مذہبی تعلیم

مدرسوں کے نظام کو ختم کئے بغیر انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے؟ تو اس کا آسان جواب یہی ہے کہ ایسا ممکن نہیں ۔۔
مدرسے والے صرف اپنے مسلک کے بارے نہیں پڑھاتے بلکہ دوسرے مکتبہ فکر کے بارے نفرت اور عدم برداشت کا سبق بھی دیتے ہیں ۔۔
ان مدارس کی اصلاح ممکن نہیں۔ اس کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ آٹھویں جماعت تک سب بچوں کو ایک جیسی تعلیم دی جائے جس میں برداشت اور رواداری سکھلائی جائے اور دوسرے کے خیالات کا احترام کرنا سکھایا جائے ۔اس کے بعد نویں دسویں میں جہاں دوسرے آپشن دیئے جاتے ہیں وہاں مذہبی تعلیم کا بھی آپشن دیاجائے ۔۔
ایف ایس سی کے بعد جیسے دوسری پروفیشنل تعلیم کے لئے ادارے ہوتے ہیں اسی طرح مذہبی تعلیم کے چار سالہ کورسز کے ادارے ہو ں ۔۔
جہاں سے مذہبی لوگ گریجویٹ ہوں اور پھر یونیورسٹیز سے ایم اے۔ ایم فل، اور پی ایچ ڈی کر سکیں ۔۔تعلیم کی ایسی اصلاحات کے بغیر انتہا پسندی کا خاتمہ ایسے ہی ہے جیسے کتے کو نکالے بغیر صرف پانی کے ڈول نکال کر کنوئیں کو پاک کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *