وقت کا تقاضا کیا ہے؟-شہزا دملک

کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، کل کے حریف آج کے حلیف ،یہ مفادات ممکنات اور مواقع کا کھیل ہے، انسانی نفسیات کی رو سے مختلف الخیال لوگ اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر سیاسی گروہ اور پارٹیاں تشکیل دیتے ہیں اور پھر ملک کو چلانے اور عوام کی بھلائی کے منصوبوں پر مشتمل اپنے اپنے منشور بناتے ہیں، عوام میں ان کی تشہیر کرتے ہیں اور انہیں مقبول بنانے کے لئے میڈیا کا سہارا لیتے ہیں اور سیاسی جدوجہد سے ملکی اقتدار تک رسائی حاصل کرکے اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔جمہوری ممالک میں یہ ایک معمول کی مشق ہوتی ہے، پارٹیاں ایک دوسرے  سے اختلاف منشور کے نکات کی بنیاد پر کرتی ہیں، شخصیات کی بنیاد پر اختلاف کو دشمنی کی حدوں تک نہیں پہنچایا جاتا۔

بد قسمتی سے ہمارے ہاں پارٹیوں کے منشور کی کبھی کوئی پابندی نہیں ہوتی ،سیاست دان اپنے پروگراموں کی بنیاد پر نہیں ایک دوسرے کی ذات کی بنیاد پر مخالفت کرتے ہیں، انتخابات کے موسم میں اپنی الیکشن مہم میں ملکی مسائل اور ان کے حل کی بات نہیں کی جاتی، بلکہ ایک دوسرے کی ذاتی زندگی کی کمزوریاں اچھالی جاتی ہیں، نفرت انگیز پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اپنے مد مقابل کی نجی زندگی زیر بحث لائی جاتی ہے ،طعن و تشنیع اور ہر طریقے سے سیاسی مخالف کو برا بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام اپنے مسائل اور ان کے حل کی طرف سے آنکھیں بند کرکے اپنی پسند کے سیاست دان کے سحر میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ایک قوم کی بجائے واضح طور پر کئی گروہوں میں بٹ کر اپنی طاقت منتشر کر لیتے ہیں، ماضی میں عوام اسی فارمولہ کے تحت بھٹو اور اینٹی بھٹو گروہوں میں منقسم تھے ،یہ تقسیم ابھی چل ہی رہی تھی کہ اس میں عمران فیکٹر بھی داخل ہوگیا ،ساتھ ہی سیاسی مخالفت دشمنی اور نفرت تک پہنچ گئی، ملک میں الیکشن ہوچکے ہیں لیکن پارٹیوں کو ایسا منقسم مینڈیٹ ملا ہے کہ دوسری پارٹیوں کے اشتراک کے بغیر کوئی بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

حالات کی ستم ظریفی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو ایک دوسرے کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت بنانے کے لئے آپس میں تعاون کرتے ہوئے مشترکہ حکومت بنانے کی مجبوری لاحق ہے اور دونوں پارٹیاں اقتدار کے طاقتور عہدوں کے لئے کوشاں ہیں اور باقی ماندہ لوگ ان کی سابقہ مخالفت اور حالیہ الیکشن مہم میں بلاول کی نواز شریف کے خلاف زبان درازی کے پیش نظر چند مہینوں کے بعد ہی ان کی ساجھے کی ہنڈیا کو بیچ چوراہے پھوٹنے کی پیشین گوئیاں کرتے اور تمسخر اڑاتے دیکھے جارہے ہیں آنے والی حکومت کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات رکھنے اور قوم کا مورال بلند کرنے کی بجائے ابھی سے میڈیا کے لوگ دعوے کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ مخلوط حکومت ذیادہ دیر نہیں چلے گی بے شک ان دو پارٹیوں کی سابقہ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ یہ کبھی مل کر نہیں چلیں مگر۔۔
ملک اس وقت سنگین ترین حالات کے خوفناک گرداب میں جس بری طرح پھنس چکا ہے کیا اقتدار کی بندر بانٹ کرنے والے سیاست دانوں اور ان کا تماشا دیکھنے والوں کو کچھ اندازہ نہیں کہ اگر ان کی بے حسی اسی طرح قائم رہی تو ملک (خدا نخواستہ) کسی بڑے المیے سے دوچار ہوسکتا ہے اس گھمبیر صورت حال سے نکلنے کے لئے کیا پرانی مخالفتیں بھلا کر خلوص دل سے کوششیں اور اپنی اپنی پوری صلاحیتیں نہیں لگا دینی چاہئیں اور دور کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے اور تمسخر اڑانے والوں کو ان حالات میں اپنے وطن کی سلامتی اور بہتری کے لئے آئندہ بننے والی حکومت کی کامیابی کی دعا نہیں کرنی چاہئیے یہ وقت آپس کی دشمنیاں نکالنے تماشا دیکھنے اور ٹھٹھہ اڑانے کا نہیں خدائے بزرگ و برتر کے حضور اپنی کوتاہیوں اور حماقتوں کی معافی مانگنے ملک کی بقا کے لئے خضوع خشوع سے دعائیں کرنے اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کا ہے ملک ہے تو سیاست بھی ہوتی رہے گی اس وقت بھی اگر سدا کا وطیرہ نہ چھوڑا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور اللہ نہ کرے
ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply