قومی خزانہ محفوظ رہے بیویاں آنی جانی چیز ہیں!۔۔عمار کاظمی

SHOPPING

ہمارے ایک رشتے کے کزن ہوا کرتے تھے جنھیں ہم پیار سے لالہ جورا اور گاؤں والے پیر جُورے شاہ کہا کرتے تھے۔ انھیں جوانی میں پولیو کا اٹیک ہوا اور وہ معذور ہو گئے۔ بستر پر لیٹے لیٹے انھوں نے میرے خالہ زاد بھائی سے عملیات کی کتابیں لیں ،کچھ چلے کاٹے اور باقاعدہ پیری مریدی شروع کر دی۔ خاندان میں اس طرح سے چلوں والی باقاعدہ پیری مریدی کوئی کرتا نہیں تھا تو بزرگوں کی نیک نامی کیساتھ پیر صاحب دِنوں میں ہٹ ہو گئے۔ ضرورت مند مرد اور خواتین کا تانتا بندھ گیا۔ ہم عمر شریک جیلس ہونے لگے کہ پیر چلنے پھرنے سے گیا تو خواتین چل کر حاضری دینے لگیں۔ طرح طرح کی تہمتیں ،افواہیں اور سوال گردش کرنے لگے کہ پیر کے پاس فلاں فلاں خواتین باقاعدگی سے کیا کرنے جاتی ہیں؟ مشہور ہوا کہ جو ایک بار بابے کو حاضری دے آتی ہے وہ پھر بار بار جاتی ہے اور اسی کی ہو کر رہ جاتی ہے. معتقدین کے سوا سب کو شک گزرنے لگا۔ انہی دنوں میں کسی منچلے نے ایک دن یہ منادی کردی کہ ’’بیبیوں ،بھینوں تے بھراؤ،بُوہے باریاں بندکر لو پیر جُورے شاہ دیاں لتاں ٹھیک ہو گئیاں نیں‘‘۔

شہباز اور عمران دونوں اس وقت وزارت عظمی کے فیوریٹ امیدوار سمجھے جا رہے ہیں اور دونوں پر دوسروں کی بیویاں ہتھیانے کا الزام ہے۔ ’’باقی نتیجے کڈھن وچ تسیں آپ ماہر ہو‘‘۔آپ اس غیر سنجیدہ واقعہ سےجو بھی نتیجہ نکالیں مگر میرے لیے اس میں ایک اہم معاشرتی سوال چُھپا ہوا ہے۔ اور وہ یہ کہ ’’ معاشرے کے لئے یہ تاثر کیسا ہے کہ لیڈر جس کسی کی خوبصورت بیوی دیکھے گا اسے خلع یا طلاق دلوا کر نکاح رچا لے گا؟‘‘۔

مزید پڑھیں http://ایک مشہور سیاسی جماعت کے آفیشل لیٹر ہیڈ پر جاری ہونے والا مبینہ نوٹیفیکیشن
یہ سوال مذہبی یا بنیاد پرست طبقات کے لیے نہیں، یہ ان پڑھے لکھےطبقات کے لیے ہے جو کسی سماج کا حصہ رہتے ہوئے طبقاتی تقسیم کو اعتدال میں رکھنے کے لیے کچھ اخلاقیات وضع کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ مطلب عجب ریاست ہے ،پیسے والا قتل کر کے بری ہو جائے اور غریب مجرم پیسہ نہ ہونے کی بنیاد پر پھانسی کے پھندے پر جھول جائے، پیسے والی با اثر اشرافیہ اپنے نام،شہرت اور پیسے کی بنیاد پر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی خاطر جس کا چاہیں گھر اجاڑتے پھریں اورغریب کمزور ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ اس سب سے آخر آپ معاشرے کو پیغام کیا دے رہے ہیں؟ جس کی لاٹھی اس کی بھینس؟ اور ان دو انتہائی محترم ، با اثر اور متاثر کن شخصیات (شہباز شریف اور عمران) کی وجہ سے لوگوں میں قومی لیڈران پر کس نوعیت کا عدمِ اعتمادپیدا ہونے جا رہا ہے؟ مطلب جس کسی کی بیوی خوبصورت ہو منہ متھے لگتی ہو وہ انھیں اپنے گھر ہی نہ بلائے؟ جب یہ ان کے گھروں کی طرف آئیں تو لوگ واقعی دروازے کھڑکیاں بند کر لیں؟کوئی ماتحت افسر اپنی بیوی کو آپ کے سامنے نہ ہونے دے اور کوئی خاتون صحافی آپ کے انٹرویو کے لیے نہ جائے اور کوئی پیرنی آپ کے روحانی مسائل حل کرنے کے لیے آپ کا سامنا نہ کرے؟

بڑی آسانی سے پبلک فگرز کی نجی زندگی کا ایک غیر حقیقی بیانیہ پیش کر کے منافقوں کی طرح لوگوں کو خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سوچے سمجھے بنا کہ لیڈر معاشرے کے لیے مثال ہوتے ہیں۔وہ مالی اور نفسانی خواہشوں کی قربانیاں دے کر ہی معاشرے کے لیے اعلی مثالیں قائم کرتے ہیں۔ مگر یہاں بریک ہی نہیں لگ رہی۔ آپ لوگوں کو دوسری شادی تک ایک نارمل اور درست مارجن ملا کر چلیں پہلی ناکام ہوگئی تو اب کوئی حرج نہیں کہ آپ کے عمر رسیدہ لیڈر دوسری شادی رچا لیں۔مگر آپ نے تو حضورعادت ہی بنا لی۔ پینسٹھ ستاسٹھ برس کی عمر میں آپ نے کون سے کُشتے کھالیے اور ویاگرا کے کورس کر لیے جو آپ کو چین ہی نہیں آ رہا؟

کسی نے کہا کہ جی مطلقہ سے شادی کرنا سنت ہے۔ بھئی یہاں مطلقہ کون تھی؟ ایک پیرنی کو خلع دلوائی گئی اور دوسری( ڈی پی او کی بیوی )کو طلاق۔ اور چودہ سو سال پہلے کی معاشرت اور عظیم مذہبی ہستیوں سے ان کا موازنہ آپ کس بنیاد پر کر رہے ہیں؟مطلب بیٹنگ(شرطیں) لگانے کا اقرار آپ کے لیڈر پبلکلی کر رہے ہیں اور آپ ان کی(اللہ معاف کرے ) وکالت کے لیے مذہب سے مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں؟ اگر انھوں نے دوسری کے بعد تیسری شادی کے لیے کسی غریب یا متوسط گھرانے کی کسی غریب، یتیم اور بیوہ خاتون کا انتخاب کیا ہوتا توبھی ہم اس سے کوئی قابل دفاع فلاح کا مثبت پہلو نکال لیتے، مگر یہاں تو جوان بچوں کی صاحبِ حیثیت رئیس ماں کو خلع دلوایا جا رہا ہے، معیار وہی خوبصورتی اور حیثیت ہے۔ہمارے سامنے تین مثالیں ہیں اور کسی ایک میں بھی کوئی خاتون پہلے سے طلاق یافتہ یا بیوہ نہ تھی۔ اوپر سے جنگ گروپ جیسا تجربہ کار میڈیا گھٹیا پنے کی ہر حد پار کر کے اس پر عمران کی سابقہ بیویوں کی تصویروں کیساتھ گھٹیا گانے چلا رہا ہے۔ جوان بیٹا اپنی ماں کی شادی کی میڈیا پر تردید کر رہا ہے۔ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے، کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کسی کو پرواہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں http://پیر تسمہ پا اور شہر نا پُرسان کی پرجا۔عامر کاکازئی

خواتین کے حوالے سے یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یقیناً ہر عورت عمران یا شہباز شریف میں انٹرسٹد یا ان کے پیسے سے متاثر نہیں ہوگی مگر اکثر مرد انھیں گھر بلاتے ہوئے ضرور جھجکیں گے۔ عمران کے مخالفین کے لیے یہ گھٹیا قسم کی ٹھٹھہ بازی کا ایک نادر موقع ہے اور سٹیریو ٹائپ روشن خیال تھنکرز اور حمایتی اس سنجیدہ معاشرتی مسلہ کو محض بنیاد پرسستی اور تنگ نظری کا نام دیکر نظرانداز کر رہے ہیں۔

کچھ دوست کہتے ہیں کہ یہ نان ایشو ہے اور میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اعلی اخلاقی اقدار کے حوالے دینے والے روشن خیالوں اور بات بات پر غیرت دکھانے والے مذہبی اور بنیاد پرست لوگوں کے لیے یہ ’’بریچ آف ٹرسٹ ‘‘نان ایشو کیسے ہے؟ کیا ہمیں اس سماج کی کوئی پرواہ نہیں جو اس سب کو مشعل راہ جان کر ان کی تقلید کرے گا اور ہر طاقتور اپنے سے کمزور کیساتھ یہی رویہ روا رکھنے کی کوشش کرے گا؟ شاید ایسی ہی کچھ وجوہات ہوتی ہوں گی جو لوگ بیویوں کو جالی والا برقعہ پہنانے یا پھر تالے لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو لوگو۔ کیا ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈالنا ہی کرپشن کی اکلوتی تعریف ہے؟ کسی کی نجی زندگی پر ڈاکہ ڈالنا درست ہے؟

کل تک زرداری پر ایان علی اور بلاول پر حنا ربانی کھر کے جھوٹے سکینڈلز ابھارنے کی کوشش وہی لوگ کرتے رہے جو آج اپنی قیادتوں کے ثابت شدہ سکینڈلز پر خاموش ہیں۔،کیا منافق لوگ ہیں۔ زرداری پر گیارہ سال جیل کاٹنے اور عدالتوں میں کچھ ثابت نہ ہونے کے باوجود کرپشن کے داغ نہ دھلے۔ بڑے میاں صاحب اقامہ پر نکلے اور کرپشن میں مشکوک پائے جانے کی وجہ سے احتساب عدالتوں تک پہنچے۔چھوٹے میاں صاحب کو حدیبیہ ریفرنس نہ کھلنے کی وجہ سے مارجن ملا ، عمران عدالت سے مالی کرپشن پر صاف ستھرا نکلا ۔ مگر یہ اسٹیبلش ہوتے ہوئے ثابت شدہ الزامات (جن کی تصدیق خود تحریک انصاف نے وضاحت جاری کر کے کر دی)جو چھوٹے میاں صاحب اور عمران خان پر لگے ہیں انھیں آپ کیا کہیے گا؟پیغام کیا مل رہا ہے؟ ’’بھاویں کسے دی بیوی نو طلاق ،خلع دلواکے نس جائے پر قومی خزانہ محفوظ رہے‘‘۔

SHOPPING

آخری بات یہی کہنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کے مالی طور پر صاف ہونے اور میاں شہباز شریف کی ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ، دونوں کا دل میں انتہائی احترام ہے مگر انھیں بھی اب اپنے ناڑوں پر تھوڑا کنٹرول کرنا ہوگا۔ ایک صحت مند اور اخلاقی طور پر قابل احترام و بھروسہ مندمعاشرے کے قیام کےلیے ہمیں صرف جنگلہ بس، اورینج ٹرین،اوورہیڈ اور انڈر پاسسز بنانے والی یا پھر محض مالی کرپشن سے پاک قیادتوں کی ضرورت نہیں، اس سب کے ساتھ لوگوں کو عزت اور تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔

SHOPPING

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”قومی خزانہ محفوظ رہے بیویاں آنی جانی چیز ہیں!۔۔عمار کاظمی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *