مردوں پر روا رکھے جانے والے ذہنی تشدد ۔۔مریم مجید ڈار

انسان چاہے مرد ہو یا عورت یہ طے ہے کہ وہ احساسات، جذبات و محسوسات سے عاری نہیں ہو سکتا۔ قدرت نے انسانی ذہن کی بنت میں جہاں ہمت قوت ارادی اور مضبوط حواس استعمال کیے ہیں وہیں دوسری طرف نازک ترین جذبات، احساسات اور لطافت بھی فطرت انسانی کا ایک لازمی جزو ہیں ۔
کچھ عرصہ سے مسلسل عورتوں کے حق اور مرد مخالف مضامین پڑھنے کے بعد سوچ کا ایک در وا ہوا کہ کیا یہ صرف صنف نازک ہی ہے جو مردوں کے ہاتھوں ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہے یا کہیں مرد حضرات بھی ایسے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں؟
ظاہر ہے معاشرہ میں کسی ایک پلڑے کا جھکاؤ کم یا زیادہ تو ہو سکتا ہے مگر یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک پلڑا تو زمین سے لگا رہے اور دوسرا بالکل خالی ہو۔ مرد بھی خواتین کی طرح بنی نوع انسان ہی ہیں اور ذہنی تشدد واذیت سے بالکل انہی کی طرح متاثر ہوتے ہیں بلکہ کچھ صورتوں میں مرد زیادہ سنگین نوعیت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔

ذہنی تشدد ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی ایک فرد یا افراد سے ایسا رویہ یا سلوک روا رکھنا ہے جو فرد یا افراد کی عزت نفس، اس کے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں اور معاشرے میں اس کے مقام پر منفی اثرات مرتب کرے۔ اور ایک فرد کو اپنی ودیعت کردہ صلاحیتوں کی نگہداشت و پرداخت اور ان کی ترقی و استعمالات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر محمول ہو۔

یہ بھی پڑھیے  http://لاپتہ۔۔معاذ بن محمود

ماہرین نفسیات کے مطابق ذہنی تشدد، تشدد کی وہ قسم ہے جس میں ایک فرد نفسیاتی طور پر دوسرے فرد کے ہاتھوں کچلا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ نفسیاتی مسائل، ذہنی دباؤ اور شدید ہیجان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک اندازےکے مطابق مرد نفسیاتی طور پر ذہنی تشدد سے عورتوں کی نسبت زیادہ متاثر ہونے کا رحجان رکھتے ہیں ۔

ذیل میں مردوں پر روا رکھے جانے والے ذہنی تشدد کی اقسام بیان کی گئی ہیں مگر ان پر بات کرنے سے پہلے آئیے ایک فرضی کہانی پر نظر ڈالتے ہیں ۔
زید ایک درمیانے طبقے کا شادی شدہ فرد ہے جو ایک دفتر میں سرکاری ملازم ہے۔ زید کے گھریلو حالات کچھ اس طرح ہیں کہ گھر کے معاملات کی کرتا دھرتا اس کی بیوی ہے اور اس کی ماں کو یہ بات پسند نہیں کہ زید کی بیوی معاملات پر حاوی رہے یعنی دوسرے معنوں میں زید کی ماں گھر اور اس سے متعلقہ فیصلوں کو اپنے اختیار میں رکھنا چاہتی ہے۔
زید جب ایک مصروف اور تھکا دینے والا دن گزار کر گھر آتا ہے تو بجائے ذہنی طور پر پرسکون ہونے کے، وہ کھنچاؤ بھرے گھریلو ماحول سے مزید ذہنی تھکاوٹ اور دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

ماں اسے بیوی کا غلام ہونے کا طعنہ دیتی ہے اور بیوی اسے ایک ناکام اور ناکارہ شوہر کے القابات سے نوازتی ہے جو اپنی بیوی کے حق میں آواز بلند کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ زید کو یہ صورتحال رفتہ رفتہ اس نہج پر پہنچا دیتی ہے کہ وہ خود کو ایک ناقابل اور ناکام ترین انسان تصور کرنے لگتا ہے جو گھر میں ایک فالتو شے کی سی بھی اہمیت نہیں رکھتا ۔ خود ترسی اور اپنی بے وقعتی پر کڑھنے کی وجہ سے اس کی دلچسپی بالآخر گھر بیوی بچوں دیگر متعلقین اور اپنی ملازمت سے ختم ہو جاتی ہے اور مسلسل دباؤ کا نتیجہ ایک دن اس کی چانک موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

اب اگر اس فرضی کہانی کے حقیقی پہلوؤں پر غور کیا جائے تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں ۔
1۔ زید کمزور قوت ارادی کا مالک تھا۔
2- زید کو اپنی شریک حیات کا جذباتی تعاون حاصل نہیں تھا
3۔ زید کی ماں کو اپنے بیٹے سے زیادہ حاکمیت برقرار رکھنے میں دلچسپی تھی
4۔ زید جذباتی تشدد کا شکار تھا۔

یہ بھی پڑھیے  http://ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔رفعت علوی/قسط1

مردوں پر کیے جانے والے ذہنی تشدد کی بہت سی اقسام اور صورتیں ہیں جن کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
1۔ بے موقع و بے بات بے عزت کرنا ، مرد کو اس بات کا احساس دلانا کہ وہ ناکام مرد ہے ۔ دوسرے مردوں کو بطور مثال پیش کر کے تقابلی جائزے لینا۔ ناشائستہ زبان اور نامناسب الفاظ استعمال کرنا۔
2۔ گھریلو اور ازدواجی سکون سے محروم کرنا، حقیر سمجھنا، فیصلوں پر اثر انداز ہونا، کلی اختیارات کا طالب ہونا، آپسی معاملات میں مرد کو اعتمادمیں نہ لینا۔
3۔ مرد کو ذہنی آزار دینے کے لیے  خود پر یا بچوں پر تشدد کرنا، خودکشی کی دھمکیاں یا کوشش کرنا، بعض صورتوں میں مرد پر جسمانی تشدد کرنا۔
4- علیحدگی کی صورت میں بچوں کی تحویل سے متعلقہ معاملات میں عدم تعاون کرنا۔ بعض صورتوں میں خواتین بچوں کو ان کے باپ سے ملنے بھی نہیں دیتیں ۔
5۔ مرد کو ناقابل اعتماد قرار دینا اور اس کی ناحق کردار کشی کرتے ہوئے خفیہ تعلقات کا الزام لگانا ۔
6۔ گھریلو ذمہ داریاں احسن طور پر انجام نہ دینا اور مالی نقصان پہنچانا
7۔ مرد کے متعلقین مثلا ماں باپ بہن بھائیوں کے بارے میں نازیبا کلمات کا استعمال کرنا اور ذلیل و حقیر سمجھنا ۔

یہ بات درست ہے کہ معاشرے میں خواتین پر ذہنی تشدد کا تناسب زیادہ ہے مگر مرد حضرات بھی اس کا شکار ہوتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مردانہ انا کی وجہ سے وہ اس سے متاثر بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔
ذہنی تشدد ایک بدترین فعل ہے جو ایک فرد کی ذہنی و جسمانی بربادی کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ایک فرد ایک معاشرے کا اہم جزو ہوتا ہے ۔لامحالہ یہ بربادی معاشرے کی بربادی کا باعث بھی بنتی ہے ۔ ذہنی تشدد چاہے عورت پر کیا جائے یا مرد پر دونوں صورتوں میں یہ قبیح ظلم اور قابل مذمت ہے۔

آئیے ایک دوسرے کو عزت اور احترام دینے کا اغاز کریں تا کہ ایک صحتمند اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے جہاں باہمی عزت اور مشترکہ اقدار کو اچھی طرح پھلنے پھولنے کا موقع مل سکے اور افراد معاشرے کے کارآمد پرزے کے طور پر سامنے آئیں!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *