اسلاموفوبیا اور تحریک 103

ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم دنیا کے پرامن ترین ملک کینیڈا کے مقیم ہیں کینیڈا نے ہمیں گھر دیا، نوکریاں اور کاروبار دئے بچوں کی تعلیم، صحت_عامہ کی بہترین سہولیات کے ساتھ ساتھ کینیڈین شہری ہونے کے یکساں حقوق بھی دیے کینیڈا دنیا کا واحد ملک ہے جس کی خوشحالی کی بنیاد یہاں کی ملٹی کلچرل پالیسی، مذہبی و شخصی آزادی اور ہر خاص و عام پر قانون کی یکساں بالادستی میں مضمر ہے۔ جب بات آتی ہے شخصی اور مذہبی آزادی کی تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت_مسلمان اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل درآمد میں جتنی آسانی کینیڈا میں ملی اتنی تو کسی اسلامی ملک میں بھی نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ کینیڈین آبادی کا بہت بڑا حصہ مختلف ممالک سے ہجرت کئے ہوئے مسلمانوں پر مشتمل ہے کینیڈا نے ان سب کو اپنے کلچر میں فراخ دلی سے سمولیااور ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ کیا لیکن سیاسی، مذہبی اور بنیاد پرستی کی بنا پر ہونے والی شر پسندی جہاں دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہے کینیڈا اس شر سے کیسے بچ سکتا ہے خاص طور پر 9/11 کے بعد جہاں امریکہ سمیت پوری دنیا میں مسلمان انتہا پسندی کی وجہ سے مسائل اور دشواریوں کا شکار ہوئے پھر طالبان ، القائدہ اور دیگر تنظیموں کی دہشت گردی کی وجہ سے مسلمانوں پر ہر جگہ دہشت گردی کا دهبہ لگتا چلاگیا حالانکہ پاکستان، کشمیر، فلسطین، شام اور عراق سمیت کتنے ہی مسلم ممالک اندرونی اور بیرونی دہشت گردی کا شکار ہورہے ہیں مگر تکلیف دہ مرحلہ ہے کہ مسمانوں پر ظلم کرنے والے کبھی بھی دہشت گرد قرار نہیں دئیے گئے لیکن جب کوبیک اسلامک سنٹر پر فائرنگ کے نتجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے تو جسٹن ٹروڈو کے اس اعلان سے کہ یہ حملہ مسلمانوں کے خلاف کھلی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے مغربی انتہاپسندوں میں شدید احتجاجی رجحان دیکھنے میں آیا۔
اسلاموفوبیا اور اینٹی اسلام تحریکیں پہلے سے زیادہ متحرک ہوگئیں ۔کینیڈا جو کہ اک سیکولر ملک ہے جہاں سکارف یاحجاب لینے والوں سے امتیازی سلوک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہاں پر کتنی ہی دفعہ سکارف والی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مسلمانوں پر آوازیں کسنا تو اک عام سی بات ہے اور ہم بھی چپ کرکے برداشت کرلیتے ہیں کہ شر تو ہر جگہ موجود ہوتا ہے لہذا ایسےحالات میں خندہ پیشانی اور تحمل سے کام لیتے ہوئے درگزر کرنا چاہئے مگر امریکہ میں ٹرمپ کی مسلمان مخالف پالیسییوں اور کینیڈا میں کنزرویٹیو پارٹی کی پالیسیوں کو مدِنظر رکهتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کل کو ہمارے بچوں نے بھی انہی سکولوں ، کالجوں میں پڑهنا ہے جہاں اینٹی مسلم تحریکوں کو ہوا دی جاری ہے ۔مسئلہ یہ نہیں ہے کہ صرف ایک مسجد میں قتل وغارت سے ہم اپنا نقطئہ نظر بدل رہے ہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ اندر ہی اندر نفرتوں کی فضا پروان چڑهه رہی ہے یقینا"نفرت کے اس ماحول کو فروغ دینے میں مسلمانوں کا اپنا بہت بڑا ہاتھ بھی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی آپس کی ناچاتی، خودساختہ اسلامی روایات میں انتہا پسندی، خود کو دیندار اور باقیوں کوگناہگار سمجهنے والا بنیاد پرست رویہ اور ایسی ہی بہت سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر تمام مسلم کمیونٹی پر مذہبی جنون کا ٹیگ لگ جاتا ہے حالانکہ حقیقت بالکل برعکس ہے۔ محض چند لوگوں کی کارروائیوں کی بنا پر تمام کمیونٹی کو بہت کچھ برداشت کرنا اور سہنا پڑتا ہے۔ بڑهتی ہوئی اینٹی مسلم تحریکوں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کے پیش_نظر ایم پی اقرا خالد نے تحریک 103 کاسلسلہ شروع کیا جو کہ درخواست ای411 کے نتجے میں ایشو کی گئی جس میں اسلاموفوبیا کی مذمت کی گئی اور ستر ہزار سے زائد کنیڈین نےاس کی حمایت کی۔ اس وقت پورے کینیڈا میں لبرل مخالف کنزرویٹیو کے ساتھ ساتھ بہت سارےدوسرے حلقوں میں بھی تحریک 103 کی مخالفت کی جارہی ہے کنزرویٹیو پارٹی کی انتخابی امیدوار کیلی لیچ نے کہا کہ تحریک میں اسلام کو خصوصی توجہ دی گئی "ٹورنٹو سن نیوزپیپر" کے مطابق ایم پی اقرا خالد اپنے رویے میں بالکل لچک پیدا نہیں کر رہی ہیں بقول ان کے اسلام و فوبیا کا اصل مطلب سمجھائے بنا اسے بے بنیاد طریقے سےتحریک میں شامل کیا گیا ہے سابق کیبینٹ منسٹر اور ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ آئرون کوٹلر کے مطابق"اسلاموفوبیا"کی بجائے "اینٹی مسلم تعصب"کا لفظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا ٹورنٹو سن کے مطابق تحریک 103لبرلز کی طرف سے ایک سیاسی حربہ ہے تاکہ کنزرویٹیو پارٹی جیت نہ سکے۔ جب کہ 103 کے ٹیکسٹ میں محض حکومت کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے مثلا" حکومت عوام میں بڑهتے ہوئے خوف اور نفرت والے ماحول پر قابوپانے کے اقدامات پر غور کرے اور اسلاموفوبیا، مذہبی و نسلی بنیاد پرہر بهی قسم کے تعصب کی مذمت کی گئی ہے کینیڈین ہیریٹیج اینڈ کلچرل کمیٹی سے درخواست کی گئی ہے کہ خوف وہراس کے ان بڑهتے ہوئے مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر غور کرے
دوسری طرف اس تحریک کی مخالفت کرنے والے اس مغالطے میں ہیں کہ اس تحریک سے کینیڈین عوام کی اظہارِآزادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے اگر یہ تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ کینیڈا میں قانونِ شریعہ کے لاگو کرنےکیلئے راہ ہموار کر دیگی اگر کینیڈا میں قانون ِشریعہ لاگو ہوگیا تو مسلمان اپنی مذہبی انتہا پسندی کی پریکٹس کیلئے مکمل آزاد ہوجائیں گے وہ اپنے گھروں میں کسی بھی قسم کا انتہائی ماحول پیدا کرسکیں گے اور کوئی قانون ان کو اپنا پابند نہیں کر سکے گا۔
کہنے کی بات ہے کہی جاسکتی ہے مگر سوچنے والی بات ہے کہ کینیڈا جیسے ملک میں اسلامی شریعہ قانون کیسے قائم ہوسکتا ہے کینیڈا برطانوی قوانیں کو پس ِپشت ڈال کر محض ایک تحریک کی بناپر اسلامی قوانین کی بالادستی کو خیرمقدم کہے گا سوچنے والوں کی سطحی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کنزرویٹیو پارٹی کے بہت سے امیدواروں نے اس تحریک کی شدید مخالفت کی ہے کیلی لیچ نے تو تحریک 103 کے خلاف سٹاپ ایم 103 کے نام سے پیٹیشن بھی جاری کر دی ہے اور سائن کرنے کیلئے ٹویٹ بھی کر دی ہے۔دوسری طرف 103 پارلیمنٹ کے ممبرز کیلئے ایک بہترین ذریعہ ہے کہ وہ کینیڈا میں پروان چڑهتے ہوئے خوف و ہراس اور مذہبی و نسلی امتیازانہ رویوں اور تشدد پسندی کی کھل کر مذمت کر سکیں ۔اور ان تمام ممکنہ طریقوں پر غور کرسکیں جس سے آنے والے وقت میں ان مسائل پر قابو پایا جاسکے ۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ 103 کو لبرل مخالف کینیڈین عوام اور امیدواران اور لیڈرز ناپسند کررہے ہیں بلکہ عوام میں اس تحریک کو لے کر بہت ساری کنفیوژن اور لاعلمی ہے ۔غلط پروپیگنڈا سے تحریک کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور خاص طور پر ایم پی اقرا خالد کے خلاف خوف و ہراس مزید بڑھ گیا ہے ۔اقرا خالد کو دهمکی آمیز پیغامات مل رہے ہیں پولیس نے ایم پی کے گھر اور اس کے آفس کی سیکیورٹی بڑهادی ہے لیکن اس وقت تکلیف کا مقام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اپنے درمیان اقرا اور 103 کو لیکر عجیب و غریب خیالات پائے جارہے ہیں بجائے اس کو سپورٹ کرنے کے لوگ اقرا کی اسلامک اور قرآن سے متعلق معلومات پر سوال اٹھارہے ہیں تو دوسری طرف ایک طبقہ 103 کو مسلمانوں کی مذہبی انتہا پسندی قرار دے رہا ہے تو کچھ آنے والے انتخابات کے حوالے سے اسے ہمدرردانہ رویے سمیٹنے کا موثر ذریعہ سمجھ رہے ہیں
مگر سوال یہ ہے کہ بحیثیت عام کینیڈین شہری تحریک 103 کا پارلیمنٹ میں پیش ہونا ، اس کا کامیاب ہونا یاناکام ہونا اس کا مثبت یا منفی پروپیگنڈا ہماری اور ہمارے بچوں کی زندگیوں پر کیسے اثر انداز ہوگا۔حالیہ صورتحال کس طرح سے اسلاموفوبیا اور خوف وہراس کے بڑهتے ہوئے جرائم کو روکنے میں کامیاب ہوگی۔ دوسری کمیونٹیز کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی کمیونٹی اس تحریک میں کس حد تک اقرا خالد کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے۔ تمام مسائل اور حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ بات تو واضح ہے کہ مذہبی آزادی کینیڈا کی اساس ہے نسلی اور مذہبی امتیاز ایک سیکولر اور ملٹی کلچرل ملک میں صرف مسائل کا ہی منبع بن سکتا ہے چاہے وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو یا دوسرے مذایب کی طرف سے۔
رابعہ احسن

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *