موت آنے تک زندہ رہنے میں کیا حرج ہے۔۔عبید اللہ چوہدری

SHOPPING

 “میرے ایک مرحوم دوست کہا کرتے تھے ۔ یار یہ ساری دنیا پاگل ہے۔ تم اور میں بھی پاگل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا والے 10 فیصد اور ہم 25 فیصد پاگل ہیں اس لیے  ساری دنیا کو ہم  ہی پاگل نظر آتے ہیں۔۔ ہمارے اس پاگل پن کا زیادہ کریڈٹ مرد مومن ضیاء  الحق کو جاتا ہے۔ مرحوم کے ہم پر بڑے احسانات ہیں ۔ مثال کے طور پر۔ اگر وہ فنون لطیفہ پر پابندی نا لگاتے تو ہم انڈین فلمیں دیکھتے دیکھتے ہی جوان ہو جاتے۔ جب ہر بات پر پابندی تھی تو مجبوری میں کتابوں کا سہارا لینا پڑا۔ چھپ چھپ کر “جھوٹے روپ کے درشن ” پڑھی۔۔۔ پھر منٹو، عصمت چغتائی، واجدہ تبسم کو جانا۔ پھر ساحر لدھیانوی کی باری آئی اور فیض تک آتے آتے سوچ پختہ  ہوتی چلی گئی۔

بعد ازاں میکسم گورکی اور ٹالسٹائی نے ہمیشہ کیلئے ہماری زندگی کی سمت متعین کردی۔ میرے کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ ضیاء الحق نے ہماری نسل کی جوانی تباہ کر دی . اس دعوے سے میرا اتفاق جزوی ہے۔ یونیورسٹی دور بھی ضیاء کی باقیات سے پنجہ لڑاتے گزرار۔اس کے بعد کوئی پکی   نوکری کرنے کی بجائے اصلاح احوال کا بیڑہ اٹھا لیا۔۔ معلوم تھا ایک کیا دو نسلوں تک بھی جدوجہد کرنی پڑ  سکتی ہے۔ اب یقین ہو چلا ہے کہ ایک دو نسل کی بات نہیں۔ یہ اک جہد مسلسل ہے۔۔۔ اب واضح ہوا ہے کہ ضیاء تو ایک مہرہ تھا صرف، صرف ایک کٹھ پتلی۔۔ایک بوسیدہ سوچ کے پیروکاروں کا ظاہری چہرہ،ضیاء الحق تو خود ایک بوسیدہ سوچ کی باقیات تھا۔ اس کی باقیات کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ اس کو امیرالمومنین کے درجے سے جلد ہی ہٹا دیا گیا۔ وہ بوسیدہ سوچ آج پھر عروج پر ہے۔ کئی اور امیرالمومنین کو آزمایا جا چکا ہے۔ کئی درخواست لیے کھڑے ہیں۔ آج پھر سوچ اور اظہار رائے پر پابندی عروج پر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس دور کی مناسبت سے پابندی تھی آج اس دور کی مناسبت سے ہے۔ بعض حلقے پہلے بھی سمجھتے تھے کہ اس معاشرتی اندھیر نگری کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم کر کے روشن کیا جا سکتا ہے۔۔ان کا ایمان آج بھی اس پر قائم دائم ہے۔جو سمجھتے تھے کہ ماضی کی طرف سفر ہی ہر بیماری کا علاج ہے وہ آج پھر بڑھ چڑھ کر اسی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ سوچ اور اس کے اظہار پر پابندی انسانیت کی تذلیل ہے۔ سب سے بڑا نشہ آزاد زندگی کا نشہ ہے۔ جو ایک بار انسانی زندگی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اب ان کو پنجرے میں بند کرنا ممکن نہیں۔ آج کے دور میں پھر کسی گورکی اور ٹالسٹائی کی ضرورت ہے۔ یا پھر کوئی چے گویرا ہی پیدا ہو جائے۔ بقول شاعر ۔۔۔

تم محبت کو ڈھونڈ لائے ہو

SHOPPING

گھر میں پہلے عذاب تھوڑے تھے

SHOPPING

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *