کل کا فتنہ تکفیر ہی آج کا فتنہ خوارج ہے

دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں کے بعد مختلف نظریات و افکار کے حاملین ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں میں مصروف ہیں۔ سب اپنے اپنے جھوٹوں کو چند دن سچ ثابت کرتے رہیں گے تاوقتیکہ کوئی اور واقعہ رونما نہ ہو جائے .اس کے بعد پھر یہی کھیل شروع ہوجائے گا اور یوں الزام در الزام کا وہی گھن چکر چلتا رہے گا جو عرصے سے جاری ہے ۔ بات یہ نہیں کہ سچائی کی طرف کوئی نہیں جانا چاہتا ۔ بات یہ ہے کہ ایسی سچائی ابھی تک سامنے نہیں آئی جس پر اتفاق رائے ممکن ہو ۔ ہم جو ایک عرصے سے اس کشت و خون کے کھیل کے عینی شاہد ہیں ، نے شائد ہی اس عرصے میں اس عذاب سے نکلنے کے لئے کوئی مشترکہ کوشش کی ہو ۔ قبل اس کے ہم کسی حل کی طرف جائیں ناگزیر ہے کہ ان حالات کا تجزیہ کیا جائے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ اس وحشتناک کھیل کی شروعات کب اور کہاں سے ہوئی ۔
جہاں تک میرا خیال ہے اس سارے کھیل کی شروعات فتنہ تکفیر یعنی حق نواز جھنگوی کے زمانہ ظہور سے ہوتی ہے ۔ اب یہ کہنا کہ ان کا اپنا ظہور بھی کسی سابقہ عمل کا رد عمل تھا میری نظر میں ایک بوگس استدلال ہے ۔ انقلاب ایران اور صحابہ پر شب و ستم کے جتنے بھی قصے روایت کیئے جاتے ہیں بات ان کے موثر اور علمی محاکمے کی حد تک رہتی تو ٹھیک تھی ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک گروہ کو منظم و مسلح کر کے ان کی زمام کار شعبدہ باز خطیبوں کے ہاتھ میں دے دی گئی ۔ یوں پوری ایک نسل ایسی تیار کر دی گئی جس نے دفاع صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کے نام پر اگلے کئی سالوں تک دھرتی کو خون سے رنگین کیا ۔
صحابہ کرام ؓ کے یہ سارے سپاہی وہ سادہ دل مسلمان تھے جو اسلام کے اولین داعیوں کی دل سے عزت کرتے تھے اور ان کی ناموس کو مقدم جانتے تھے ۔ ان کی اسی سادہ لوحی کو خطیبانہ سحر نے متشدد گروہ کی حیثیت سے منظم کر دیا ۔ یہ کھیل 1985ءمیں انجمن سپاہ صحابہ نامی اینٹی شیعہ تنظیم کے قیام سے شروع ہوا ۔ اس فرقہ واریت کا پہلا نشانہ 1990ءمیں پاکستان میں ایرانی قونصل جنرل صادق گنجی بنے اور اس کے جواب میں اس آگ کو بھڑکانے والے حق نواز جھنگوی کو سپاہ صحابہ کی تاسیس کے ساڑھے چار سال بعد قتل کر دیا گیا ۔ لیکن ان ساڑھے چار سالوں میں جو خطیبانہ صلاحیتیں (نام نہاد ) دفاع صحابہ کے لئے وقف ہو چکی تھیں انہوں نے گل کھلانے شروع کر دیئے ۔ بجائے اس کے کہ یہ سوال اٹھتا کہ جناب جو کام آپ کرنے چلے ہیں۔ کیا یہ دفاع صحابہ ہے بھی یا نہیں ؟ سادہ لوح مسلمانوں کا یہ گروہ اہل تشیع کے خلاف مورچہ زن ہو گیا ۔
شیعوں کی کتب سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی عبارتیں لائی گئیں جو سنتے ہی کسی کا بھی اشتعال میں آنا عین فطری تقاضا تھا۔ حق نواز جھنگوی کے بعد قتل مقاتلوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو ارتقاءکرتے کرتے آج خود کش حملوں تک پہنچ چکا ہے ۔ اگر اس وقت مسلمانوں کی عظیم اکثریت (سواد اعظم) اس گروہ کا محاسبہ و محاکمہ کر دیتا تو بھی بات اتنی نہ بڑھتی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ جس نے بھی لب کشائی کی جرات کی اسے یا تو مار دیا گیا یا بغیر سوچے سمجھے رافضی اور کافر قرار دے دیا گیا ۔ اہل علم اور اہل تقویٰ نے یا تو خاموشی اختیار کر لی یا ان کو مرتد و بے دین قرار دے کر ان کی بات کو ہی مشکوک بنا دیا گیا اور یوں سارے کا سارا اسلام دفاع صحابہ کے نام پر خون خرابے میں رہ گیا ۔
اس وقت یہ سوال کیا جاتا کہ حضرت صحابہ کو دفاع کی ضرورت تو بدر واحد سے لیکر جمل و صفین کے میدان میں تھی ۔ جب ان پر تیر برسائے جا رہے تھے جب ان کے سر نیزوں کی انیوں پر اچھالے جا رہے تھے ۔ دفاع صحابہ کا مقام تو وہ تھا جب یرموک اور قادسیہ میں قتال جاری تھا ۔ یہ آج اس عہد سے نکلنے کے تیرہ سو سال بعد کس چیز کے دفاع میں تلواریں سونت لی گئی ہیں ؟ کیا صفین اور جمل میں شہید ہونے والے صحابہ کا آج تیرہ سو سال بعد دفاع ممکن ہے ؟ دفاع صحابہ کے نام پر تیرہ چودہ سو سال بعد وہی جمل اور صفین کے معرکے برپا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ؟
ان تکفیری خطیبوں نے تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے تاریخ کے اسی دوراہے پر مسلمانوں کو لاکھڑا کیا جس نے پہلے بھی مسلمانوں کو انتشار اور قتل و غات گری کے سوا کچھ نہ دیا ۔ غور فرمائیں کہ صدیوں پرانی اگر کوئی جنگ غلط تھی تو دوبارہ اس جنگ کو دوہرانا کیوں کر ٹھیک ہو سکتا ہے ۔ اس بات کی مزید وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں کو ایک خوفناک انتشار کے زمانے سے نکلے ہوئے صدیاں بیت چکی تھیں جب دوبارہ ویسی صورت حال پیدا کرکے رکھ دی گئی ۔ ایک ایسی جنگ شروع کر دی گئی جس نے اب عفریت کا روپ دھار رکھا ہے اور اب یہ آگ خود اپنے لگانے والوں کے گھروں کو جلا رہی ہے ۔
میں اب بھی صدق دل سے یہ سمجھتا ہوں کہ ایک مسلمان کا کام دفاع صحابہ کے نام پر قتل و غارتگری اور نفرت پھیلانا ہر گز نہیں ۔ بلکہ اپنے کردار و عمل سے خود کو ایک اچھا مسلمان بنانا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ افکار کی تطہیر اور کردار کی تعمیر ہی اسلام کی دعوت کا مقصود و منتہا ہے ۔ لیکن یہاں اس کے برعکس ایک ایسے ریڈیکل اسلام کا تصور چھا گیا جس نے انسانیت کی چولیں ہی ہلا دیں ۔ کہ جو بھی ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے وہ کافر اور واجب القتل ٹھہرا ۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور یکے بعد دیگرے خطیبانہ سحر میں مبتلا نوجوانوں نے اپنے کردار کی تعمیر کے بجائے مخالفین کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ اس دوران ان سپاہیوں کے مقابلے کے لیئے اہل تشیع نے بھی سپاہ محمد کے نام سے اپنے سپاہی بنانا شروع کر دیئے اور اہل تشیع کے ذاکرین کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے سے سالوں برسرپیکار رہے اور اس دوران مقتولین کی تعداد ہزاروں تک پہنچا دی گئی ۔
ایک دن (بزعم خود) صحابہ کے کسی سپاہی کو رسول اکرم ﷺ کا سپاہی قتل کرتا اور اگلے روز (بزعم خود) رسول اکرم ﷺ کا کوئی نام نہاد سپاہی صحابہ کے سپاہیوں کو قتل کرتا ۔یوں ہر روز سکور میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ ایک دن کسی امام بارگاہ میں بم دھماکہ ہوتا تو اگلے دن خطیب فورس کے جانبازوں کو قصہ ماضی بنا دیا جاتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم پہلو کا بیان رہ گیا اور وہ یہ کہ جب ایک دوسرے کے خلاف پراپگنڈہ جنگ شروع ہوئی تو عین اس اصول کے مطابق کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے یہاں بھی سب کچھ جائز کر لیا گیا ۔ اہل تشیع کے حوالے سے جتنے الزامات عائد ہوتے اتنے ہی اہل تشیع کی جانب سے بھی جاری ہونے لگے ۔ ایک دوسرے کو کافر کہنا تو چلیں سمجھ میں آتا ہے لیکن صحابہ کے دفاع میں مورچہ زن خطیبوں نے جو ان کے خطیبانہ جوہر کو نہ مانے اسے بھی بیک جنبش قلم دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا اعلان کردیا ۔ ْْجو نہ مانے وہ بھی کافر ٌکے نعرے سے خوف کھا کر مسلمانوں کے سواد اعظم نے بھی خاموشی اختیار کر لی ۔
اسی مارا ماری میں ہزاروں جانیں تلف ہوئیں۔ حق نواز جھنگوی کے آنگن کا سب سےپہلا پھل ریاض بسرا تھا جس نے سینکڑوں شیعوں کو قتل کیا تھا ۔ اسی نے 1996ءمیں لشکر جھنگوی بنائی ۔ بعد ازاں یہ خود بھی مارا گیا ۔ ملک اسحاق جھنگوی اس تکفیری درخت کا دوسرا پھل تھا ۔ ان دہشت گردوں کو یہ تکفیری آج بھی شہید کہتے ہیں ۔ اور آج یہ پورے ملک میں خود کش دھماکے کرتے پھر رہے ہیں ۔اب بھی اگر ان کو پہچاننے میں کوئی دقت محسوس کرتا ہے تو اسے اپنی نظر کا علاج کروانا چاہیئے ۔

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *