ناٹک پرانا چل رہا ہے/صنوبر ناظر

کم از کم الیکشن کے انعقاد کے بعد اس ابہام کا تو قلع قمع ہوا کہ آیا الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں۔ لیکن اس بار بھی ووٹنگ کے بعد چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی الیکشن کے سو فیصد نتائج کیوں سامنے نہیں آئے؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسکا جواب ” انتظار فرمائیے” ہی دیا جاسکتا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا، پی ٹی وی کے پروگراموں کے دوران ہونے والی تکنیکی خرابیوں کے پیش نظر ہم اکثر ٹی وی پر یہ لکھا دیکھ کر سوائے پیچ و تاب کھانے کے کچھ نہیں کر پاتے تھے۔ سو غالباً آج بھی ملک کی یہی صورتحال ہے۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں کئی حیران کن اور بیشتر غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں۔

حالیہ پاکستان کی سیاست میں اس وقت نمایاں تین بڑی جماعتیں ہیں اور تینوں جماعتوں کے ساتھ ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کردار کم و بیش ایک جیسا ہے رہا ہے۔ بقول شاعر

نئے کردار آتے جا رہے ہیں

مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

چلیں ذرا ماضی پر ایک نظر ڈالیں۔

عوام کے وو ٹ کے ذریعے برسراقتدار آنے والے کسی وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ کسی کو گولی مار دی گئی۔ کسی کو جیل بھیج دیا تو کسی کو جلاوطن کردیا۔

پچھلے ساٹھ سال سے عوام کو ایک ہی فلم دکھائی جارہی ہے کبھی یہ فلم بلیک اینڈ وائٹ ہوتی ہے تو کبھی رنگین۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد ضیاءالحق کی گیارہ سالہ آمریت میں پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کے لئے پوری حکومتی مشینری حرکت میں رہی۔ نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو نے سول سوسائٹی اور اپنی جماعت کے کارکنوں کے ہمراہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر غیر انسانی سلوک سہا۔ پارٹی کے کارکنان کو جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر جیل بھیجا گیا۔ سرعام کوڑے مارے گئے اور بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ کئی کارکن جان بچا کر روپوش ہوگئے تو سینکڑوں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دئے گئے۔ اس وقت ہمارے کرتا دھرتاؤں کا اولین مقصد ایک عوامی لیڈر اور اس کی پارٹی کو نیست و نابود کرنا تھا۔

کئی سال کی جلاوطنی کے بعد پیپلز پارٹی میں بے نظیر بھٹو ایک نئی قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور ہر سو چھا گئی۔ وہی پیپلز پارٹی جسے مارشل لاء کے دور میں پوری طرح کچل دیا گیا تھا اور کچلنے والے سمجھتے تھے کہ اب یہ جماعت کبھی سر اٹھا نہیں پائے گی، لیکن دنیا نے دیکھا کہ بے نظیر کی آمد پر عوام کے ٹھا ٹے مارتے سمندر نے جس طرح اپنی لیڈر کا والہانہ استقبال کیا اسکی نظیر آج تک نہیں ملتی۔

ضیاء کے گیارہ سالہ آمرانہ دور کے اختتام کے بعد 1988 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے پھر سے میدان مارا اور بےنظیر پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی۔ طاقتور حلقے منہ کی کھانی کے باوجود پھر اپنی ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوگئے۔

اس بار مسلم لیگ کو پیپلز پارٹی کے مدمقابل لایا گیا۔ آئی جے آئی بنائی گئی تاکہ پھر سے جمہوری عمل کو سبوتاژ کیا جاسکے اور عوام کے ووٹ کے حق کو دوبارہ پیروں تلے روندا جائے۔

بے نظیر کے خلاف بھی وہی ہتھکنڈے وہی زبان اور وہی الزامات استمعال کئے جو ایک آمر نے ماضی میں محترمہ فاطمہ جناح کے لئے کئے گئے تھے۔

محترمہ بےنظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی مسلم لیگ کی حکومتیں بنائی گئیں پھر توڑی گئیں اور یہ چوہے بلی کا کھیل کئی ادوار پر محیط رہا۔

ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جب نواز شریف بھی ایک پاپولر سیاستدان بن کر ابھرے اور جیسے جیسے عوام میں ان کی مقبولیت بڑھنے لگی ویسے ویسے ہمارے مقتدرہ حلقوں کی نیندیں اڑنے لگیں۔

1997 کے الیکشن میں نواز شریف دو تہائی اکثریت سے جیت کر وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے۔ نواز شریف خود کو طاقتور لیڈر سمجھنے جیسے جرم کا ارتکاب کر بیٹھے اور کئی ایسے اقدامات کئے جو سراسر مقتدرہ حلقوں پر ایک وار سمجھے گئے۔ 12 اکتوبر 1999 میں ملک کو ایک بار پھر مارشل لاء کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دھکیل دیا گیا۔

جنرل پرویز مشرف نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی اور نواز شریف اور تقریباً پوری کابینہ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا اور چند ماہ بعد جلاوطن کر دیا گیا۔

جس طرح 1977 کے بعد پیپلز پارٹی کا صفایا کیا گیا تھا اسی طرز پر مسلم لیگ کو بھی عبرت کا نشانہ بنانے سے قطعی گریز نہیں کیا گیا۔ لیکن کیا ہوا وہی دھاک کے تین پات۔ میثاق جمہوریت کے ذریعے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہوا اور انھوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کا لائحۂ عمل تیار کیا۔

اس سیاسی تدبیر کا ہی نتیجہ تھا کہ ایک آمر کر نو سال بعد گھر جانا پڑا۔ لیکن بی بی کی سیاسی پختگی اور تدبر اس بار بھی ان حلقوں کے حلق سے نہ اتر سکا جنھوں نے بی بی کے باپ کو تختہ دار تک پہنچایا تھا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد 2008 کے الیکشن کے بعد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے مل کر حکومت بنائی لیکن جلد مسلم لیگ نے اپنے رستے الگ کر لئے۔

ملک کے سیاسی، معاشی حالات بہتر ہوتے جارہے تھے اور جمہوری نظام بھی قدم جمانے لگا تھا بے شک بہترین نہ تھا لیکن بہتری کی طرف گامزن ضرور تھا اور آزادانہ طور پر منتخب اسمبلی نے پہلی مرتبہ اپنی مدت مکمل کی۔

اسی کا تسلسل ہی تھا کہ مسلم لیگ نے 2013 کے الیکشن میں جیت کر حکومت بنائی لیکن جمہوریت کی ٹرین کو پھر پٹری سے اتارنے کا منصوبہ پس پردہ تیار تھا۔ اس بار کرپشن کا راگ الاپا گیا اور پاناما کیس سامنے آیا جس کے نتیجے میں پھر سے ملک کی معاشی اور اقتصادی ترقی کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا۔ اس بار تحریک انصاف کو پال پوس کر عوام کے سامنے لایا گیا۔ پوری جماعت اور اسکے لیڈر کی بھرپور معاونت کی گئی اور کھل کر دھاندلی کرکے اس پروجیکٹ کو حکومت سے نوازا گیا۔

تحریک انصاف کا دور حکومت اکیسویں صدی کا بدترین دور کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف اور اسکے نمائندوں کو مقتدرہ حلقوں کی کھلے عام آشیرواد حاصل تھی لیکن یہ بھی زیادہ عرصہ وارے نہیں آیا۔ سو آج عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے جسے ہمارے اداروں کے کرتا دھرتاؤں نے پچھلے انتخابات میں بڑے طمطراق کے ساتھ لانچ کیا تھا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ان حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کے تمام کارکنان کو آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن میں حصہ لینا پڑا ہے۔ حتی کہ ان سے انتخابی نشان تک چھین لیا گیا۔ یعنی کل کے بادشاہ آج کے فقیر۔

یہ کھیل ہم سب کے لئے نیا نہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے آئے ہیں کہ جبراً کسی بھی سیاسی جماعت کو جڑ سے اکھاڑا نہیں جاسکتا۔۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی سیاست پر آج بھی آسیب کا سایہ ہے۔

سیاست کرنا سیاستدانوں کا کام ہے لیکن اداروں کی مسلسل مداخلت نے سیاست اور پورے جمہوری نظام سے عوام کو متنفر کر دیا ہے۔ اسمیں ہمارے سیاستدانوں کی بھی غلطیوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ اگر ترقی کے دھارے کے ساتھ بہنا ہے تو طاقتور اداروں کو جمہوری اور سیاسی نظام سے خود کو الگ رکھنا ہوگا۔

ورنہ یہ کھیل نہ جانے کب تک یونہی چلتا رہے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بشکریہ: وی نیوز

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply