نہ میں مومن وچ مسیتاں، نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں!۔۔عمار کاظمی

جنگ گروپ اور مسلم لیگ نواز کی میڈیا ٹیم ایک مدت سے عمران کے پیچھے پڑی تھی۔ بڑے بڑے الزامات لگائے گئے، مالی طور پر نواز کے برابر کرپٹ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ بتایا گیا، مگر لوگوں نے پینتیس برس سے اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹی کرتی آ رہی جماعت کے ان الزامات کو بھی گھاس نہ ڈالی ۔ کچھ کارگر ثابت نہ ہوا،کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کیونکہ سچ یہی تھا کہ ان تمام باتوں کی بنیاد پر اس کا نواز سے کوئی موازنہ نہیں بنتا تھا۔ کمرشل لبرلز نے اسے طالبان خان کہا مگر وہ نعرہ بھی کسی گندی گالی کی طرح انہی کے منہ پر آ ن لگا کہ اگر وہ افغان طالبان کی بات کرتا تھا تو یہاں دوسری جماعتیں لشکر جھنگوی جیسی جماعتوں کیساتھ سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کرتے پائی جاتی تھیں۔ ایل ای جے کی قیادت کو سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں سرکاری پروٹوکول دیتی تھیں اور رانا ثنا اللہ جیسے وزرا کے ان سے تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔ مذہبی لوگوں نے مذہب کا استعمال کر کے جوئے کے طعنے دئیے۔ خود عمران نے اپنے انٹرویو میں بے باک طریقے سے بیٹنگ کے پیسوں سے قرض اتارنا قبول کیا۔ شاید اکثریت کو اسکے مذہبی یا لبرل ہونے سے کچھ خاص غرض نہ تھی۔ عوام کم و بیش ہر معاملے میں بیباکی کے ساتھ سچائی پسند ثابت ہو رہی تھی۔ مگر یہ کیا کہ اچانک ایک غیر سنجیدہ ایشو اتنا سنجیدہ بن کر اُبھرا؟ سوال جتنا مشکل ہے جواب اتنا ہی آسان ہے۔ بات بہت سادہ سی ہے۔ لوگوں کی اکثریت نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست سے محض اس لیے عاجز آئی تھی کہ انکی قیادتیں جمہوریت کو حصول اقتدار، وراثت اور ذاتی مفادات سے آگے نہیں دیکھ پا رہی تھیں۔ عوام جو گزشتہ ستر سال سے ہر آنیوالے دن کےبدترہونے کی شاہد تھی ،وہ انکے اس خود غرضانہ رویے سے تنگ آ چکی تھی۔ سیاستدانوں سے لیکر ملک کے ہر شعبے ہر ادارے ہر طبقے تک مالی کرپشن ایک حقیقت تھی ۔ مگر دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے کبھی اسے ایشو مانا ہی نہیں، کبھی اس پر ایسا فوکس کیا ہی نہیں جیسا عمران نے کیا۔ وہ ہمیشہ خود پر لگے الزامات میں خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف رہیں اور کبھی سنجیدگی سے غیر جانبدار احتساب پر کوئی پیش رفت نہ دِکھاسکیں۔ یعنی ہر سطح پر انکی ذات اور ذاتی مفادات ہی اولین ترجیح رہے۔ اس مختصر سی دو لفظوں کی بات کو جتنا مرضی لاسٹک ڈال کر لمبا کر لوں میں مگر دو حرفی بات یہی ہے کہ ’’عوام اپنی ذات کے گرد گھومنے والی مفاد پرست خود غرض سیاست سے عاجز آ چکے تھے‘‘۔اوریہ بھی کیا خود غرضی ہے کہ عوامی جدو جہد کے ہر دوسرے تیسرے سال ستاسٹھ برس کی عمر میں آپکو اپنی شادی یاد آ جاتی ہے؟ آپکو یاد آتا ہے کہ آپکو کبھی سچا پیار نصیب نہ ہوا ،کبھی اچھی اور پر سکون ازدواجی زندگی میسر نہ ہوسکی؟ یہ سب باتیں اگر آپ اپنے سیاسی احداف مکمل کرنے کے بعد کہیں اپنی بائیوگرافی یا انٹرویو میں بیان کرتے تو شاید انکے کچھ اور معنی لیے جاتے، آپکے چاہنے والوں کو آپ سے بجا طور پر ہمدردی ہوتی ۔وہ شرمندگی کی بجائے ان سب باتوں پر فخر محسوس کرتے کہ ہمارے لیڈر نے ہم پر اپنی ذاتی خواہشات قربان کر دیں۔ مگربد قسمتی سے ایسا کچھ ثابت نہ ہوسکا۔

اس خبر کے قابل قبول اور اس ایشو کے پر اثر یا نقصان دہ ہونے کی دوسری اہم وجہ کہیں خان صاحب کے ماضی کی چھاپ بھی ہے۔ یعنی اگر آج زرداری صاحب پر کرپشن کا کوئی نیا سکینڈل سامنے آ جائے کہ جس کا ردپیپلز پارٹی بطور جماعت حتمی طریقے سے پیش نہ کرسکے اور ذرا سے بھی ابہام کیساتھ جواب دے تو ماضی کی طرح بغیر کسی ثبوت کے سب سچ مان لیا جائے گا۔اسی طرح سے نواز پر بھی اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی الزام لگے گا تو وہ بنا ثبوت بھی سچ متصور ہوگا۔متحدہ پر کسی نئے قتل کا الزام لگے گا تو اسےبھی عوام کی اکثریت بنا تصدیق فوراً درست تسلیم کر لے گی۔معرو ف الزامات درست ہوں یا غلط، ماضی کی چھاپ سے نکلنا تقریباً نا ممکنات میں سے ہی ہے۔ اسکی بہترین یا بدترین مثال آصف زرداری ہی ہیں جو بنا کچھ ثابت ہوئے، گیارہ سال جیل کاٹنے اورعدالتوں سے رہائی پانے کے باوجود، آج بھی مخالفین میں کرپٹ ہی سمجھے جاتے ہیں۔سوجنگ گروپ اور میاں صاحبان کے پینل کے صحافیوں کی محنت آخر کار رنگ لائی اور حملہ کامیاب ہوا۔حملے کو کامیاب کروانے میں خودتحریک انصاف نے بھی اپنی حماقت سے اہم رول ادا کیا ۔ چیمے کی جھوٹی خبر پر وضاحت پیش کر کے تحریک انصاف نے عمران سے دوستی نہیں دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔خود عمران کوبطور ایک مقبول لیڈراپنے ماضی کی چھاپ کے حوالے سے ان معاملات میں جس قدر محتاط ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوئے۔ حق تو یہ تھا کہ وہ اپنی شادی کاکوئی نیا پروپوزل سامنے لانے کی بجائےکم از کم اگلے آٹھ نو ماہ تقوی اور پرہیز گاری سے گزارتے ۔ شادی جیسے ذاتی اور نجی(تحریک انصاف کے ان لوگوں کے لیے جو پبلک فگر کی نجی زندگی پر بات کرنا برا سمجھتے ہیں)معاملات کو ملکی سیاست کے ان اہم اور فیصلہ کن دنوں سے دور رکھتے۔

خیر ،ہمارے تحریک انصاف کے جودوست آج کل میری تحریروں کا بہت برا مان رہے ہیں ان کے لیے عرض کرتا چلوں کہ، ہم تجزیہ نگاری پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں کر سکتے نہ ہی خلا میں رہتے ہیں جو زمینی حقائق سے اس قدر ناواقف ہوں۔محسوس کر سکتے ہیں کہ اس سارے معاملے کو ملک میں موجود کنزرویٹو اور لبرل سیکولر حلقوں کی اکثریت کے نزدیک، حتمی طور پرکیسے دیکھا جائے گا۔سچ پوچھیں تو یہ دو دھاری تلوار کا وار ہے۔ مکمل سنجیدگی سے سمجھتا ہوں کہ عمران کو مس بشرا عُرف پنکی کے ایشو نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔بشری بی بی کے سابقہ شوہر مانیکا صاحب کا بیان روایت پسند اور بنیاد پرست حلقوں میں کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے (اور مستقبل میں بھی شاید دیکھا جاتا رہےگا)وہ یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اشارۃً اتنا ہی لکھ سکتا ہوں کہ لوگ مانیکا صاحب کی غیرت کو سلام کر رہے ہیں۔شایدپانچ بچوں اور تیس سال کی رفاقت کے بعدعمران اور پیرنی بشری صاحبہ کی صفائی میں دیا گیا ان کا روحانی بیان کسی لبرل سیکولر معاشرےکے لیے بھی آسانی سے ہضم کرنا آسان نہ ہوگا۔ اچھے بھلے آزاد خیال غیر مذہبی لوگ حیرت کا اظہار کرتے سوال پوچھتے ہیں کہ کیسے کوئی نارمل مرداپنی سابقہ بیوی کےلیے ایسا بیان جاری کر سکتا ہے ؟ اور مت بھولیں کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اوریا مقبول جیسےعریانی ریسرچرزآباد ہیں،جہاں کا ملا بھائی بہن کے ایک ساتھ گانا گانے پر معترض رہتا ہے اور جہاں آج بھی شاید لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تصویر بنوانا گناہ سمجھتے ہیں۔ تحریک انصاف کے دوستوں سے بس اتنی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ، بھائی معذرت کیساتھ اگر تو یہ آپکی شرمندگی ہے تو یہ مجھ خاکسار کو برا بھلا کہنے سے کم یا ختم نہیں ہوگی۔ پانچ بچوں والی نانی سے شوہر کہے ’’جا سمرن جی لے اپنی زندگی‘‘ تو میں آپ جیسے بھلے مانس لوگوں کی ذہنی حالت پر محض افسوس ہی کر سکتا ہوں ۔کیونکہ اس لمحےآپ اپنا آپ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ آپ کس قدر کمزور اور فلمی بیانیے کا دفاع کر رہے ہیں۔یہ نہ مذہبی حلقوں کے حلق سے اتر پا رہا ہے نہ حقیقت پسند لبرل سیکولراسے قبول کر پا رہے ہیں۔لبرلز کے لیے آپ کے روحانیت کے عذر ناقابل یقین ہیں اور مذہبی لوگوں کے لیے آپ کا ماضی بھلانا ممکن نہیں۔ ویسے یہ کون سی روحانیت ہے جو شادی کی محتاج ہے؟ افسوس آپ نے تو روحانیت پر بھی سوال اٹھا دئیے۔اور کیا لبرل ہونے کے لیے دوستوں کی بیویوں پر نظر رکھنا اور مذہبی ہونے کے لیے متعدد شادیاں کرنا ضروری ہے؟ اگر لبرلزم اور مذہب پسندی کی یہ تعریفیں ہیں تومیں تو اپنے سیکولر بابے کے انہی الفاظ پر اپنا بیان ختم کرنا چاہوں گا کہ ’’ نہ میں مومن وچ مسیتاں، نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نہ میں مومن وچ مسیتاں، نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں!۔۔عمار کاظمی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *