کر نے پہ پنچا ئیت ممبر ان کے ہا تھو ں زیادتی کا نشانہ بنتی ہے تو صر ف ایک عو رت دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر کو ئی ظلم ہو تا ہے تو کہا جا تا ہے اگر مجر م نا معلو م ہے تو ر یا ست اس کا ذ مہ دار ہے۔ لیکن یہا ں تو مجر م مو جو د ہو کر بھی کسی پا گل جنگلی سور کی طر ح آزاد گھو م ر ہا ہوتا ہے ان سب کی ذ مہ دا ری کس کی ہے؟

SHOPPING

تر بیت کا کا فقد ان جہا لت ہے یہی ظلم و بر بر یت کو جنم دیتا ہے اکثر وا لد ین کی تر بیت ہی بگا ڑ کا با عث بنتی ہے لڑکیو ں کو تو بہت ہی حقیر مخلو ق سمجھتے ہو ئے پا لا پو سا جا تا ہے۔ہر جگہ ‘تم لڑ کی ہو، تمھیں یہ نہیں کر نا وہ نہیں کر نا، ایسے ر ہنا ہے، اگلے گھر جا نا ہے وغیرہ و غیر کے طعنے  سا ری ز ند گی ہی سننے پہ مجبور ہو تی ہیں، کیو ں کو ئی ما ں اپنے بیٹو ں کی تر بیت کر تے و قت یہ نہیں کہتی کہ  عو رت لفظ بہت ہی محترم ہے اس چا ر حر ف سے ملے اس لفظ میں کا ئنا ت سمو  دی گئی ہے، اس کا احترام کر و، یہ ما ں ہے بہن ہے بیٹی ہے بیو ی ہے یہ ہر روپ میں تمھا رے لئے دعا گو   ر ہتی ہے،اس کی حفا ظت کا ذ مہ اُٹھانا کیو ں نہیں سکھا یا جا تا؟ اسے ہر جگہ عز ت کی نگا ہ سے د یکھو ،کیو ں نہیں بچپن سے بیٹوں کو  یہ تر بیت د ی جا تی؟کسی بھی معا شر ے میں عو ر ت کا احترام لا ز م و ملزو م  قرار دیا  جا ئے تو معا شر ہ اتنا غلیظ کبھی نہ ہو اور اگر بیٹو ں کی تر بیت اسی طر ح ہو تی ر ہی تو ز ینب ایسے ہی مر تی ر ہیں گی پیدا ہو تی ر ہیں گی، حوا کے بیٹے ایسے ہی مارتے رہیں گے ،تربیت کا فقدا ن ،کچر ے کے ڈ ھیر میں لا کھو ں کروڑوں باباکی جا ن!

SHOPPING

Avatar
طاہرہ عالم
طاہرہ عالم شعبہ تدریس سےوابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا شغف بھی رکھتی ہیں آپ پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ سندھ کی جنرل سیکریٹری ہیں گھومنے پھرنے ، کتب بینی اور انٹرنیٹ کے استعمال کو بہترین مصرف سمجھتی ہیں اورزندگی میں کچھ نیا کرنے کو ترجیح دیتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *