کوانٹم سطح پر ماضی کا سفر ۔۔محمد شاہزیب صدیقی

SHOPPING
کوانٹمی دنیا ہماری دنیا سے کافی  مختلف ہے، سپر پوزیشن اور اینٹینگلمنٹ اس کے واضح ثبوت ہیں۔ اگرچہ  پچھلےمضمون “کوانٹم فزکس کی جادونگری” میں سپرپوزیشن اور اینٹینگلمنٹ کو مفصل بیان کیا گیا تھا، مگر اُس آرٹیکل کے بعد بہت سے دوستوں کی جانب سے میسجز موصول ہوئے کہ سپرپوزیشن کو ثابت کرنے کے لئے جو تجربہ کیا گیا اس کی وضاحت کریں لہٰذا اِس آرٹیکل کو پڑھنے سے  سپرپوزیشن اور اینٹینگلمنٹ پر مشتمل  لنک میں موجود یہ مضامین لازمی پڑھ لیں۔
سپر پوزیشن کے جادوئی عمل کو آزمانے کے لئے Double Slit Experiment ترتیب دیا گیا۔ اس تجربے میں الیکٹران گن کا استعمال کیا گیا جس سے ایک وقت میں صرف ایک ہی الیکٹران فائر کیا جاسکتا ہے اس سے آگے دو راستے (slits)بنائے گئے اور ایک observer کو ان راستوں سے پہلے رکھا گیا تا کہ دیکھا جائے کہ الیکٹران observer کی موجودگی میں کیسا behave کرتا ہے، راستے کے بعد کچھ فاصلے پر پردہ لگایا گیا تاکہ الیکٹران پردے سے ٹکرا کر جو pattern بنائے اس سے معلوم ہوگا کہ یہ کس راستے سے گزرا۔ تمام انتظامات ہونے کے بعد تجربے کو انجام دیا گیا۔ جب مشاہدہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ الیکٹران سامنے موجود صرف ایک ہی راستے سے گزرا اور پردے پر نشان بنا گیا، لیکن جب observer کو ہٹایا گیا یعنی مشاہدہ نہیں کیا گیا تو سائنسدان یہ جان کر حیران ہوگئے کہ اُس ایک الیکٹران نے wave جیسا behavior دکھایا اور دونوں راستوں سے بیک وقت گزرتا ہوا سامنے پردے پر interference pattern چھوڑ گیا، یہ pattern اس بات کی نشانی تھا کہ ایک الیکٹران دونوں راستوں سے بیک وقت گزرا ہے ۔
اس تجربے کے بعد فزکس کی دنیا میں بھونچال آگیا اور سائنسدان حیران ہوگئے کہ کوانٹم سطح پر ایک ہی چیز بیک وقت ایک سے زیادہ جگہوں پر موجود ہوسکتی ہے بشرطیکہ اس کو اگر دیکھا نہ جائے، یہاں تک کہ اگر اُس ایک الیکٹران کے سامنے دس راستے بھی ہوں گے، تو وہ ان دس کے دس راستوں پر بیک وقت نکل پڑے گا۔ کوانٹم فزکس کے اس مظہر کو سپرپوزیشن کا نام دیا گیا۔اس تجربے کے بعد سائنسدانوں نے اس کی توسیع کرتے ہوئے ایک اور تجربہ کرنے کا سوچا جس کے مطابق اب کی بار observer کو عین پردے کے پاس رکھا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اگر الیکٹران کسی کے دیکھنے کی وجہ سے اپنا behaviour بدل لیتا ہے اور پارٹیکل بن جاتاہے تو اب کی بار پردے کے پاس الیکٹران کا مشاہدہ کیا جائے گا، کیونکہ الیکٹران slit میں داخل ہونے سے پہلے فیصلہ کرلیتا ہے کہ ایک راستے سے گزرنا ہے یا دونوں سے بیک وقت، لہٰذا slitسے نکلنے کے بعد جب اس کو دیکھا جائے گا تو الیکٹران کے پاس فیصلہ بدلنے کا موقع نہیں رہے گاتو اِس situation کو الیکٹران کیسے ہینڈل کرے گا؟

 یہ پڑھیں : بلیک ہولز۔۔ شاہزیب صدیقی

اس عجیب و غریب سوال کا جواب جاننے کے لئے سن 2000ءمیں ایک تجربہ کیا گیا جسے آج بھی ڈیلیڈ چوائس کوانٹم اریزر ایکسپیریمنٹ (Delayed choice quantum eraser experiment) کے نام سے جانا جاتا ہے ،زیرِ نظر تصویر دیکھیے
آپ سے خصوصی درخواست ہے کہ  اِس تجربے کو سمجھنے کے لئے آرٹیکل پڑھنے کے ساتھ ساتھ اوپر تصویر کو مسلسل دیکھتے رہیے گا۔آئیے اس تجربے پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
اس تجربے میں فوٹان (روشنی) کا استعمال کیاجاتا ہے، آپ لال اور نیلی لکیروں کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں کہ پہلی slit سے نکلنے والی روشنی کن راستوں پہ جائے گی جبکہ دوسری slit سے نکلنے والی روشنی کون سے راستے پر جائے گی۔ 702.2 نینو میٹر کا فوٹان بنانے کے لئے لیزر بیم کو رکھا گیا، اس کے آگے 2 راستے (slits) بنائے گئے۔ ان slits کے بعد prism رکھا گیا تاکہ یہ ان slits سے نکلنے والی روشنی کو کم فریوکینسی (351.1 نینومیٹر)کی 2روشنیوں میں تبدیل کرسکے (آپ آسانی کے لئے سمجھ لیں کہ prism کے ذریعے ہر slit سے نکلنے والے فوٹان کا entangled pair  بنایا جائے گا)۔

 یہ پڑھیں :  انوکھا سیارہ۔۔۔شاہزیب صدیقی

اب ہم پہلی slit سے نکلنے والی روشنی کے راستے کو سمجھتے ہیں۔ پہلے راستے سے جب روشنی نکلے گی تو ایک روشنی سامنے لگے پردے D0 پر جائےگئی جبکہ دوسری روشنی سامنے  لگے prism (PS) پر پڑے گی جو اس روشنی کا رُخ تبدیل کرکے beam splitter پر بھیجے گا، بیم سپلٹر(BSb)کے پاس 2 آپشن ہوں گے یا  تو وہ روشنی کا رُخ بدل کر اس کو D4 پر پھینک دے گا یا پھر سیدھاجانے دے، اگر روشنی سیدھا گئی تو  یہ وہاں لگے آئینے Mb سے ٹکرا کر ایک اور بیم سپلٹر BScپر پڑے گی جو اسے D2 یا پھر D1 پر بھیجے گا۔ یہاں تک کہانی اس روشنی کی تھی جو پہلی slit سے نکلے گی۔ اس کے بعد کہانی کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس کے تحت دوسری سلٹ سے نکلنے والی روشنی کا entangled pair بنے گا، ایک روشنی سامنے لگے پردے D0 پر پڑے گی جبکہ دوسری روشنی سامنے لگے prism پر پڑے گی جو اس کا رخ Beam Splitter کی جانب موڑے گا اور یہ بیم سپلٹر (BSa) یا تو روشنی کو D1 پر بھیجے گا یا سیدھا جانے دے گا جہاں یہ آئینے (Ma) سے ٹکرا کر سامنے لگے بیم سپلٹر (BSc) پر پڑے گی جو روشنی کو D2 یا D1 پر بھیجے گا۔
مندرجہ بالا  تصویر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فوٹان جب تک اپنی منزل پر پہنچے گا اس سے پہلے ہی اس کا entangled pair سامنے لگے پردے D0 سے ٹکرا چکا ہوگا۔ اسی طرح جب روشنی D3 یا D4 پر پڑے گی تو ہمیں فوراً معلوم ہوجائے گا کہ فوٹان کس راستے سے آیا ہے، مگر جب روشنی D2 یا D1 پر پڑے گی تو ہمیں معلوم نہیں ہوپائے گا کہ فوٹان کس راستے (slit) سے گزر کر پہنچا۔ یہی وہ وقت ہے جہاں فوٹانز اور الیکٹرانز عجیب و غریب behavior کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم نے پچھلے مضمون میں سمجھا تھا کہ entangled particles ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ لہٰذا جب روشنی اس تجربے کے دوران D3 یا D4 پر پڑی تو فوٹانز  نے پارٹیکل نیچر دِکھاتے ہوئے کوئی interference pattern نہیں بنایا، محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے D3 یا D4 پر پہنچنے والے فوٹان نے D0 پر پہنچنے والے اپنے جڑواں بھائی کو یہ پیغام دے دیا ہو کہ observer کو معلوم ہے کہ ہم کس راستے سے آئے لہٰذا انہیں سپر پوزیشن کولیپس کرتے ہوئے بطور پارٹیکل اپنا behavior دِکھاؤ۔ لیکن جب روشنی D1 یا D2 پر پڑی تو فوٹانز نے interference pattern بنایا، محسوس ایسا ہوتا ہےکہ جیسے D1 یا D2 پر پہنچنے والے فوٹان کے پارٹیکل نے D0 پر پہنچنے والے اپنے جڑواں بھائی کو یہ پیغام دیا ہو کہ observer کو  معلوم نہیں ہوپایا کہ ہم کس slit سے آئے ہیں لہٰذا سپر پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے interference pattern دِکھاؤ۔
اس میں سب سے زیادہ حیرانگی کی بات یہ تھی کہ جب تک یہ پیغام پہنچایا جا رہا ہوتا ہے تب تک D0 پر فوٹان کا جڑواں پارٹیکل ٹکرا چکا ہوتا ہے ، لہٰذا interference pattern بنانا ہے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا اسی وقت ممکن ہے جب فوٹان کے پارٹیکلز ماضی میں لوٹ کر فیصلہ تبدیل کریں کہ observer کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم اس راستے سے آرہے ہیں سو  ہم دونوں نے ویسا ہی behavior دِکھانا ہے۔
ہم نے آج تک یہی سُنا تھا کہ ماضی میں کیے جانے والے فیصلے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں مگر کوانٹم سطح پر یہ حیرت انگیز مظہر دیکھنے کو ملتا ہے کہ مستقبل میں کیے گئے فیصلے ماضی پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اور الیکٹران یا فوٹانز ماضی میں لوٹ کر اپنے فیصلے کو observer کے مطابق بدل سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ثابت شدہ ہے۔ کوانٹم فزکس کو اسی خاطر weird کہا جاتا ہے کیونکہ اس متعلق ہم کوئی پیشن گوئی نہیں کرپاتے اور ایسے حیرت انگیز مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
ان عجیب و غریب مظاہر کو دیکھ کر اسی خاطر ناقدین کہتے ہیں کہ کوانٹم فزکس اتنی حیران کن نہیں جتنا ہم سمجھ رہے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم کائنات کی کسی dimension کو miss کررہے ہیں جس کے باعث یہ عجیب و غریب واقعات ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس تجربے پر مسلسل تحقیق جاری ہے اس کے علاوہ اس کے کچھ upgraded version بھی کیے  گئے ہیں مگر نتیجہ ویسا ہی حیران کن نکلا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوانٹم سطح کیا وہ مقام ہے جہاں وقت بطور جہت نظر آنا شروع ہوجاتا ہے اور اس پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے؟
سوال یہ بھی بلند کیا جارہا ہے کہ کیا سٹرنگ تھیوری سچ کہتی ہے کہ جتنی چھوٹی سطح پر ہم جائیں گے مزید جہتیں (dimensions) ہمیں ملنا شروع ہوجائیں گی ؟
کیا کوانٹم فزکس واقعی اتنی پرسرار  ہے یا یہ محض ہماری نظر کا دھوکا ہے اور ہمارے علم کی کمی کے باعث یہ سب ہورہا ہے؟ سوال تو بہت سے اٹھتے ہیں مگر کیا کریں کوانٹم فزکس ماہرین کے لئے بھی اِتنی ہی حیران کن ہے ۔چونکہ سائنس کو ابھی ترقی کے زینوں پر قدم جمائے زیادہ عرصہ نہیں گزرا لہٰذا ہمیں ان سوالات کے جواب  تلاش کرنے میں ایک عرصہ لگ سکتا ہے! کوانٹم فزکس کی جادونگری کس قدر حیران کن ہے اس کا اندازہ معروف سائنسدان رچرڈ فین مین کے ان الفاظ سے لگا سکتے ہیں:
“میں یہ باآسانی   کہہ سکتا ہوں کہ کوانٹم فزکس کو کوئی نہیں سمجھ سکتا”

Save

Save

Save

Save

SHOPPING

Save

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *