علامہ اقبال پر روسی ماہرین کا کام

علامہ اقبال پر پوری دنیا میں کام ہوا ہے روسی ماہرین نے بھی اقبال کی فکر پر کام کیا۔
ڈاکٹر سخاچوف،نتالیاپری گارینا،پولونسکایا اور ستے پین ینتس وغیرہ جیسے ممتاز سکالرز نے فکر اقبال کے حوالے سے کام کیا۔۔
روسی مفکرین نے اقبال کو اس کی پوری فکر کے تناظر میں دیکھنے کی بات کی، مسلم بیداری ایک پہلو ہے، سرمایہ داریت سے نفرت، سامراجیت کے خلاف بات، اشتراکیت کی تحسین، اور مغربی افکار پر تنقید ان کی فکر کے ایسے پہلو تھے جن کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے علاوہ علامہ اقبال نہ صرف اسلامی بیداری کی بات کرتے تھے بلکہ وہ ہندوستانی عظمت، مشرق کی فکری اور تہذیبی سوچ کو بھی نمایاں کرتے تھے ۔۔علامہ اقبال کو ان کی پوری فکر کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ان کی فکر کے ایک پہلو سے ان کی پوری شخصیت کو دیکھا جاسکتا ہے۔۔ روسی مفکرین نے مرد مومن کی بھی ایک نئی توجیح پیش کی کہ مرد مومن ایک ایسا شخص ہے جو تقدیر کا پابند نہیں بلکہ ایسا باشعور اور باعمل شخص ہے جو افراد اور معاشرے میں تبدیلی کے لئے کوشش کرتا ہے۔۔ اور جو قسمت کا قیدی نہیں بلکہ تقدیر لکھنے والا ہے۔۔ جبکہ خودی شعور کی وہ سطح ہے جب کوئی شخص اپنی ذات کی تفہیم کرلیتا ہے تو وہ کسی لکھی ہو تقدیر کے تحت مجبور نہیں رہتا بلکہ ایک آزاد اور خود مختار انسان بن جاتا ہے

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *