میرا سکول اور سرکاری ملازمت کی خواہش۔۔مرزا مدثر نواز

آفیسر: سرکاری گاڑی کا ٹائر پنکچرہو گیاہے جاؤ جا کر تبدیل کر دو۔
ڈرائیور: میں ایک ریگولر اور سرکاری ملازم ہوں، ٹائر تبدیل کرنا میری ڈیوٹی نہیں۔ آفیسر خود ٹائر تبدیل کرتا ہے۔
سینئر: آپ آفس وقت پر آیا کریں۔
جونیئر: میں دیر سے ہی آؤں گا‘ آپ نے جو کرنا ہے کر لیں۔
آفیسر: آفس میں کیوں بیٹھے ہو‘ جاؤ جا کر فیلڈ میں کام کرو۔
ماتحت: آپ کو کیا مسئلہ ہے‘ جب میرا دل کرے گا میں چلا جاؤں گا۔

اوپر والی لائنوں پر نگاہ ڈالنے سے بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ کسی سرکاری آفس کا نقشہ ہے اور حقائق پر مبنی یہ ریمارکس سرکاری ملازمین کے ہیں۔ ہم سب پبلک ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت حاصل کرنے کی تمنا اپنے دل میں لیے ہوتے ہیں اور اس کا مقصد عوام الناس کی خدمت نہیں بلکہ اوپر کھینچا گیا نقشہ ہے۔ کیا کسی پرائیویٹ ادارے میں ایسے ریمارکس کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ تم گورنمنٹ جاب کیوں کرنا چاہتے ہو تو وہ یہی جواب دے گا کہ کام کم ہوتا ہے ‘ٹائم کی پابندی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ سرکاری ادارے قوم کی امانت ہوتے ہیں اور ان میں کام کرنے والے ملک و قوم کے خادم ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ جس طرح خدمت کرتے ہیں اس سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ سرکاری ملازم کام کر کے ادارہ پر احسان کرتے ہیں اور look busy, do nothingکے مصداق اوور برڈن کا گلہ کرتے نظر آئیں گے۔ اگر کسی آفس میں دس لوگ ہوں تو ان میں سے بمشکل تین سے چار لوگ ایمانداری سے کام کرتے نظر آئیں گے اور باقی صرف عیاشی اور اپنا ذاتی بزنس۔ دیر سے آنا اور جلدی جانا اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی  پڑھیں آزاد منڈی کی صحافت اور آزادی اظہار کا ڈھول ۔۔ شاداب مرتضی

سرکاری ادارے میں ملازمت نعمتِ خداوندی ہے جہاں ملازمین کوپرائیویٹ اداروں کے برعکس جاب سکیورٹی، اوقات کار، پنشن، بقایا، جی پی ایف،Medical, Earned, Casual, Annual, Study Leaveجیسی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ہم پبلک سے پرائیویٹ کی طرف کیوں گامزن ہیں؟جو کہ حقیقت میں ملازمت پیشہ افراد کے ساتھ زیادتی ہے لیکن اس کی وجہ ہمارا رویہ اورشاید کسی حد تک مکافاتِ عمل بھی ہے۔ خسارہ کا شکارپبلک ادارے عوام کے ٹیکسوں کا پانچ سو ارب سے زائد ہر سال ہڑپ کر جاتے ہیں۔اگرحکومت کو یہ خرچ نہ کرنا پڑیں تو اس سے کئی میگا پراجیکٹ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ تصور کریں اگر ریلوے ‘ واپڈا‘ پی آئی اے اور سٹیل مل پرائیویٹ ہوتے تو کیا خسارہ کا شکار ہوتے ؟

میرے ایک جاننے والے نے پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں اپنی  بیوی کا دوسرے شہر ٹرانسفر کروانا تھا۔ تقریباََچھ ماہ تک درخواستیں لے کر مختلف دفاتر کے چکر کاٹتا رہالیکن بے سود۔ تنگ آکر کسی کے ہاتھ میں پیسے تھمائے تو ایک ماہ کے اندر اندر ٹرانسفر ہو گیا۔اگلا مرحلہ سیلری کی Releasingکا درپیش آیا اور پانچ ماہ تک اکاؤنٹس آفس کے چکر لگاتا اور مختلف حیلے سنتا رہا۔سٹاف نے کئی دفعہ رشوت کا مطالبہ کیا اور واضح طور پر کہا کہ جو مرضی کر لو‘جس کو مرضی کہہ لو‘ جہاں مرضی شکایت لے جاؤسیلری ریلیز نہیں ہو گی۔آخر کار پیسے دیئے گئے اور فوراََ سیلری ریلیز ہو گئی۔ رجسٹرڈ ڈاک اپنی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے لیکن پوسٹ آفس کے عملہ کو اس بات کی کوئی ٹینشن نہیں‘ کئی دفعہ خود جا کر وصول کرنا پڑی۔ خیبر سے کراچی تک آپ کسی بھی پوسٹ آفس کا وزٹ کر لیں‘چینج نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو ایک سے پانچ روپے کی قربانی لازمی دینا پڑے گی۔ اگرپھر بھی یقین نہ آئے تو نیشنل بینک کا دوسرے بینکوں، پی آئی اے کا نجی ایئر لائنز، پوسٹ آفس کا کوریئر کمپنیوں، سرکاری ہاسپٹلز کا نجی ہاسپٹلز اور سرکاری سکول کا پرائیویٹ سکول کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھ لیں۔ اگر آپ کو ٹریفک لائسنس آفس‘ پٹوار خانہ‘ تھانے یا کسی بھی پبلک ڈیپارٹمنٹ میں کام کی غرض سے جانا پڑ گیاتو آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ کسی شاعر نے عاشق دل کا سرکاری دفتر کے ساتھ کیا خوب موازنہ کیا ہے

یہ بھی پڑھیں تعمیری تنقید۔۔مرزا مدثر نواز
؂ کسی کے عشق نے سرکاری دفتر بنا دیا دل کو
نہ کوئی کام کرتا ہے نہ کوئی بات سنتا ہے۔

مجھے اپنے ٹاٹ ‘تھیلا و بوری والے سکول پر فخر ہے جہاں کلاس روم دھوپ یا چھاؤں کی بنیاد پر سارا دن اپنا مقام تبدیل کرتا رہتا تھا‘ جس میں طلباء کوبیٹھنے کے لیے ڈیسک چھٹی کلاس میں جا کر نصیب ہوئے۔ میرا گورنمنٹ سکول اپنے گردونواح کے ٹاپ سکولوں میں شمار ہوتا تھا جہاں دوردراز کے طلباء اپنے علاقے کے سکول کو چھوڑ کر تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ آج اگر میں کچھ پڑھ لکھ لیتا ہوں تو یہ سب میرے سکول کے اساتذہ کا ہی مرہونِ منت ہے۔ میں آج بھی ان کا دل و نگاہ سے احترام کرتا ہوں اور ان کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔کچھ اساتذہ کے لیے آج بھی زبان سے دعائیں نکلتی ہیں جنہوں نے انتہائی ایمانداری سے اپنے فرضِ منصبی کو نبھایا اور کچھ نے ایسا نبھایا کہ آج بھی بنیادی کمزوریوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ علاقے کے بہترین سکول کا اگر اُس دور میں تنقیدی جائزہ لیا جاتا تو کچھ اس طرح ہوتا۔۔

کچھ اساتذہ حاضری لگا کر اپنے پرائیویٹ سکول روانہ ہو جاتے ہیں‘انگلش گرامر 9thکلاس سے پڑھانا شروع کی جاتی ہے لیکن کچھ سیکشن اس سے بھی محروم رہ جاتے ہیں جو شاید ساری زندگی اس پرائی زبان پر دسترس حاصل نہ کر سکیں‘Mathematicsکے نصاب کی تکمیل کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا‘سائنس ٹیچر کی سیٹ خالی رہتی ہے‘عربی، مطالعہ پاکستان، جنرل سائنس اور ڈرائنگ کے اساتذہ سال میں شاذونادر ہی کلاس کو اپنا دیدار کرواتے ہیں‘سپورٹس کا سامان ہر سال آتا ہے لیکن طلباء کی دسترس سے باہر‘ اپنے رعب و دبدبہ کی خاطرطلباء پر بلا وجہ تشدد اپنا حق خیال کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آئیے آج ہم تھوڑا سا وقت نکال کر سوچیں کہ کیا ہم اپنا فرضِ منصبی ایمانداری سے نبھا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے اہل و عیال کو حلال کی کمائی کھلا رہے ہیں؟ ہم رزق و وقت میں بے برکتی کی شکایت کیوں کر رہے ہیں؟

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *